لاہور:
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ صوبے بنانے کے معاملہ پر ایک اتفاق رائے قائم کرنا ہوگا، سندھ اسمبلی میں جو پیپلزپارٹی نے اچھل کود کی وہ قابل مذمت ہے، کوئی سندھو دیش قابل قبول نہیں کوئی بھی میلی آنکھ سے دیکھے گا تو برداشت نہیں کریں گے۔
لاہور میں فیصل چوک مال روڈ پر دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیپلزپارٹی کو سندھ سے غرض ہے سندھیوں سے کوئی غرض نہیں، اگر محبت ہوتی تو سندھیوں کو پڑھاتے، پیپلزپارٹی والے رہتے دبئی میں اور بچے یورپ میں پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے، کراچی میں ٹی ایم اوز سیکرٹری ٹریفک پولیس سمیت تمام محکموں میں اردو بولنے والے نہیں ہیں سب سندھی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیپلزپارٹی والے جمہوریت دشمن ہیں، زمینوں کو لوٹ مار کر لاڑکانہ میں کارخانہ لگاتے لیکن یہ سارے پیسے دبئی اور لندن لے جاتے ہیں۔ بلاول نے اسکول کے بچوں کے ساتھ تصویر بنوائی تو بچوں کے بال مٹی میں اٹے تھے اور پائوں میں ٹوٹی ہوئی جوتی تھی، بلاول سات لاکھ کے جوتے پہن کر ان کا مذاق اڑاتے رہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ فریال تالپور کہتی ہیں کہ وہ مشرف دور میں نواب شاہ کی ضلعی ناظم تھی، بے شرمی کی انتہا ہے، مشرف دور کا نظام ان کے دور کے نظام سے ہزار گنا بہتر تھا، مشرف جیسے ڈکٹیٹر نے لوکل سطح پر بہترین نظام دیا، جمہوریت کی چیمپئن پیپلزپارٹی نے سندھ پر قبضہ کر لیا ہے پھر کہتے ہیں بے نظیر کو کیا جواب دیں گے، جب پیپلزپارٹی والوں کا بے نظیر سے سامنا ہوگا تو بتا دینا کہ ہم نے ہاریوں کو تباہ کیا، سندھ کو اجاڑ دیا تھا، لوگوں کو تعلیم سے دور رکھا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو جماعت اسلامی احتجاج کا دائرہ بڑھاتے ہوئے پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کرے گی، پیٹرول پمپس بند کیے جائیں گے اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ سمیت حکومت مخالف تحریک کا آپشن بھی استعمال کیا جائے گا۔ احتجاج کا مقصد عوام کو ریلیف دلانا ہے، کیونکہ مہنگائی کے باعث تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں۔
انہوں نے پٹرولیم لیوی کو ’’جگا ٹیکس‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں تقریباً 130 روپے ٹیکس شامل ہے، جس میں حکومت براہ راست 105 روپے سے زائد وصول کررہی ہے۔ شہباز شریف حکومت نے چار ہزار ارب روپے سے زائد پٹرولیم لیوی وصول کی، حکومت بتائے یہ رقم کہاں خرچ کی گئی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ قوم کو 6 ستمبر مبارک ہو اور جماعت اسلامی افواج پاکستان کی ان قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جو وہ ملک کے دفاع کے لیے دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افواج اور عوام کے درمیان اتحاد اس وقت متاثر ہوتا ہے جب آئینی حدود سے تجاوز کیا جائے۔ اداروں کو اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں کام کرنا چاہیے۔ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے لیے احتجاج جاری رکھے گی اور حکومت کے پاس مطالبات تسلیم کرنے یا تحریک کا سامنا کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔