ٹیکنالوجی اور انفارمیشن کے اس دور میں جنگ جیتنے کے لیے صرف توپ، ٹینک اور میزائل ہی کافی نہیں بلکہ ایک موبائل فون کی اسکرین بعض اوقات سامان حرب کے اہم ترین اسلحے سے بھی زیادہ موثر ہو سکتی ہے۔
یہ اکیسویں صدی کی جنگ ہے۔ ایک جعلی تصویر اور چند سو الفاظ ایک پوری قوم کے اعصاب ہلا دینے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ وہ جنگ جس میں سرحدوں پر فوجیں ضرور لڑتی ہیں مگر اصل معرکہ کہیں اور برپا ہوتا ہے۔ یہ معرکہ، کمپیوٹرز، لیپ ٹاپس، سیولرفونز ٹیلی ویژن اسکرینوں پر لڑی جا رہی ہے۔
پہلے جنگ جیتنے کے لیے دشمن کے مورچے فتح کرنا پڑتے تھے۔ اب دشمن کے ذہن، اعتماد اور اجتماعی شعور کو شکست دینا جنگ کی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ یہی Information Warfare ہے اور شاید اس جنگ کی سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ اس میں ہمیں اکثر معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہم جنگ کا حصہ بن چکے ہیں۔
ایک کلک جنگ کا رخ بدل سکتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ کسی جنگ کے دوران اچانک سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوتی ہے۔ ویڈیو میں کسی ملک کا سربراہ بظاہر شکست تسلیم کرتے ہوئے نظر آتا ہے، لاکھوں لوگ اسے دیکھتے ہیں، یہ لاکھوں لوگ اسے شیئر کرتے ہیں۔
یوں ویڈیو دیکھنے والوں کی تعداد کروڑوں تک پہنچ جاتی ہے، بھانت بھانت کے یوٹوبرز، وی لاگرز،سوشل میڈیاٹولز کے کھلاڑی اور ٹی وی اینکرز بغیر سوچے سمجھے منفی تبصروں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیتے ہیں، پھر چند گھنٹوں میں پورے ملک میں بے یقینی، انتشار، افراتفری پھیل جاتی ہے۔
بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ ویڈیو جعلی تھی۔ تبصرہ نگار جعلی یا پیڈ تھے یا پھر ویوز کے بھوکے تھے مگر تب تک نقصان ناقابل تلافی ہو چکا ہوتا ہے۔ جدید دنیا میں Information کا لفظی مطلب تو وہی ہے جو ڈکشنری میں لکھا ہے یعنی معلومات لیکن سوشل میڈیا کی زبان میں اسے من چاہی یا خود ساختہ معلومات یا پراپگینڈا کہا جاتا ہے، طاقتوروں کے لیے یہ طاقت ہے، جدید ہتھیار ہے اور بعض حالات میں سیاسی یا اسلحہ کی جنگ کا فیصلہ کن میدان بھی۔
2003کی عراق امریکا جنگ سے لے کر غزہ میں اسرائیلی مظالم اور حالیہ امریکا، ایران جنگ تک میں نے ایک صحافی کی حیثیت سے میڈیا کے اثرات کا غور جائزہ لیا ہے۔ میں نے قریب سے دیکھا ہے کہ بغداد پر بمباری ہو رہی تھی، سڑکوں پر ٹینک تھے، آسمان پر جنگی طیارے تھے، مگر دوسری طرف ایک اور جنگ بھی جاری تھی اور وہ میڈیا کی جنگ تھی۔
دنیا عراق کو مختلف ٹیلی ویژن اسکرینوں کے ذریعے دیکھ رہی تھی۔ امریکا عراق جنگ کے ایام میں دنیا کا میڈیا طاقتور تھا مگر محدود تھا۔ آج صورتحال کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ اب ایک عام شہری اپنے موبائل فون سے ویڈیو بنا کر چند لمحوں میں اسے دنیا بھر تک پہنچا سکتا ہے۔
ایک یوٹیوبر لاکھوں لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایک ٹک ٹاک ویڈیو کسی عالمی خبر سے زیادہ تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ ایک ایکس پوسٹ سیاسی ماحول کو بدل سکتی ہے۔ انفرمیشن کی طاقت اب اداروں سے نکل کر افراد کے ہاتھوں میں بھی آ چکی ہے۔ یہ جمہوری انقلاب بھی ہے اور ایک بڑا خطرہ بھی۔ سب سے بڑا مسئلہ ’’جھوٹی خبر‘‘ نہیں بلکہ سچ اور جھوٹ کے درمیان پیدا ہونے والی دھند ہے۔
ایک پرانی ویڈیو کو نئی جنگ کی ویڈیو بنا کر پیش کیا جا سکتا ہے۔ کسی دوسرے ملک کی تصویر کو پاکستان یا ایران یا غزہ سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ ایک حقیقی تصویر میں مصنوعی تبدیلی کر کے اسے نئے واقعے کا ثبوت بنایا جا سکتا ہے اور اب اے آئی نے اس مسئلے کو کئی گنا زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ٹیکنالوجی کسی بھی شخص کا چہرہ کسی دوسرے شخص کے جسم پر لگا سکتی ہے۔ مصنوعی آواز کسی معروف شخصیت کے لہجے میں وہ الفاظ ادا کر سکتی ہے جو اس نے کبھی کہے ہی نہیں۔ آنے والے دنوں میں شاید سب سے مشکل سوال یہ نہیں ہوگا کہ: ’’خبر کیا ہے؟‘‘بلکہ یہ ہوگا: ’’کیا یہ خبر واقعی درست ہے؟‘‘ (جاری ہے)