بالی ووڈ کے دہرے معیار نے کئی باصلاحیت فنکاروں کا کیریئر داؤ پر لگ گیا اور آسمانِ فن کے کئی ستارے زمین بوس ہوگئے۔
اداکارہ تاپسی پنوں تیزی سے ابھرتی ہوئی اداکارہ ہیں جنھوں نے ہر کردار میں ڈھل کر اپنی صلاحیتوں کو منوایا ہے لیکن وہ بھی بالی ووڈ کے دہرے معیار کا شکار ہوئی ہیں۔
اپنی نئی فلم گندھاری کی تشہیری مہم کے دوران گفتگو کرتے ہوئے تاپسی پنوں نے خواتین اداکاراؤں کی فلموں کے لیے موجود دہرے معیار پر کھل کر بات کی۔
تاپسی پنوں نے کہا کہ جب کسی خاتون اداکارہ کو ایک بڑے بجٹ کی ایکشن فلم میں مرکزی کردار دیا جاتا ہے اور فلم توقع کے مطابق کامیاب نہیں ہوتی تو فوراً یہ سوال اٹھنے لگتا ہے کہ ’اس پر اتنا پیسہ کیوں لگایا گیا؟‘
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہی سرمایہ کسی مرد اداکار کی بڑی فلم پر لگایا جائے اور اس کی کہانی غیر معمولی نہ بھی ہو تو کیا اسے بھی اسی پیمانے پر پرکھا جاتا ہے؟
خواتین سے ’21‘ کی توقع کیوں؟
تاپسی پنوں نے کہا کہ مردوں کی مرکزی فلم کے لیے اگر کہانی 19 یا 20 کے معیار کی ہو تو بھی اسے قابل قبول سمجھ لیا جاتا ہے لیکن خواتین کی قیادت میں بننے والی فلم سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ 19 یا 20 نہیں بلکہ 21 ثابت ہو۔
ان کے بقول خواتین اداکاراؤں کی فلموں پر سرمایہ لگانے والوں کا رویہ کچھ ایسا بن گیا ہے کہ فلم کو ہر صورت غیر معمولی کامیابی حاصل کرنا چاہیے ورنہ مستقبل میں اسی نوعیت کے منصوبوں کے لیے رقم حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
’الفا‘ کے بعد میرے ساتھ بھی یہی ہوا
جب تاپسی پنوں سے پوچھا گیا کہ کیا عالیہ بھٹ کی الفا کی ناکامی کے بعد انہیں بھی اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے واضح جواب دیا۔ ہاں، ہر سال ایسا ہوتا ہے۔
تاپسی پنوں نے بتایا کہ کسی بڑی اداکارہ کی فلم ناکام ہونے کے بعد سرمایہ کاروں سے ہونے والی گفتگو کا انداز بدل جاتا ہے۔
ان کے بقول انھیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ اگر ایک بڑی سپر اسٹار کی فلم بھی کامیاب نہیں ہوئی تو باقی خواتین اداکاراؤں کی فلموں کا کیا بنے گا؟
اداکارہ نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں سرمایہ کار بعض اوقات خواتین کے مرکزی کردار والی فلمیں بنانے سے ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور کئی منصوبے شروع ہونے سے پہلے ہی ختم یا ملتوی ہوجاتے ہیں۔
ایک فلم کی کامیابی، کئی اداکاراؤں کے لیے نئی امید
تاپسی نے تاہم اس صورتحال کا دوسرا رخ بھی بیان کیا۔ ان کے بقول جب کسی خاتون اداکارہ کی مرکزی کردار والی فلم کامیاب ہوتی ہے تو اچانک فلم سازوں اور سرمایہ کاروں کے فون آنا شروع ہوجاتے ہیں۔
انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر خواتین کی مرکزی کردار والی کوئی ہارر فلم کامیاب ہوجائے تو فوراً یہ سوچ سامنے آجاتی ہے کہ ’خاتون کے ساتھ ہارر فلم چل سکتی ہے‘ اور اسی نوعیت کے مزید منصوبوں پر کام شروع کردیا جاتا ہے۔
یعنی ایک طرف کسی ایک فلم کی ناکامی پورے رجحان کو متاثر کرسکتی ہے تو دوسری طرف ایک کامیاب فلم کئی نئی اداکاراؤں اور منصوبوں کے لیے دروازے کھول دیتی ہے۔
تاپسی کی نئی فلم ’گندھاری‘
اس فلم میں وہ ایکشن کردار میں نظر آئیں گی اور اسی دوران ان کے یہ تبصرے بالی ووڈ میں خواتین کی مرکزی کردار والی فلموں کے مستقبل اور انہیں ملنے والے مواقع پر نئی بحث چھیڑ رہے ہیں۔
تاپسی پنوں کا مؤقف واضح ہے کہ خواتین کی فلم کی ناکامی کو صرف ایک فلم کی ناکامی سمجھنے کے بجائے پورے صنفی رجحان کے خلاف فیصلہ بنا دینا مناسب نہیں۔