پیرانہ سال قیادت کی آہنی گرفت اور یوتھ

ایک اور محاورے کے مطابق زندگی کا اصل آغاز تو ہوتا ہی 40 سال کی عمر سے ہے


خالد محمود رسول September 06, 2026

بڑھتی عمر کے متعلق بہت سے رویے موجود ہیں۔ کچھ کے نزدیک عمر فقط ایک عددی سنگ میل ہے، زندگی کی توانائی اور جوش کا تعلق تو ذہن اور سوچ سے ہے۔ ایک اور معروف محاورے کے مطابق دل جوان ہونا چاہیے، عمروں کے حساب میں کیا رکھا ہے۔

ایک اور محاورے کے مطابق زندگی کا اصل آغاز تو ہوتا ہی 40 سال کی عمر سے ہے… نسبتاً جوان یا نوجوان احباب کا خیال ہے کہ یہ سب خوشنما مفروضے بڑھتی عمر والے لوگوں نے اپنے دل اور دوسروں کو سمجھانے کے لیے وضع کر رکھے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ اسی سوچ کے بل پر بیشتر عمررسیدہ لوگ سیاست، قیادت اور کاروبار میں کم عمر لوگوں کے لیے جگہ خالی نہیں کرتے۔

عمر رسیدہ اگر طاقتور عہدوں ، وسائل اور اقتدار پر غالب ہوں تو ان کی اس سوچ کے اثرات پورے ملک کی سیاسی، معاشرتی اور معاشی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ امریکا کی مثال لیں جو دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور عالمی طاقت ہے، وہاں حکومتی اور غیرحکومتی عہدوں پر عمررسیدہ لوگوں کا آہنی کنٹرول ہے۔

سینیٹ کے ممبران کی اوسط عمر 64 سال ہے۔ معمر ترین سینیٹر کی عمر 92 سال اور کم عمر ترین سینیٹر کی عمر 39 سال ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کے ججز ریٹائر نہیں ہوتے ، ان کے عہدے کی معیاد لائف ٹائم ہے۔ اس وقت سپریم کورٹ ججز کی اوسط عمر 66 سال ہے۔ زیادہ تر ججز 80 سال سے زائد عمر تک عہدے پر فائز رہے ہیں۔

ایک حالیہ سروے میں یہ حیرت انگیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ امریکا میں بڑی کارپوریشنز کے سربراہان کی اوسط عمر 2000 میں 48 سال تھی جو 2026میں 61 سال ہو چکی ہے۔ امریکا کی سیاست میں کانگریس اور سینیٹ کے ساتھ ساتھ امریکی صدر کی عمر بھی حالیہ سالوں میں زیربحث رہی ہے۔ جوبائیڈن دو سال قبل 81 سال کی عمر میں الیکشن کے لیے میدان میں اترے۔

پبلک اجتماعات اور میٹنگز میں ان کے سست ہوتے اعصاب، بھولنے اور کمزوری کے مظاہر کے سبب عین الیکشن مہم کے دوران وہ عوامی دباؤ کے تحت دستبردار ہوئے۔ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی الیکشن کے وقت 78 سال کے تھے۔

حالیہ مہینوں میں ان کی صحت اور چستی کے بارے میں بھی چہ میگوئیاں گردش میں رہیں۔ شاید اسی سبب وہ عوامی اجتماعات میں اپنی چستی ثابت کرنے لیے اپنی مخصوص حرکات سے یہ ثابت کرتے رہتے ہیں کہ ابھی تو میں جوان ہوں!

یورپ کا معاملہ اور عمومی رویے بیشتر صورتوں میں بہت مختلف ہیں۔ یورپی ممالک کے بیشتر سربراہان کی اوسط عمر 50 سے 55 کے درمیان ہے۔ اس وقت ہالینڈ کے وزیراعظم 39 سال کے ہیں، فرانس کے صدر 48 سال، ڈنمارک کی وزیراعظم 48 اور اٹلی کی وزیراعظم 49 سال کی ہیں۔

یورپ کی بڑی کارپوریشنز کے سربراہان کی اوسط عمر 55 کے لگ بھگ ہے جب کہ 31÷ کی عمر 60 سے زائد ہے۔ امریکا اور یورپ کی قیادت کی عمر میں اس واضح تفاوت کی وجہ یہ ہے کہ یورپ کے ریاستی اور کاروباری نظام میں عہدوں کی حد مقرر ہے، اکثر ممالک میں صدر یا وزیراعظم دو بار سے زائد عہدے پر فائز نہیں رہ سکتا، سیاسی عمل میں اکثر سیاستدان اپنا سفر جواں عمری میں شروع کر سکتے ہیں جو امریکا میں مشکل ہے۔

اسی طرح کاروباری دنیا میں بھی بیشتر صورتوں میں عمر کی حد مقرر ہے جس کی وجہ سے عمر رسیدہ لوگ طاقتور ریاستی اور کاروباری عہدوں سے لگے بندھے انداز میں نئے لوگوں کے لیے جگہ بناتے رہتے ہیں تاہم امریکا جہاں اور بہت سے معاملات میں دنیا سے الگ ڈگر اختیار کرتا ہے، وہیں اس بابت بھی یورپ سے جدا گانہ رویہ رکھتا ہے۔

عمررسیدہ طاقتور اور مالدار لوگ جب ریاستی اور پالیسی سازی پر بڑی عمر میں بھی حاوی رہتے ہیں تو اس کے دیدہ ونادیدہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ امریکا میں سوشیالوجی، سیاست اور تاریخ کے ماہرین نے اس موضوع پر حالیہ سالوں میں بہت تحقیق کی ہے۔ عمررسیدہ طبقات کا عہدوں اور باختیار کرسیوں پر قائم رہنے کے عمل کو ماہرین نے Genotocracy کا نام دیا ہے۔

حال ہی میں ہماری نظر اس موضوع پر ایک چشم کشا اور معلوماتی کتاب سے گزری جو اس موضوع کے بہت سے پہلوؤں اور اثرات کا احاطہ کرتی ہے۔اس موضوع کو سمجھنے کے لیے ییل یونیورسٹی کے ممتاز استاد اور معروف قانون دان سیموئل موئن (Samuel Moyn) نے ایک تھیوریٹکل فریم ورک پیش کیا ہے۔

اپنی کتاب Gerontocracy in America میں وہ اس مغالطے کو سختی سے رد کرتے ہیں کہ جیرونٹوکریسی (Gerontocracy) کا مطلب محض چند بوڑھے سیاستدانوں کا سیاسی کرسیوں پر براجمان ہونا ہے۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ جیرونٹوکریسی دراصل طاقت، معاشی سرمائے، رئیل اسٹیٹ اور ریاستی اداروں پر بوڑھی اشرافیہ کے تسلط کا ایک مضبوط، سٹرکچرل اور مفاد پرستانہ نظام ہے۔

موئن اس ساخت جاتی اجارہ داری کو ’’Oldigarchy‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ ایک ایسا بندوبست جہاں سیاسی اور معاشی طبقات تمام بنیادی وسائل، جائیدادوں، کارپوریٹ بورڈز اور پالیسی سازی پر قبضہ کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور اسے آیندہ نسلوں کی طرف منتقل ہونے سے روک دیتے ہیں۔

سماجی تاریخ کا غیرجانبدارانہ تجزیہ ہے کہ انسانی معاشروں کی بقا اور ارتقا ہمیشہ ایک غیرتحریری مگر مضبوط ’’بین النسل معاہدے’’ (Intergenerational Compact) پر قائم رہا ہے۔ اس عمرانی اور فطری اصول کی بنیادی روح یہ تھی کہ بڑی عمر کی نسل نو جوانوں کی تعلیم و تربیت کرتی ہے، انھیں معاشی بنیادیں فراہم کرتی ہے اور پھر ایک خاص موقع پر خود سرپرست کے درجے پر فائز ہو کر قیادت کی مشعل نئی نسل کے ہاتھوں میں تھما دیتی ہے۔

لیکن موجودہ دور کے معاشی ڈھانچے اور سیاسی گٹھ جوڑ نے اس فطری توازن کو یکسر یکطرفہ کر دیا ہے۔ بڑے تجارتی اداروں، پارلیمانی کمیٹیوں اور قانون سازی کے ایوانوں پر پرانی نسل کا غلبہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ نئی نسل کے لیے نہ صرف مستقل روزگار اور اپنے گھر کی خریداریاں ناپید ہو چکی ہیں بلکہ ریاست کی تمام تر پالیسی سازی بھی مستقبل کی ضروریات کے بجائے محض پرانے طبقے کے محفوظ اثاثوں کی نگہبانی تک محدود کر دی گئی ہے۔

سیموئل موئن کے اس فکری فریم ورک کا ہمارے جنوبی ایشیاء کے خطے پر بھی حیرت انگیز اطلاق محسوس ہوتا ہے۔ بھارت کے وزیراعظم کی عمر 75 سال ہے، اس سے قبل بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد کی عمر بھی اقتدار سے علیحدگی کے وقت 76 سال تھی۔

سری لنکا میں عوامی انقلاب کے وقت وزیراعظم راجا پاکسے کی عمر بھی 76 سال کے لگ بھگ تھی۔ پاکستان کی چاروں بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی عمر 70 سال سے زائد ہے۔ کیا یہ محض اتفاق ہے یا اقتدار، طاقت اور وسائل پر کامل غلبے کے اس عمل میں یہ ایک سوچی سمجھی ترکیب ہے۔ اس فریم ورک کو پاکستان کے سیاسی، معیشت اور انتظامی نظام پر منطبق کریں، تو اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ تو ہے جس کے سبب اقتدار اور طاقت کے ایوانوں میں رسائی کے بعد رضاکارانہ واپسی سب بھول جاتے ہیں۔

پاکستان کی کل آبادی کا تقریباً ساٹھ فیصد سے زائد حصہ تیس سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن اس ڈیجیٹل، تحرک سے بھرپور اور توانائی سے لبریز ڈیموگرافی کے مقابلے میں، ہمارے تمام سیاسی ایوانوں، ریاستی فیصلہ سازی کے مراکز اور انتظامی ڈھانچوں پر فائز حکمران طبقہ فکری اور طبعی طور پر پچھلی صدی کا پروردہ ہے۔

سیاسی مسندوں پر بیٹھ کر یہ عمر رسیدہ اکیسویں صدی کے ڈیجیٹل دور میں رہنے والے نوجوانوں کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں تو پالیسیوں میں حیرت انگیر بیگانگی اور جمود نظر آتا ہے، جین زی کا پرانی نسل سے گلہ اتنا غلط بھی نہیں۔ شاید موجودہ گورننس بحران میں اس عمل کا بھی کچھ عمل دخل ہو۔