نئے صوبوں کے قیام پر سیاسی اتفاقِ رائے، عوام نے مہنگائی سے توجہ ہٹانے کا شوشہ قرار دے دیا

گڈ گورننس اور پاکستان کو تیزی سےترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کےلیے نئے صوبوں کا قیام ضروری قرار دیا جانے لگا


طالب فریدی September 04, 2026

عوام کے منتخب نمائندوں، پاکستان تحریک انصاف اور ن لیگ کے اراکین پنجاب اسمبلی نے نئے صوبے بنانے کے حق میں مؤقف اختیار کیا ہے، جبکہ ان اراکین کو منتخب کرنے والی عوام کی اکثریت نے اسے بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری سمیت دیگر مسائل سے توجہ ہٹانے کا نیا شوشہ قرار دے دیا۔

ملک بھر میں گڈ گورننس اور پاکستان کو تیزی سے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لیے نئے صوبوں کا قیام ضروری قرار دیا جانے لگا ہے، قومی اسمبلی، سینیٹ سمیت مختلف صوبائی اسمبلیوں میں اس کے حق اور خلاف شدت آتی جارہی ہے جبکہ عوامی ردعمل بھی سامنے آرہا ہے۔

ایکسپریس نیوز سے گفتگو میں ن لیگ کی رکن اسمبلی رشدہ لودھی نے کہا کہ ابھی چیزیں چل رہی ہیں، ڈسکشن ہورہی ہے، ہر وہ چیز جو پاکستان کی سالمیت، استحکام اور سلامتی کے لیے بہتر ہو، ہمیں وہ کام کرنا چاہیے۔

نادیہ کھر نے کہا کہ وہ نئے صوبے بنانے کے حق میں ہیں اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتی ہیں، جو پنجاب کی 33 فیصد آبادی رکھتا ہے لیکن اسے 15 فیصد بھی فنڈز نہیں ملتے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کو بھی ترقی کرنی چاہیے اور ان سب کے لیے نیا صوبہ ہونا چاہیے تاکہ سب ترقی کرسکیں۔

ن لیگ کی سینئر رکن اسمبلی زکیہ شاہ نواز نے کہا کہ سارے لیڈر بیٹھیں اور فیصلہ کریں، پاکستان کی بہتری جس میں ہو وہ فیصلہ کرنا چاہیے۔

ن لیگ کے رکن اسمبلی اعجاز عالم آگسٹین نے کہا کہ پنجاب 130 ملین کا صوبہ ہے، دنیا میں اتنے بڑے ملک نہیں، نیوزی لینڈ میں صرف 22 ملین کی آبادی ہے۔ چھوٹے یونٹس ہوں گے تو اتنی بہترین گورننس ہوگی، اس لیے نئے صوبے بننے چاہئیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی وقاص مان نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹو یونٹس بننے چاہئیں کیونکہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 142 کہتا ہے کہ ڈیولوشن آف پاورز تو مرکز سے صوبوں میں منتقل ہوگئیں لیکن صوبوں میں بلدیاتی نظام مؤثر نہیں۔ موجودہ بلدیاتی ایکٹ میں بلدیاتی نظام کو وہ پاور حاصل نہیں جو ہونی چاہیے، اس لیے ضروری ہے کہ نئے یونٹس مکمل پاور کے تحت وجود میں آئیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی کرنل ریٹائرڈ شعیب امیر نے کہا کہ صوبوں کی ضرورت ہے، پورے ملک کے اندر، خاص طور پر پنجاب کے اندر تو بہت ہی ضرورت ہے۔ ایک تخت لاہور راجن پور، رحیم یار خان اور اٹک کے لوگوں کے مسائل حل نہیں کرسکتا۔ پنجاب کے تین سے چار صوبے ہونے چاہئیں اور یہ عوام کو گڈ گورننس دینے کے لیے بہت ضروری ہے۔

شعیب امیر نے کہا کہ نئے صوبے تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے بننے چاہئیں، اوپر سے تھوپے نہیں جانے چاہئیں۔ اس پر بحث ہونی چاہیے اور جتنی بھی صوبائی اسمبلیاں ہیں ان میں ڈسکشن کرائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اسمبلیاں بھی راضی ہوجائیں گی، بس لیڈران راضی نہیں ہوں گے کیونکہ ان کے تخت کا سائز کم ہوجائے گا۔

امتیاز شیخ نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کا اختیار عوام کے مینڈیٹ سے آئی ہوئی حکومت کے پاس ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہے کہ جس کے پاس عوام کا مینڈیٹ ہی نہیں وہ نئے صوبے بنائے۔ جنہوں نے اپنے منشور میں نہیں لکھا وہ اس پر کام نہیں کرسکتے، ہم نے تو اپنے منشور میں لکھا ہے۔

علی حیدر نیازی نے کہا کہ اگر نئے صوبہ بنانے کی ضرورت ہے تو اس کو ضرور دیکھنا چاہیے مگر لسانیت، زبان یا کسی قوم کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے بلکہ عوام کی رائے سمیت سب کے اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے۔

دوسری طرف عوام نے کہا کہ اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے شوشہ چھوڑا گیا ہے، اگر انہی حکمرانوں نے بنانے ہیں تو پھر ضرورت نہیں۔ نئے صوبوں کے قیام سے مہنگائی کم ہوگی، روزگار ملے گا نہیں بلکہ حکمرانوں کی اپنی عیاشیاں بڑھیں گی۔

کچھ شہریوں نے کہا کہ احتساب اور گڈ گورننس کے لیے نئے صوبوں کا قیام ضروری ہے، مگر ان کے لیے منتخب حکومت چاہیے جو مل بیٹھ کر فیصلہ کرے۔ عوام کے بڑھتے ہوئے مسائل کا حل نئے یونٹس بنانے سے ہوگا، انفراسٹرکچر بہتر ہوگا، صحت، تعلیم اور بے روزگاری جیسے مسائل حل ہوں گے۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ چھوٹے قصبوں اور شہروں میں رہنے والوں کو لاہور، کراچی آنا نہیں پڑے گا بلکہ احتساب بھی ممکن ہوگا، کوئی کسی کے پیچھے چھپ نہیں سکے گا۔ ہر صوبے کا اپنا بجٹ اور اپنے وسائل ہوں گے تو باز پرس میں بھی آسانی ہوگی۔

تاہم اکثریت کی رائے تھی کہ یہ سیاسی شعبدہ بازی ہے، مہنگی بجلی، گیس اور پٹرول سستا نہیں ہوگا، ساری توجہ اس لوٹ مار سے ہٹانے کے لیے ہے۔

امجد اقبال، افتخار عارف اور بلال اصغر نے کہا کہ ستر برسوں سے یہی حکمران ٹولہ مسلط ہے، اگر انہوں نے ہی نئے صوبے بنانے ہیں تو پھر ضرورت نہیں کیونکہ عوام کو مشکلات میں انہی حکمرانوں نے ڈالا ہے۔ دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہے، بچوں کو پڑھا نہیں سکتے، صحت کا برا حال ہے۔

شاید امتیاز اور ایمان نے کہا کہ نئے صوبے بننے چاہئیں مگر چیک اینڈ بیلنس بھی ہو، خود مختاری بھی ملے تاکہ ہمیں بھی حکمرانوں جیسی سفری، تعلیمی اور معاشی سہولیات مل سکیں۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب عوام کی بھلائی کو سامنے رکھ کر بنایا جائے اور عوام کو بھی اتنے اختیارات ہوں کہ وہ منتخب نمائندوں سے سوال کرسکیں اور سب یکساں ترقی کرسکیں۔

عوام نے کہا کہ جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں وہاں گراس روٹ لیول پر اختیارات دیے گئے ہیں مگر یہاں جس کو اختیار مل جائے وہ چھوڑنے پر راضی نہیں۔ عوام کی اتنی ہی فکر ہے تو سب سے پہلے مہنگائی کو کنٹرول کریں، عوام کو اعتماد میں لیں، ستر برسوں سے عوام کو بے وقوف ہی بنایا جارہا ہے۔