کراچی؛ ایل پی جی گیس سلنڈر کی دکان میں ڈکیتی کی واردات، مزاحمت پر ملازم قتل

رواں سال شہر قائد میں ڈکیتی کی وارداتوں کے مزاحمت پر جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 50 ہوگئی


اسٹاف رپورٹر September 06, 2026

کراچی:

شہر قائد میں جان محفوظ ہے اور نہ ہی مال محفوظ ہے، لیاقت آباد 10 نمبر سریا کٹ کے قریب واقع ایل پی جی گیس سلنڈر کی دکان میں ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے دکان کے ملازم کو قتل کر دیا، مسلح ملزمان مقتول ملازم کی موٹر سائیکل، موبائل فون اور نقدی چھین کر فرار ہوگئے۔

پولیس کے مطابق مسلح ملزمان جس موٹر سائیکل پر واردات کرنے آئے وہ موقع پر چھوڑ کر اور مقتول نوجوان کی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر فرار ہوئے۔ پولیس نے ملزمان کے زیر استعمال موٹر سائیکل، 30 پستول کا ایک خول اور واقعاتی شواہد اکٹھا کرکے واقعے کی تفتیش شروع کر دی۔

رواں سال شہر قائد میں ڈکیتی کی وارداتوں کے مزاحمت پر جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 50 ہوگئی ہے۔

جاں بحق نوجوان کی لاش قانونی کارروائی کے لیے چھیپا ایمبولنس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی، مقتول کی شناخت 28 سالہ شہزاد کے نام سے کی گئی۔ مقتول نوجوان کا آبائی تعلق جنوبی پنجاب سے بتایا جاتا ہے۔

فائرنگ کے واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور پولیس نے جائے واردات سے شواہد اکٹھا کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو طلب کرلیا۔

موقع پر موجود ایس ایچ او لیاقت آباد شوکت اعوان نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول نوجوان شہزاد ایل پی جی کی دکان میں ملازمت کرتا تھا، مقتول نوجوان شہزاد اپنے ساتھی 15 سالہ طیب ولد مقبول کے ساتھ دکان میں موجود تھا کہ اسی دوران موٹر سائیکل سوار 2 نامعلوم مسلح ملزمان دکان کے اندر آئے۔

پولیس افسر کے مطابق مسلح ملزمان نے مقتول نوجوان کی موٹر سائیکل کی چابی مانگی تو نوجوان نے انکار کر دیا جس پر مسلح ملزمان نے مزاحمت پر فائرنگ کر دی، مقتول نوجوان سر پر گولی لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔ مسلح ملزمان مقتول کی موٹر سائیکل، موبائل فون اور مقتول کی جیب میں موجود نقد رقم چھین کر فرار ہوگئے۔

ایس ایچ او نے بتایا کہ مسلح ملزمان جس موٹر سائیکل پر واردات کرنے آئے وہ موقع پر چھوڑ کر اور مقتول نوجوان کی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے ملزمان کے زیر استعمال موٹر سائیکل قبضے میں لے لی جبکہ پولیس کو جائے واردات سے ایک تیس بور پستول کا خول بھی ملا ہے جسے پولیس نے قبضے لے لیا۔

ایس ایچ او لیاقت آباد کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق فائرنگ کا واقعہ ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر پیش آیا ہے، پولیس نے جائے واردات سے شواہد اکٹھا کرکے اور واقعے کےعینی شاہد مقتول نوجوان کے ساتھی کا بیان قلم بند کرکے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

واقعے کے عینی شاہد اور مقتول نوجوان کے ساتھی طیب نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایل پی جی کی دکان پر بطور ہیلپر کام کرتا ہے، صبح موٹر سائیکل سوار پر 2 ملزمان دکان پر آئے اور مجھ سے پلگ پانا مانگتے ہوئے کہنے لگے کہ موٹر سائیکل مسنگ کر رہی ہے ہم نے بتایا کہ دکان میں پلگ پانا موجود نہیں ہے، آگے مکینک کی دکان ہے وہاں سے پلگ پانا مل جائے گا۔

عینی شاہد نے بتایا کہ مسلح ملزمان موٹر سائیکل اسٹارٹ کرکے دکان سے چلے گئے اور ایک منٹ بعد ہی وہ موٹر سائیکل گھما کر واپس دکان کے اندر گئے، ایک ملزم نے ماسک پہنا ہوا تھا جبکہ دکان میں دوسرا ملازم شہزاد سو رہا تھا اور میں کانٹے پر بیٹھا ہوا تھا۔ مسلح ملزمان نے اسلحے کے زور پر مجھے ایک دکان کے کونے پر بٹھا دیا جس کے بعد مسلح ملزمان نے سوئے ہوئے ملازم شہزاد کو اٹھایا اور اسے تھپڑ مارے اور زمین پر بٹھا دیا۔

مقتول کے ساتھ نے بتایا کہ مسلح ملزمان نے شہزاد سے اس کا موبائل فون چھینا اور اس کی جیب میں موجود تقریباً 15 ہزار سے زائد کی رقم چھین لی، مسلح ملزمان نے شہزاد سے اس کی موٹر سائیکل کی چابی بھی مانگی جس پر شہزاد نے انکار کیا تو مسلح ملزمان کی جانب سے اسے تشدد کا نشانا بنایا گیا اور اس کے بعد فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں شہزاد زمین پر گر گیا۔

عینی شاہد نے بتایا کہ مسلح ملزمان نے مقتول کی جیب سے چابی نکالی اور دکان سے باہر آتے ہوئے مجھے جگہ سے ہلنے سے منع کیا اور گولی مارنے کی دھمکی دی، پھر موٹر سائیکل اسٹارٹ کرکے موقع سے فرار ہوگئے۔

واضح رہے ہیں رواں سال شہر قائد میں ڈکیتی کی وارداتوں کے مزاحمت پر جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 50 ہوگئی ہے۔