پاکستان میں 6 ستمبر یومِ دفاع کے طور پر منایا جاتا ہے، جب کہ 7 ستمبر کو یومِ فضائیہ منایا جاتا ہے۔ یہ دونوں دن ہماری قومی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ 1965 کی جنگ میں پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے ملک کی فوجی طاقت کا مقابلہ کیا اور اپنی آزادی، خودمختاری اور سرحدوں کے دفاع کے لیے بے مثال عزم کا مظاہرہ کیا۔
6 ستمبر 1965 کو بھارت نے بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے لاہور کے محاذ سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں پر حملہ کیا۔ پاکستانی افواج نے اس اچانک حملے کا بھرپور مقابلہ کیا اور دشمن کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ لاہور، سیالکوٹ اور دیگر محاذوں پر پاکستانی فوج نے غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔
اور پھر پاک فضائیہ میدان میں اتری،1965 کی جنگ میں سب سے اہم کردار پاکستان ایئر فورس نے ادا کیا۔ بھارتی فضائیہ تعداد اور مجموعی وسائل کے اعتبار سے پاکستان سے کہیں بڑی تھی، لیکن پاک فضائیہ کے تربیت یافتہ پائلٹوں، بہتر آپریشنل تیاری، موثر ریڈار و کنٹرول نظام اور جنگی حکمت عملی نے اس عددی برتری کو بے اثر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
بھارتی فضائیہ نے پاکستانی ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو پاک فضائیہ نے فوری جوابی کارروائی کی۔ پاکستانی جنگی طیاروں نے نہ صرف اپنے فضائی اڈوں کا دفاع کیا بلکہ دشمن کے ہوائی اڈوں اور زمینی اہداف پر بھی حملے کیے۔
6 ستمبر کو پٹھان کوٹ ایئر بیس پر پاک فضائیہ کا حملہ جنگ کے نمایاں فضائی آپریشنز میں شمار ہوتا ہے۔ اس کارروائی میں بھارتی طیاروں کو زمین پر بھی نقصان پہنچایا گیا۔ دوسری جانب 7 ستمبر کو سرگودھا پر بھارتی فضائی حملوں کا مقابلہ کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے پائلٹوں نے دشمن کے کئی طیارے مار گرائے۔
اس موقع پر اسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم کا تاریخی کارنامہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔1965 کی جنگ کا ذکر اسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ 6 ستمبر کو انھوں نے ایک فضائی معرکے میں دو بھارتی ہنٹر طیارے مار گرائے اور مزید تین کو نقصان پہنچایا۔
اگلے روز سرگودھا کے دفاع کے دوران انھوں نے پانچ بھارتی ہنٹر طیارے مار گرائے۔اسی طرح اسکواڈرن لیڈر سرفراز احمد رفیقی نے 6 ستمبر کو ہلوارہ کے خلاف کارروائی میں غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے طیاروں کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
ان کی قیادت اور قربانی پاک فضائیہ کی تاریخ کا روشن باب ہے۔ 1965 کی جنگ میں یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ پاک فضائیہ نے اپنی کم تعداد کے باوجود بھارتی فضائیہ کو سخت مزاحمت دی اور متعدد اہم فضائی معرکوں میں برتری حاصل کی۔
پاک فضائیہ کی اصل کامیابی کیا تھی؟1965 میں بھارت کے پاس پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ جنگی طیارے تھے۔ بھارتی فضائیہ کے پاس تقریباً 460 جنگی طیارے جب کہ پاکستان کے پاس تقریباً 186 جنگی طیارے تھے۔ اس کے باوجود بھارتی فضائیہ پاکستان کی فضائی قوت کو ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔
بھارتی سرکاری تاریخی ریکارڈ بھی تسلیم کرتا ہے کہ دونوں فضائی افواج نے سخت مقابلہ کیا،یہی پاک فضائیہ کی اصل کامیابی تھی کہ اس نے تعداد کے بجائے تربیت، پیشہ ورانہ مہارت، جرات، قیادت اور جنگی حکمت عملی کو اپنی طاقت بنایا۔
1965 سے 2025 تک ایک شاندار سفر پر بات کریں توپاک فضائیہ کی کارکردگی صرف 1965 تک محدود نہیں رہی۔ وقت کے ساتھ پاکستان نے اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں، جدید جنگی طیاروں، میزائل ٹیکنالوجی، ریڈار، نگرانی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کو مسلسل بہتر کیا۔مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید فوجی کشیدگی کے دوران بھی فضائی محاذ انتہائی اہم رہا۔
پاکستان نے بھارتی حملوں کے جواب میں کارروائیاں کیں۔ پاکستان نے متعدد بھارتی طیارے مار گرائے اور بھارت میں کھلبلی مچا دی جب کہ بھارت نے مکمل نقصانات کی تفصیل کی تصدیق نہیں کی۔ بھارت پاک فضائیہ کے تابڑ توڑ حملوں پر گھبرا گیا تو 10 مئی 2025 کو جنگ بندی کا سہارا لیا،لہٰذا 2025 کے واقعات کو بیان کرتے ہوئے یہ کہنا زیادہ محتاط اور درست ہوگا کہ پاک فضائیہ نے بھارتی حملوں کا موثر جواب دیا اور فضائی محاذ پر اپنی دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، جس کے بعد دونوں ممالک جنگ بندی پر پہنچے۔
یومِ فضائیہ کا پیغام یہی ہے کہ6 ستمبر ہمیں اپنی سرزمین کے دفاع کا درس دیتا ہے اور 7 ستمبر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کسی بھی ملک کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں یا طیاروں کی تعداد میں نہیں ہوتی بلکہ اس کے جوانوں کی تربیت، جذبے، قیادت، ٹیکنالوجی اور وطن کے لیے قربانی دینے کے عزم میں ہوتی ہے۔
1965 کے شہداء نے اپنے خون سے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کے دفاع کے لیے اس کے سپوت ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ آج بھی پاک فضائیہ کے شہداء، پائلٹوں، انجینئروں، تکنیکی عملے اور تمام اہلکاروں کی قربانیاں ہمارے لیے باعث فخر ہیں۔
یومِ دفاع اور یومِ فضائیہ ہمیں جنگ کی خواہش نہیں بلکہ امن کے ساتھ اپنی آزادی، خودمختاری اور وطن کے دفاع کے عزم کا پیغام دیتے ہیں۔
پاکستان زندہ باد
پاک فضائیہ پائندہ باد
شہدائِ پاکستان کو سلام