جلدبازی کی لکیر

برصغیر پر انگریزوں کی حکومت تقریباً دو سو سال تک قائم رہی


شاہدہ خان September 06, 2026

کہتے ہیں جلدی کا کام شیطان کا۔ یہ بات کچھ ایسی غلط بھی نہیں ہے۔ جلد بازی میں جو بھی کام کیا جائے، اس کا نتیجہ زیادہ تر خراب ہی نکلتا ہے۔ تمناؤں اور چاہتوں کی فوری تکمیل انسان کی فطری آرزو ہے ، جس کے لیے انسان جلد بازی کا مظاہرہ کرتا ہے اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ یہی جلدبازی انسان کے خلاف شیطان کا ہتھیار بن جاتی ہے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اکثر جلد بازی کے نتائج نقصان اور پشیمانی کی صورت میں نکلتے ہیں۔ جلد بازی میں کسی بھی کام کا کامل صورت میں پایہ تکمیل تک پہنچنا ممکن نہیں توپھر ملکوں کی تقسیم جلد بازی میں کہاں غلطیوں سے پاک اورانصاف پر مبنی ہوسکتی ہے۔

برصغیر پر انگریزوں کی حکومت تقریباً دو سو سال تک قائم رہی، پہلے سو سال تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے راج کیا اور جنگ آزادی کے بعد یہ خطہ براہ راست ملکہ برطانیہ کے قبضے میں آ گیا۔

انگریزوں نے اس خطے کو بڑی بے دردی سے لوٹا، ایسا لگتا تھا کہ گوروں کی یہ لوٹ مار کبھی ختم نہیں ہوگی، لیکن جنگ عظیم اول اور دوم نے تاج برطانیہ کے اقتصادی غبارے سے ہوا نکال دی، برطانیہ کے لیے دنیا بھر میں پھیلی اپنی کالونیوں کو چلانے میں مشکلات کا سامنا ہوا۔

دوسری جانب لیگ آف نیشنز نے بھی قوموں کی آزادی کو اپنے منشور کا حصہ بنایا۔ برطانیہ کے لیے برصغیر جیسے بڑے خطے کو سنبھالنا بہت مشکل ہو چکا تھا ،اس لیے برٹش راج نے اس خطے کو آزاد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ استعمار کا اصول ہے کہ ’’لڑا ئو اور حکومت کرو‘‘ اس پالیسی کے تحت گوروں نے برصغیرمیں مذہب اور زبان کے نام پر لوگوں کو پہلے ہی تقسیم کر رکھا تھا ۔

گورے کے جانے کے بعد خطے پر ہندو نواز کانگریس کی حکومت بننے کا بھی خدشہ تھا جس نے مسلمانوں کو اپنے حقوق کے حوالے سے تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ ایسے میں برصغیر کے مسلمانوں نے علیحدہ ملک کا مطالبہ کیا جس پر تاج برطانیہ نے رضامندی ظاہر کر دی۔

اس مرحلے پر برطانوی راج کو برصغیر کو تقسیم کرنے کی اتنی جلدی تھی کہ اس نے تقسیم کے معاملے میں پاکستان کو ملنے والے علاقوں کے حوالے سے مسلمانوں کے خدشات کو رد کر دیا، ان کے حقوق کو پامال کیا، کئی علاقوں میں ان کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا اور یہ سب کچھ بہت جلدبازی میں کیا گیا۔

برصغیر کی تقسیم کا جاری کردہ شیڈول جون 1947 تھا لیکن ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اس تاریخ کو تبدیل کرتے ہوئے، 15اگست 1947کی تاریخ مقرر کردی۔

سوال یہ ہے کہ انگریزوں نے کیوں طے کیا کہ سب کچھ جلدبازی میں کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ تقسیم کی لکیر کھینچنے کے لیے برطانیہ میں جس وکیل سر سِرل ریڈکلف کو منتخب کیا گیا وہ اس سے پہلے کبھی ہندوستان نہیں آیا تھا ،نہ اس کو ہندوستان کی سیاسی ،سماجی یا مذہبی مسائل اور مشکلات کا علم تھا اور نہ ہی ان سے کوئی دلچسپی تھی۔

ایک اور جلد بازی یہ کی گئی کہ سر ریڈ کلف کو وسیع و عریض برصغیرکا بٹوارہ کرنے کے لیے صرف سات ہفتے دیے گئے، یہاں توکسی کی معمولی جائیداد کی تقسیم میں کئی کئی سال لگ جاتے ہیں۔ سر ریڈ کلف کی جانبداری اور مسلمانوں سے بغض پہلے دن سے صاف ظاہر تھا۔

ریڈکلف کو وائسرائے ہند اور اس کے دفتری عملے سے رابطہ رکھنے سے منع کیا گیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ جب تک ہندوستان میں رہا ،وائسرائے ہاؤس سے مسلسل رابطے میں رہا۔ رازداری کے دعوے کے باوجود ریڈ کلف نے کچھ فیصلے کانگریس کے کہنے پر بھی بدلے۔

اپنی ابتدائی رپورٹس میں سر ریڈ کلف نے پنجاب کے اضلاع فیروزپور اور گورداس پور پاکستان میں شامل دکھائے تھے۔ ان دونوں ہی اضلاع میں مسلمانوں کی آبادی ہندوئوں اور سکھوںکے مقابلے میں زیادہ تھی۔

یہ رپورٹیں دیکھ کرکانگریس کے لیڈر پریشان ہو گئے۔ پنجاب کے یہ دونوں اضلاع پاکستان کے مستقبل کے لیے بہت زیادہ اہم تھے۔ ضلع فیروزپور میں واقع فیروز پور ہیڈورکس سے نکلنے والی نہریں پنجاب اور راجھستان کے وسیع رقبے کو سیراب کرتی تھیں۔ یہ ہیڈورکس پاکستان کے قبضے میں چلا جاتا تو ایمرجنسی صورت حال میں بھارتی علاقوں کا پانی روک کر نئی دہلی کو مشکل میں ڈالا جا سکتا تھا۔

اسی ضلع کی تحصیل پٹھان کوٹ سے کشمیر کو راستہ جاتا تھا، جو بھارت کو کشمیر سے براہ راست ملانے والا واحد راستہ ہے۔ یہ ضلع پاکستان کو مل جاتا تو ریاست جموںوکشمیر بھی پاکستان میں ضم ہو جاتی، کیونکہ اس کا بھارت کے ساتھ کوئی زمینی راستہ نہ رہتا۔

پاکستان کے حق میں یہ صورتحال دیکھ کر نہرو نے ماؤنٹ بیٹن کی بیوی کے ذریعے وائسرائے ہند پر زبردست دباؤ ڈالا کہ وہ ریڈکلف کو فیروز پور اور گورداس پور ، بھارت کو دینے پر مجبور کرے اور ریڈ کلف یہ دبائو برداشت نہ کر سکا اور یہ دونوں اضلاع بھارت میں شامل کردیے۔

باونڈری کمیشن میں کی گئی یہ ہیر پھیر صرف الزام نہیں حقیقت ہے، ورنہ ایسی کیا جلدی تھی کہ انگلستان واپس جاتے ہی ریڈکلف نے اپنے سارے کاغذات ضایع کردیے۔ ایسا کیوں ہوا؟ کہا گیا کہ اس کا طریقہ یہی تھا کہ جن کاغذوں کی ضرورت نہ ہوتی تھی ،وہ کام ختم ہوجانے کے بعد انھیں ضایع کردیتا تھا، لیکن تقسیم کے وہ کاغذات جو ریڈکلف نے ضایع کیے وہ اس کے ذاتی نہ تھے بلکہ دونوں نئی حکومتوں بھارت اور پاکستان کی مشترکہ ملکیت تھے۔

ریڈکلف کے واپس جاتے وقت وہ کاغذات اس سے واپس کیوں نہیں لے لیے گئے؟ اس سے شک پیدا ہوتا تھا کہ تقسیم کے کچھ فیصلے دیانت داری اور انصاف پر مبنی نہیں تھے۔ جہاں جلدی کرنی تھی وہاں ماؤنٹ بیٹن نے جان بوجھ کر دیر کی، ماؤنٹ بیٹن نے ریڈ کلف کے فیصلے پندرہ اگست1947کے بعد کیوں شائع کیے اور کیوں اس نے انھیں مہینوں دبائے رکھااور عوام کی بڑی تعداد کو اپنی تقدیر کے بارے میں شک میں مبتلا رکھا؟

جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تقسیم کے بعد ہونے والے پُر تشدد واقعات میں لاکھوں بے گناہ افراد مارے گئے، کم وبیش ایک کروڑ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی، تقسیم ہند کے وقت ہونے والی ہجرت کو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت قرار دیا جاتا ہے۔ تقسیم کے پہلے ہی کشت و خون بڑے پیمانے پر شروع ہو گیا تھا لیکن وائسرائے لارڈ ماونٹ بیٹن نے اس کے تدارک کے لیے کوئی موثر کارروائی نہیں کی۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ سر ریڈ کلف نے کس دباؤ کے تحت،اتنے کم وقت میں اور ناقص معلومات کے ساتھ سرحد کی تقسیم جیسی اہم اور حساس ذمے داری کیوں قبول کی، جب کہ اسے اس کام کا کوئی تجربہ بھی نہیں تھا۔ جلد بازی ہمیشہ افسوس اور ندامت پر ختم ہوتی ہے ۔اسی لیے جب ریڈکلف نے اپنی تقسیم کا نتیجہ ایک ایسے انسانی المیے کی صورت میں دیکھا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی تو اس نے اپنے کام کی فیس جواس وقت کے چالیس ہزار روپے تھی، سرکار برطانیہ کو واپس کردی۔