زباں فہمی294 ؛ کچھ اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کے بارے میں ، (حصہ پنجم)

زباں فہمی294 ؛ کچھ اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کے بارے میں ، (حصہ چہارم) ؛ تحریر ؛ سہیل احمد صدیقی


سہیل احمد صدیقی September 06, 2026
زباں فہمی294 ؛ کچھ اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کے بارے میں ، (حصہ چہارم)

گزشتہ سے پیوستہ

لوئی پیٹرک لیزا توقیرؔ (فرانسی: لوئی پات غِیک) کے والد ذرّہؔ اور دادا لوئی لیزا توقیرؔ بھی شاعر تھے یعنی اُنھوں نے دادا ہی کے ہم نام ہونے کے علاوہ تخلص بھی اُنہی کا اختیار کیا۔ ہم انھیں توقیرؔ ِ ثانی کہہ سکتے ہیں۔ وہ 2 جنوری 1876ء کو پیدا ہوئے اور 1893ء میں ریاست بیکانیر سے عملی زندگی کا آغاز کیا، شدہ شدہ مختلف عہدوں اور مناصب پر فائز ہو نے کے بعد، سبک دوش ہوئے۔ ان کی ذمے داریوں میں میونسپل بورڈ کی صدارت بھی شامل رہی۔ مہاراجہ بیکانیر نے انھیں ’سونے کا کڑا‘ (بجائے طِلائی تمغہ) اور سرکارِ برطانیہ نے MBAکا خطاب عطا کیا۔

1938ء میں فوت ہونے والے اس خاندانی شاعر کواپنے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے عوام وخواص میں یکساں مقبولیت حاصل ہوئی۔ وہ شاعری کے علاوہ مُوسیقی اور مصوری کے دلدادہ تھے۔ مصوری کی باقاعدہ تعلیم بھی حاصل کی۔ اُن کا کلام لکھنؤ کے جریدے ’پیامِ یار‘ میں 1895ء میں شایع ہوتا رہا۔ ان کی وفات پر مہاراجہ بیکانیر نے بہت مغموم ہوکر طویل تعزیتی بیان جاری کیا تھا۔ توقیرؔ ثانی کا نمونہ کلام پیش کرتا ہوں:

وہ اپنی بزم میںغیروں کے خوف سے توقیرؔ

ہماری سمت،کرم کی نگاہ کر نہ سکے

٭٭٭٭٭

مطلعِ دیوان میں ہے رنگ، ابروئے دل خواہ کا

جُوں ہلالِ عید ِ قرباں ، مَد ہے بسم اللہ کا

٭٭٭٭٭

یار غفلت دُور کر ، توقیر بس ہو چل سبک!

قافلہ جاتا ہے کہ لے تُو بھی ساماں راہ کا

٭٭٭٭٭

انھوں نے ولیؔ گجراتی دکنی سے منسوب ایک مشہور شعر کی طرح، اپنے ایک شعر میں ایہام گوئی کی شعوری کوشش کرتے ہوئے ’اس۔لام‘ اور ’اسلام‘ کو یکجا کیا:

تابعِ اسلام ہوں بندہ ہوں اُس کی زلف کا

جُوں خطِ قرآں ہے سبزہ ، عارض ِ دل خواہ کا

(وہ شعر یوں تھا:     لام نستعلیق کا ہے اس بتِ خوش خط کی زلف

  ہم تو کافر ہوں اگر بندے نہ ہوں اس لام کے )

{اب یہاں ایک غیرمتعلق مگر اَہم بحث بھی دیکھتے چلیں۔ ولیؔ سے غلط منسوب شعر کا خالق کون ہے؟’’ اردوکے ضرب المثل اشعار۔ تحقیق کی روشنی میں‘‘ کے ایک سو پانچ سالہ محقق، نیز میرے مشفق کرم فرما محمد شمس الحق مرحوم نے اس بابت کچھ نہیں لکھا ، البتہ اثنائے تحقیق مجھے ریختہ ڈاٹ آرگ پر موجود، یہ بیان نظر آیا، سو آپ کی نذر کرتا ہوں:

منقول از ریختہ

’’اس شعر سے ملتے جلتے شعر تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ کئی جگہ ملتے ہیں۔ قائمؔ چاندپوری جن کا تذکرہ 'مخزن نکات' بنیادی حوالے کے طور پر استعمال ہوتا ہے، اُس میں یہ شعر َاحسن اللّہ احسنؔ کے نام سے اس طرح درج ہے: لام نستعلیق کا ہے اُس بُتِ خوش خط کی زلف+ ہم تو کافر ہوں، اگر بندے نہ ہوں اسلام کے۔ محمد حسین آزادؔ نے بھی اپنی کتاب 'آب حیات' میں اس شعر کو اَحسن اللہ احسن ؔکے نام سے درج کیا ہے اور متن میں کوئی اختلاف نہیں۔ 'خمخانہ جاوید' ، لالہ سری رام کا مفصل تذکرہ ہے اور اس تذکرے کو 'تذکرہ ہزار داستان' بھی کہا جاتا ہے۔

اس کتاب میں یہ شعر دو شاعروں کے نام سے درج ہے۔ پہلی جلد میں احسن اللّہ احسنؔ کے ذکر میں صفحہ نمبر861 پر یہ شعر اس طرح درج ہے: لام نستعلیق کا ہے اس بت خوش خط کی زلف+ ہم تو کافر ہوں اگر بندے نہ ہوں اسلام کے... اور ظہورالدین حاتمؔ کے ذکر میں دوسری جلد کے صفحہ نمبر643 پر اس شعر کو اِختلاف کے ساتھ درج کیا گیا ہے: لام نستعلیق کا ہے اس بت کافر کی زلف+ ہم تو کافر ہوں اگر تابع نہ ہوں اسلام کے۔ (اس تفصیل کے بعد ریختہ والوں نے کسی گمنام شاعر کا ایک شعر یوں نقل کیا ہے:

لام کے مانند ہیں گیسو مِرے گھنشیام کے

ہیں وہی کافر کہ جو بندہ نہیں 'اس لام' کے )۔ نقل تمام شد}

ایف مچلؔ صاحب کا اصل نام مائیکل تھا، ایف کی وضاحت نہیں کی گئی۔ (تلفظ کے فرق سے قدیم فرانسی میں یہ نام می کا ئیل اور می شیل ہے، لہٰذا انھوں نے لوگوں کی آسانی کے لیے انگریزی تلفظ کا حامل اسم مچل ؔ اپنایا ہوگا)۔ وہ مشہور شاعر جارج پیش شورؔ کے شاگرد اور ریاست سردھنا میں مقیم تھے۔ اُن کی پانچ غزلیں اور اُنّیس بند پر مشتمل ایک مسدس کے سواء کچھ بھی دستیاب نہیں۔نمونہ کلام پیش ِ خدمت ہے:

پیشانیاں آ آ کے یہاں ، رگڑیں گے دشمن

میں یوں تِری دہلیز کا پتھر نہیں ہوتا

٭٭٭٭٭

عمر گزری ہے اپنی کُوئے جاناں چھانتے لیکن

نہیں واقف ہوئے تب بھی مچلؔ ہم کوئے جاناں سے

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اردو کی پوری شاعری میں ایسے شاعر ایک آدھ ہی گزرے ہیں جنھوں نے اپنی زبان( یعنی مغربی زبان) کا کوئی نام بطور تخلص استعمال کیا ہو۔

مرتے ہیں زندگی میں در پر پڑے کسی کے

قسمت میں میری یارب ! کیا دن نہیں خوشی کے

ولیم جوزف بردیت (اس اسم کے ہجّے نہیں ملے کہ فرانسی تلفظ لکھوں) ولیمؔ ، لکھنؤ میں مقیم فرانسی شاعر تھے جن کا عرصہ حیات ستّر سال (1837ء تا 1907ء ) بیان کیا گیا۔ وہ محکمہ ڈاک میں کلرک کی حیثیت سے ملازم تھے ۔ ولیمؔ صاحبِ دیوان شاعر تھے اور اُن کا دیوان ’جوہرِ فرنگ‘ مکتبہ انوارالاخبار ، امین آباد، لکھنؤ سے 1878ء میں شایع ہوا۔ قارئین کرام کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ رواج ِعام کے برعکس یہ دیوان فقط 96صفحات پر مشتمل تھا اور اِس میں ولیم کی 193غزلیات شامل تھیں۔ اس سے پتا چلا کہ وہ زود گو شاعر نہیں تھے۔ موصوف دیگر اَصناف میں بھی طبع آزمائی فرماتے تھے۔ دیوان میں شامل پہلی غزل کا مطلع واضح طور پر بتارہا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکار ہونے کے دعوے دار تھے، دیگر مقامات پر بھی یہ اعلان موجود ہے:

اُس اسمِ مبارک پہ فدا کیوں نہ ہوں ولیمؔ

واللہ! میں ہوں بندہ ٔ جاں باز ِ مسیحا

اس شعر میں اہل زبان مسلمانوں کی طرح خدا کی قسم کھاکر بہت سے قارئین کو ورطہ حیرت میں ڈا ل دیا گیا۔

دیگر نمونہ کلام ملاحظہ فرمائیں:

ٹوٹی قبروں کو دیکھ لے ولیمؔ

ہے نشاں کچھ پرانی بستی کا

٭٭٭٭٭

اللہ اللہ ! میں کہاں اور کوچہ جاناں کہاں

جذبہ دل تِرے صدقے تیرا ہوں لایا ہوا

٭٭٭٭٭

ہوگیا ہے خشک کس کا رُوئے رنگیں دیکھ کے

ایک لہو کی بوند لالے کے بدن میں کیوں نہیں

اس آخری شعر میں بہت ہی نادر مضمون آفرینی ہے۔ کم ازکم مجھے کہیں اور نظر نہیں آئی۔

ولیمؔ کے فرزند ولیم بردیت بھی شاعر تھے یعنی ولیمؔثانی۔1859ء میں پیدا ہونے والے ولیمؔ ثانی نے محکمہ ملٹری ورکس میں ملازمت کرتے ہوئے پشاور، فیروز پور، الہ آباد، شملہ، مدراس اور بمبئی کے علاوہ عدن (یمن) میں بھی قیام کیا ، جبکہ وہ کسی زمانے میں سندھ میں بھی مقیم رہے (بحوالہ ’سندھ کے اردوشعراء کا تذکرہ ‘ از افسر امروہوی، مشمولہ رسالہ سہ ماہی ’اردو‘، بابت جولائی 1937ء)۔ولیمؔ ثانی کے متعلق بیان کیا گیا کہ وہ فیروز پور (مشرقی پنجاب) میں تعیناتی کے دوران میں (1886ء تا 1888ء) اپنا کلام رسالہ ’پیامِ یار‘ میں اشاعت کے لیے بھیجا کرتے تھے۔ اُن کا انتقال 15اپریل 1915ء کو عارضہ قلب کے سبب ہوا۔ ولیمؔ ثانی کا نمونہ کلام پیش ِخدمت ہے:

جب کبھی ناز سے ترچھی وہ نظر کرتے ہیں

ایک پل میں وہ جہاں زیر وزبر کرتے ہیں

٭٭٭٭٭

اُن کی بدنامی سے ہے آپ کی بھی رُسوائی

آپ بے فائدہ عُشّاق سے شر کرتے ہیں

٭٭٭٭٭

پاؤں میں ہے اُن کے مہندی، خون ہوتا ہے مِرا

جان جاتی ہے یہاں، واں ناز معشوقانہ ہے

یہ تحقیق قدیم فرانسی الاصل اردو شعراء کے بارے میں ہے۔ جدید دور میں کیا صورت حال ہے ، اس بابت کوئی شواہد سامنے نہیں آئے، بلکہ فرانس میں مقیم دیسی اُردو شعراء بھی کوئی خاص نہیں کہ جن کا ذکر کسی عالمی تذکرے میں کیا جائے، اِلّا یہ کہ فقط نام ہی گنوانا مقصودہو۔یہاں ایک اور جہت بھی تحقیق طلب ہے۔ ماریشس (مقامی لوگوں کے تلفظ میں مَوغے شس) میں اردو کا باب بہت روشن ہے ، جس کے متعلق خاکسار ماضی قریب میں لکھ چکا ہے، ممکن ہے کہ وہاں بھی کوئی فرانسی الاصل اردو شاعر ہوگزرا ہو۔

شاعری سے ہٹ کر دیکھیں تو برّعظیم میں فرنگی یعنی مغربی زبانوں کی مقامی زبانوں اور بولیوں خصوصاً اردو میں آمیزش نیز مقامی لوگوں سے ارتباط کا سلسلہ جبھی شروع ہوگیا تھا جب پُرتگِیز (نہ کہ پرتگالی) سیّاح واسکو ڈا گاما (1460ء تا 24دسمبر 1524ء)، ایک مسلمان ماہر جہاز راں، امیرالبحر(Arab Admiral)، شہاب الدین احمد ابن ماجد (1432ء بمقام شارقہ عُرف شارجہ۔تا۔1500ء) کی تکنیکی رہنمائی سے خطّہ ہند تک پہنچا تھا۔ ابن ماجد کو بحری علوم اور فلکیات میں مہارت کے سبب ’سمندر کا ببرشیر‘ کہا جاتا تھا۔ اُن کی ایک کتاب ’کتاب الفوائد‘ بھی جہازرانی کے شعبے میں بہت مشہور ہے۔

20مئی 1498ء کو واسکو ڈا گاما کی آمد سے ہندوستان کی تاریخ کا ایک نیا باب شروع ہوا جو چند صدیوں میں مکمل مغربی تسلط پر متنج ہوا۔ یہ معروف روایات کے مطابق ، راس اُمید سے ہند تک بحری راستہ دریافت کرکے یہاں پہنچنے والا پہلا یورپی تھا۔ پُرتگیز یہاں تجارت سے زیادہ عیسائیت کی تبلیغ اور مقامی سرزمین پر قبضے کے لیے کوشش کرنے لگے تو ایسے میں ان کے یِسوعی مشن (Jesuit missions)نے بڑا کام کیا۔ یہ ساری تفصیل تاریخ میں محفوظ ہے، مگر دل چسپ بات یہ ہے کہ بہت بعدمیں آنے والے فرانسی اور اِنگریز ہندوستان میں قدم جمانے میں کامیاب ہوئے جبکہ پرتگیز اقتدار محدود ہوتا چلا گیا، ولندیزی (Dutch) اور المانوی (German) نیز ڈینش (ڈنمارک کے باشندے) اور دیگر اقوام کے لوگ یہاں بہت کم عرصہ قابض یا مقیم رہے۔

بادشاہ اکبر نے یِسوعی پادریوں سے ملاقات کرکے ان کی خوب آؤ بھگت کی اور بادشاہ کے ایماء پر، اس سرزمین پر پہلی فرنگی درس گاہ لاہور میں انہی مبلغوں نے قائم کی، جہاں بادشاہ کے شہزادے مُراد سمیت متعدد شاہی اور نواب گھرانوں کے بچّے پُرتگیز اور لاطینی زبان کی تعلیم حاصل کرنے لگے تھے۔ اورنگزیب عالمگیر کے عہد حکومت میں پہلا ہندوستانی مسلمان رُستم خاں عُرف معتمد خاں بدخشانی مغرب کی سیاحت کو رَوانہ ہوا تو اُس کا پہلا پڑاؤ پُرتگال کا دارالحکومت لِزبن (عربی: لشبونہ) تھا۔ عہد شاہجہانی و عالمگیری کا معروف درباری امیر اور عالم دانشمند خاں (محمد شفیع یزدی) علم ہیئت، جغرافیہ اور تشریح الابدان (Physiology) کے مطالعے کا شوقین تھا اور اُس کے بارے میں گمان ِ غالب ہے کہ اُسے فرانسی زبان پر مناسب عبور حاصل تھا۔ یہ ہمارے لحاظ سے پہلا معروف ہندوستانی ہے جس نے فرانسی زبان اپنائی۔

میسور کے عظیم حکمراں سلطان حیدرعلی نے فرنگیوں یعنی انگریزوں کے قائم کردہ نجی اسکولوں کی مالیاتی مدد کرکے ایک عمدہ مثال قائم کی تھی۔ اُن کے فرزند سلطان فتح علی ٹیپو نے ایک جامعہ ’جمیع الاُمور‘ قائم کی تو اُس میں مغربی علوم کے (عربی وفارسی میں) ترجمہ وتدریس کا خاص انتظام کیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے فرانسی اساتذہ بھی مقرر کیے تھے۔ (ہندوستانی میں نوابین کے تاسیس کردہ، انگریزی تعلیم کے اداروں کا ذکر بھی اپنی جگہ مفید ہے، مگر سرِدست موضوع کا لازمی حصہ نہیں، اس لیے اسے ترک کرتا ہوں)۔ نواب فخر الدین خاں شمس الامراء، دامادِ نظام دکن نظا م علی خاں آصف جاہ ثانی (1780ء تا 1863ء) انگریزی کے علاوہ فرانسی سے بھی واقف تھے۔ ان کے زیرسایہ ہونے والی علمی مساعی میں سائنس کی مختلف شاخوں سے متعلق کتب کے اردو تراجم بہت نمایاں ہوئے۔

اُنہی کے دور میں فرگوسن کی ایک کتاب کا ترجمہ ’مِفتاح الافلاک‘ کے نام سے عبدالسلام لکھنوی نے کیا جو پہلی مرتبہ 1833ء میں اور دوسری مرتبہ 1844ء میں خود نواب کے سنگی چھاپے خانے سے شایع ہوئی۔ میرزا ابوطالب اصفہانی نے 1799ء میں انگلستان، فرانس، سوئزر لینڈ، مالٹا، ترکی اور عراق کا دورہ کیا۔ واپس آنے کے بعد اُنھوں نے اپنا سفرنامہ ’سیر ِطالبی فی بلاد افرنجی‘ (ابوطالب کی فرنگی مقامات کی سیر) لکھا جو مغرب میں بھی مقبول ہوا۔ 1812ء میں یہ سفرنامہ موصوف کے بیٹے حسین علی نے کلکتہ سے شایع کیا، اگلے ہی سال اس کا ترجمہ جرمن زبان میں ، 1814ء میں انگریزی زبان میں اور 1819ء میں فرانسی زبان میں ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرانسی زبان میں ہندوستان سے متعلق ترجمہ ہونے والی اوّلین کتاب یہی تھی۔ انگریزی ترجمے کے متعلق معلوم ہوا کہ ہیلی بری کالج، کلکتہ کے استاد اور مشہور مستشرق چارلس اسٹوارٹ نے کیا تھا جسے اردوکے قالب میں میرزا رضاعلی محزوں ؔ مرادآباد ی نے ڈھالا اور یہ ترجمہ 1904 ء میں برلاس پریس، مراد آباد سے شایع ہوا تھا۔

دیگر تفاصیل کے علاوہ ایک دل چسپ اور ناقابل یقین انکشاف یہ ہے کہ میرزا غالب ؔکے دوست اور قدیم سیاح میاں یوسف کمبل پوش کے متعلق گارساں دتاسی نے لکھا کہ وہ درحقیقت اطالوی نژاد تھے، فلارنس کے باشندے اور مسیحی مذہب کے پیروکار تھے۔

جنگ ِ آزادیٔ ہند ۔1857ء کے ہیرو جنرل عظیم اللّہ خاں روہیلہ رام پوری، انگریزی کے علاوہ فرانسی بھی اچھی جانتے تھے۔ ان کی سیاحت اور دیگر تفصیل بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ نواب واجد علی شاہ کے لندن، انگلستان اور مابعد فرانس جانے والے وفد میں اُن کی والدہ شامل تھیں جن کے انتقال کے وقت، کس مَپُرسی کا یہ عالَم تھا کہ تجہیز و تکفین میں بھی دشواری پیش آئی۔ ایسے میں گارسا ں دتاسی نے ان لوگوں کی مدد کی تھی۔

گارساں دتاسی نے ایک نواب سلطان علی خاں سے ملاقات کا ذکر کیا (اُن کی ریاست کا نام لیے بغیر) اور بتایا کہ اُن سے ہندوستانی یعنی اردو میں گفتگو کی ، مگر وہ بہت شُستہ فرانسی بھی بولتے تھے، نیز اُن کی تعلیم کی تکمیل رُوس میں ہوئی تھی۔ مَلِک التُجّار غلام حسین، تاجر ِ کلکتہ کے بارے میں یہ بیان کیا گیا کہ اُن کے تجارتی صدر دفتر سے تیرہ عالمی زبانوں بشمول انگریزی، فرانسی، چینی، ترکی، عربی ، فارسی ، کوکنی( ودیگر ہندوستانی زبانوں ) میں خط کتابت ہوا کرتی تھی۔

ہندوستان میں اردو کی تعلیم وتدریس کے ضمن میں دہلی کالج (1841ء تا 1857ء) کا کردار بہت اہم ہے۔ یہ درحقیقت 1792سے قائم تھا ، مابعد اِنگریزی عمل داری میں آیا۔ اس کی تعلیمی کمیٹی نے درسی کتب کی تیاری کے لیے جو تنظیم تشکیل دی ، اُس کا پہلا سیکرٹری اور کالج کا اوّلین پرنسپل فیلیکس ایم بوترو(فرانسی: بُوتغو ۔(Felex M. Boutrosbتھا۔ (جاری)