مریم نواز کا سندھ، کے پی اور بلوچستان کےعوام کو دہشت گرد قرار دینا ملکی تقسیم کی سازش ہے، آفریدی

عوام ان مسلط کردہ حکمرانوں سے ہی نہیں بلکہ انہیں اقتدار میں لانے والوں سے بھی نفرت کر نے لگے ہیں، خطاب


ویب ڈیسک September 05, 2026
فوٹو فائل

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے میرپورخاص میں اسٹریٹ موومنٹ ریلی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ کی جانب سے سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کو دہشت گرد قرار دینا پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔

اسٹریٹ موومنٹ کے تحت سندھ میں تیسرے روز وزیراعلیٰ کا قافلے کی صورت میں مختلف علاقوں میں گئے جہاں انہوں نے عوام اور کارکنان سے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ بھارت کو دوست کہتی ہیں اور انہٰں بھارت سے کوئی مسئلہ نہیں مگر پاکستان کے سرحدی صوبوں سے مسئلہ ہے، مسلط کیے گئے حکمرانوں کے ایسے بیانات پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوشش ہیں۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ اگرملک کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔ یہ لوگ عوام کو غربت، جہالت اور بھوک میں دھکیلنا چاہتے ہیں، ان کے مفادات عوام کے مفادات سے متصادم ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ 3300 ارب روپے کا بجٹ ہو اور عوام کے لیے نہ ترقی ہو، نہ اسکول، نہ کالج اور نہ اسپتال، یہ کیسے برداشت کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے ساتھ ساتھ اسلام آباد اور پنڈی والوں کی نیندیں بھی حرام ہو چکی ہیں، جہاں تک نظریں جا رہی ہیں لوگ ہی لوگ ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ عوام کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم دن ہے اور آج کا اجتماع اسی اہم مقصد کے لیے اکٹھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ان غنڈوں کو جیل بھیجا گیا، انہوں نے ڈیلیں کیں، اس بار ان کا ٹکر کے لیڈر سے واسطہ پڑا ہے، ان کا خیال تھا عمران خان جیل جائیں گے اور ٹوٹ جائیں گے، لیکن عمران خان اپنی قوم کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کو 9 ماہ تک تنہائی میں رکھا گیا، ان کی اہلیہ کو جیل میں ڈالا گیا اور ان کے رشتہ داروں کو بھی انتقام کا نشانہ بنایا گیا، لیکن عمران خان ہر ظلم اور دباؤ کے باوجود اپنی قوم کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججز نے انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی، جبکہ سپریم کورٹ کے تین ججز نے فیصلہ دیا کہ عمران خان کا علاج شفا انٹرنیشنل اسپتال میں کیا جائے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ فاشسٹ حکمران عدلیہ کو واضح پیغام دے رہے ہیں کہ ججز اور عدلیہ ان کے بوٹ کی نوک پر ہیں۔ عمران خان جانتے ہیں کہ موجودہ ججز انہیں انصاف نہیں دے سکتے، اسی لیے ان کی نظریں پاکستان کے نوجوانوں اور عوام پر ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ عمران خان کے لیے ضرور نکلیں، ایسے لیڈر صدی میں ایک بار پیدا ہوتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ ملے تو اس پر، موٹر سائیکل یا سائیکل ملے تو اس پر، ورنہ پیدل اسلام آباد پہنچیں۔

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر عمران خان کی رہائی کیلیے مجھے قربانی دینی پڑے تو کوئی فرق نہیں، سیکڑوں سہیل آفریدی بھی قربان ہو جائیں تو فرق نہیں پڑے گا، لیکن عمران خان کو نہیں کھو سکتے۔ عمران خان کے لیے ہر چیز قربان کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اگر عوام یوں ہی سوتے رہے تو یہ غنڈے، کرپٹ اور ظالم حکمران انہیں لوٹتے رہیں گے۔ غلام ابنِ غلام کا سلسلہ اب مزید نہیں چلے گا، پہلے نانا، پھر باپ، پھر ماں اور اب وہ خود بادشاہت کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ مڈل اور عام طبقے سے آئے ہیں، اب عوام کو بھی آگے بڑھ کر اپنی قیادت خود سنبھالنا ہوگی، ہم ان کرپٹ اور ظالم لوگوں کے مزید غلام نہیں بن سکتے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہوگا، ورنہ غلامی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ جو پالیسیاں عوام کے مفاد میں نہیں، ہم ان کے خلاف باغی ہیں۔

محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ جن لوگوں نے موجودہ حکمرانوں کو اقتدار میں مسلط کیا، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ انہی لوگوں نے ڈان لیکس اور میموگیٹ اسکینڈل کیے اور اسمبلی کے فلور کو ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ عوام ان مسلط کردہ حکمرانوں سے ہی نہیں بلکہ انہیں اقتدار میں لانے والوں سے بھی نفرت کر نے لگے ہیں، خیبرپختونخوا، سندھ، گلگت بلتستان، بلوچستان اور پنجاب کے عوام انہیں مسترد کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئی ان کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں، عوام اپنا مستقبل اور اپنی قیادت خود منتخب کریں گے۔  محمد سہیل آفریدی نے کراچی کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “کراچی والو تیار ہو؟ کل ہم آپ کی طرف آ رہے ہیں۔”