بولیویا کے شہر ویاچا میں قائم فوجی بیرک میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 2 افراد ہلاک اور 81 زخمی ہوگئے جبکہ 14 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بولیویا کے وزیر دفاع ارنیستو جسٹینیانو نے بتایا کہ دھماکا تقریباً ڈھائی بجے ایک فوجی اڈے میں ہوا جہاں توپ خانے کی ایک رجمنٹ تعینات تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ بیرک میں موجود آتش بازی کے مواد (Pyrotechnic material) کے پھٹنے سے شدید دھماکا ہوا تاہم اس کی حتمی وجہ ابھی معلوم نہیں ہوسکی۔ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔
سرکاری طور پر اب تک 2 ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے تاہم صحت کے حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔
صحت کے حکام کی جانب سے مقامی میڈیا کو بتایا گیا کہ واقعے میں 10 سے 15 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ امدادی کارکن ملبے میں لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں اس لیے ہلاکتوں کی حتمی تعداد سامنے آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
فوجی اڈے کے کمانڈر کرنل انتونیو امارو نے ہفتے کو بتایا کہ لاپتا افراد میں ایک سارجنٹ اور 13 لازمی فوجی سروس انجام دینے والے اہلکار شامل ہیں۔ جن کی عمریں 18 سے 19 سال کے درمیان ہیں۔
دھماکا اتنا شدید تھا کہ فوجی اڈے کے اطراف موجود درجنوں مکانات کو بھی نقصان پہنچا پولیس اور امدادی ٹیمیں تباہ شدہ عمارتوں اور ملبے میں ممکنہ متاثرین کی تلاش کررہی ہیں۔
مزید دھماکوں کا خطرہ، شہریوں کو دور رہنے کی ہدایت
حکام نے خبردار کیا ہے کہ فوجی اڈے میں مزید دھماکے کا خطرہ موجود ہے۔ شہریوں سے فوجی اڈے سے کم از کم 150 میٹر دور رہنے کی اپیل کی گئی ہے۔
پولیس ترجمان راجر روکا نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ فوجی بیرک میں آتش بازی کا سامان ذخیرہ کیا گیا تھا، تاہم دھماکے کی اصل وجہ ابھی زیرِ تفتیش ہے۔
واضح رہے کہ ویاچا بولیویا کے دارالحکومت لاپاز سے تقریباً 30 کلومیٹر دور واقع ہے اور فوجی بیرک میں دھماکا ایسے مقام پر ہوا جہاں توپ خانے کی ایک رجمنٹ موجود تھی اور مبینہ طور پر آتش بازی کا سامان بھی ذخیرہ کیا گیا تھا۔