جب کوئی پرانے زمانے کی بات کرتا ہے تو لگتا ہے کہ صدیاں بیت گئی ہوں، اس واقعے کو۔ اب ہم جب پرانی بات کرتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ بیس تیس برس پرانی بات کوئی ایسی پرانی بھی نہیں ہے۔ آج کے بچوں کو اس وقت کی بات بتاؤ تو انھیں لگتا ہے کہ ہمارا تعلق زمانہ قدیم سے ہے۔ ویسے تو کسی بھی زمانے کو برا نہیں کہا جا سکتا مگر آج کے معمولات اتنے برے ہوگئے ہیں کہ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی ان کا موازنہ اپنے وقتوں سے کرنے لگتے ہیں۔
ایسے لگتا ہے کہ چار دن پرانی بات ہے کہ ہم گجرات میں اپنے نئے گھر میں منتقل ہوئے تھے، ہمارا سب سے چھوٹا بھائی اس وقت لگ بھگ ایک ماہ کا تھا… ہمارے گھر کا گیٹ کالونی کے مرکزی پارک کی طرف تھا اور اس کے دائیں اور بائیں دو گھر تھے، چند گز کے فاصلے پر اس وقت کے نوائے خاندان کے نمایندہ گجرات، قربان طاہر صاحب کا گھر تھا اور لگ بھگ دو سو گز دور ریٹائرڈ کرنل حبیب صاحب کا گھر۔
گھر کی پچھلی طرف بالکل بیابان کی طرح تھی اور قدرے فاصلے پر ان خانہ بدوشوں کے خیمے تھے جو دن کو لوگوں کے گھروں اور زیرتعمیر عمارتوں میں کام کرتے تھے، مرد بھی اور محنتی عورتیں بھی۔
اس چند گھروں پر مشتمل کالونی کے گرد دور دور تک، تاحدنگاہ فصلیں ہی فصلیں ہوتیں اور ہم پانچ چھ گھروں کے بچے اسکول سے واپس آکر اپنے اپنے گھروں کے سامنے پارک میں کھیلو ں کے میدان سجا لیتے۔ نہ کوئی فون تھا اور نہ ہی موبائل کی اسکرین، ایک پی ٹی وی ہوتا تھا جس پر بچوں کے دیکھنے کو ملاجلا کر فقط تیس چالیس منٹ کے پروگرام ہوتے تھے جن کے دیکھنے کی کبھی اجازت ملتی تھی اور کبھی نہیں۔
ہم چند گھروں کے بچے اس طرح اکٹھے کھیلتے تھے جس طرح کہ سگے بھائی بہنیں کھیلتے ہیں۔ سب لوگ ایک دوسرے کے گھروں کے بزرگوں کا احترام کرتے اور کسی کی شان میں گستاخی کا خیال تک نہ آتا تھا اور نہ ہی اس بات کا خطرہ محسوس ہوتا تھا کہ ہم میں سے کسی کو بھی کسی دوسرے سے نقصان پہنچے گا۔
دن بھر تمام بچوں کے اکٹھے کھیلنے کے باوجود ہمیں بلااجازت اور بلامقصد وضرورت ایک دوسرے کے گھروں میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ یا ہم سب پارک میں ملتے تھے یا بعد دوپہر اپنے اپنے گھر کی دیواروں پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ کر ایک دوسرے سے باتیں کرتے، اسکول کے کام کی، کھیلوں کی۔
ہم جہاں بھی ہوتے، ہمیں معلوم ہوتا تھا کہ ہم اپنے والدین کی نظروں کے حصار میں ہیں، چاہے ہوتے بھی تھے یا نہیں مگر معلوم تھا کہ مغرب کی اذان شروع ہونے سے پہلے ہر بچے کو واپس گھر پر ہونا ہوتا تھا، ا س کے لیے لڑکوں اور لڑکیوں میں کوئی تفاوت روا نہیں رکھا جاتا تھا۔
اس کے بعد ہم بچپن سے نکلے اور زندگی کے اگلے دور کی مصروفیات میں کھوگئے، ہم نے ترقی کی راہ پر قدم رکھا تو زمانہ شناسی پہلے سے زیادہ ہوگئی اور اپنے بچو ں پر یوں نظر رکھنے لگے جیسے مرغی اپنے بچوں کو اپنے پروں تلے چھپا کر پالتی ہے۔
اپنے بچوں پر کم اور ان پر پڑنے والی نظروں پر زیادہ دھیان رہنے لگا اور سختی سے بچوں کو سمجھایا کہ کسی اجنبی سے فاصلہ کس طرح رکھنا ہے، اپنی حفاظت کس طرح کرنا ہے، کسی پر اعتبار نہیں کرنا ہے، ماسوا اپنے محرم رشتوں کے کسی کے قریب نہیں ہونا ہے اور اپنے کزنز تک سے فاصلہ رکھنا ہے کہ اس عمر میں بچوں کو ان باتوں کی سمجھ نہیں ہوتی، سمجھانا پڑتا ہے۔ ہمارے بچے بھی خود پر عائد پابندیوں کو محسوس کرتے اور دل میں سوچتے ہوں گے کہ والدین بہت سخت گیر ہیں مگر ایسا ہونا پڑتا ہے۔
اب زمانہ پہلے سے اور بھی زیادہ ترقی کرگیا ہے اور اس ترقی کے منفی اثرات اب معاشرے پر اتنے برے پڑتے ہیں کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اب کی ماؤں کو اور بھی زیادہ تیز نظر اور اسمارٹ ہونا چاہیے کہ اب ان کے لیے چیلنج بہت زیادہ ہوگئے ہیں۔
آج کی ماں کو خود مثال بن کر اپنے بچوں کو بتانا ہے کہ اس نے ہر کسی سے فاصلہ رکھنا ہے، آج کی بچی بھی خطرے کی زد میں ہے اور بچہ بھی۔ زبانی کلامی بچوں کو Good and bad touch کے بارے میں بتانا کافی نہیں۔
اسے اپنے محلے داروں سے، ملازموں سے، اسکول کے اساتذہ سے، قرآن کی تعلیم دینے والے سے، سڑک پر چلتے کسی بھی آدمی سے، ابا اور اماں کے دوستوں سے اور اپنے محرم رشتوں سے بھی خطرہ ہے اور سب سے زیادہ اس سے ہے جس پر اس کے والدین کو بہت زیادہ اعتماد ہے۔ اس خطرے کو محسوس کرکے آج کی ماؤں کہ ذمے داری بہت بڑھ گئی ہے، انھیں بچوں کوکہہ کر بھی سمجھانا ہے اور ان کے لیے خود بھی مثال بننا ہے۔ اگر والدین خود مخلوط محفلوں میں اجنبیوں سے قرب سے ملیں، خاندان میں اپنے نامحرموں سے یوں ملیں جیسے کہ محرموں سے ملتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کو سمجھا نہیں سکتے۔
اپنے چھوٹے سے بچے کو بھی سمجھائیں کہ اسے کسی کی بھی گود میں نہیں بیٹھنا ہے، آپ کا بچہ کسی کے بھی پاس سونے کی ضد کرے یا کوئی قریبی رشتہ دار اصرار کرے کہ بچوں کو ہمارے پاس سونے دیں، یہ بہت خطر ناک بات ہے۔ یہ مت سوچیں کہ کہنے والا بزرگ ہے، بے ضرر ہے، محرم رشتہ ہے، انکل ہے یا بڑا بھائی ہے۔
بھائی وہی ہے جو بھائی ہے، بھائی بھی سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اسے علیحدہ سلانے کا حکم ہے، کجا یہ کہ اس سے بڑی عمر کے لڑکوں یا لڑکیوں پر بھی اعتبار کیا جائے۔ دوستوں کے گھروں میں گزشتہ چند برسوں سے sleep over کا جو رواج فروغ پا رہا ہے، وہ ایک بہت خطر ناک رواج ہے۔
اس وقت بچے اپنے دوستوں کے گھروں میں رات گزارتے ہیں، اپنے والدین کے بغیر، بڑا حوصلہ چاہیے اپنے بچے کو نظر سے اوجھل کسی کے ہاں رات گزارنے کی اجازت دینے کے لیے، بچے تو معصوم ہوتے ہیں، ان کی معصومیت کو کون کس طرح سے داغدار کردے۔
جو بھی مجبوری ہو، کسی بچے کو دکان پر سودا لینے کو تنہا نہ بھیجیں، نہ کسی استاد کے پاس تنہا بیٹھنے دیں، نہ گھر میں اور نہ گھر سے باہر مسجد یا ٹیوشن سینٹر میں بھی۔ اتنے برے برے واقعات سنتے ہیں کہ سوچتے ہیں بچے پیدا ہی نہ کیے جائیں کہ بے چارے آنکھ کھولتے ہی خطرات کی زد میں آجاتے ہیں۔
مائیں بچوں کو چست اور نیم عریاں لباس نہ پہنائیں، بہت چھوٹی عمر سے انھیں بتائیں کہ کسی سے ملنا ہے تو فقط منہ سے سلام کریں، ہر نامحرم رشتے سے فاصلہ رکھیں خواہ وہ کسی بھی عمر اور مرتبے کا ہو۔ کسی کی ٹانگوں سے لاڈ سے نہ لپٹیں اور نہ کسی کی گود میں بیٹھیں، کسی کے ساتھ بہت جڑ کر بھی نہ بیٹھیں اور نہ ہی اپنے فراک یا قمیض اس طرح اٹھائیں کہ بے لباسی کی طرح محسوس ہو۔ انھیں اپنے آپ کو سمیٹ کر بیٹھنا، چلنا اور جھک کر چیز اٹھانا سکھائیں۔
گھر کی ملازماؤں اور ملازموںکو کسی بھی کام سے آپ کے گھر میں کسی کے کمرے میں بلااجازت، بے وقت اور بلا ضرورت جانے کی اجازت نہیں ہونا چاہیے۔ گھروں میں کیمرے نصب کریں۔ اپنے بچوں کو ملازموں اور ڈرائیوروں کے ساتھ تنہا اسکول اور کالج نہ بھیجیں۔
بچوں کے بستے، بیگ، کمرے، اسکول اور دوستوں کی صحبت باقاعدگی سے چیک کریں، یہ ضروری ہے۔ باہر کسی سے لے کر کوئی چیز نہ کھائیں… آپ کے بچے کے ساتھ کسی کی طرف سے کسی قسم کی زیادتی نہ ہو، اس سے بھی انھیں خبردار کریں اور اس کے ساتھ اہم ہے کہ اپنے بچوں کو آپ نے بھی تربیت دینا ہے کہ ان کے ہاتھ، زبان، غصے اور کسی جسمانی تشدد سے کسی اور کا بچہ یا بچی متاثر یا مجروح نہ ہو۔
بچوںکی سوچ برے لوگوں کی طرح نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں کی بری نظروں اور نیتوں کو سمجھ سکیں، اتنے چھوٹے بچے کو آپ یہ بھی کہہ دیں کہ ایسے اچھا نہیں لگتا تو بچہ اس مان لے گا، اسے ڈرانے اور اتنا خوفزدہ کرنے کی ضرورت نہیں کہ وہ سانس لینے میں بھی خوف محسوس کرے۔
سب بچے اور بڑے آمنے سامنے ہوں تو ایک دوسرے کو زبان سے سلام کریں، والدین ، بہن بھائیوں اور محرموں سے سلام یا سب کے سامنے معانقہ کرنے میں حرج نہیں مگر ان سے بھی تنہائی میں انھیں احتیاط کرنے کی ضرورت ہے کہ اب دور ہی ایسا آگیا ہے، بے حیائی اور شیطانی سوچ عروج پر ہے اور بچے اس وجہ سے شدید خطرے کی زد میں ہیں، لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہیں، لڑکوں کو بھی ان شیاطین کے ہاتھوں محفوظ نہ سمجھیں۔
بچوں کو سمجھانے سے پہلے گھر والوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے بچوں کے سامنے کس طرح کی مثالیں پیش کرتے ہیں، کیا وہ خود ان معاملات میں احتیاط کرتے ہیں؟ اپنے اسکول کالج کے ہم جماعتوں، دفتر میں ساتھ کام کرنے والوں، اپنے خاندان کے ہم عمر، کم عمر یا بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ وہ کس طرح ملتے ہیں ، کس طرح مخلوط محافل میں ادب اور آداب کو ملحوظ رکھتے ہیں، بچوں کو سمجھانے سے پہلے خود کو سمجھائیں… اس کے بعد اپنے بچوں کی تربیت انھی خطوط پر کریں۔