زباں فہمی295 ؛ کچھ اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کے بارے میں ، (حصہ ششم/آخر)

زباں فہمی295 ؛ کچھ اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کے بارے میں ، (حصہ ششم/آخر) ؛ تحریر : سہیل احمد صدیقی


سہیل احمد صدیقی September 06, 2026
زباں فہمی295 ؛ کچھ اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کے بارے میں ، (حصہ ششم/آخر) ؛ تحریر : سہیل احمد صدیقی

گزشتہ سے پیوستہ

خاکسار نے جب اس موضوع پر کام کا آغاز کیا تو اندازہ نہیں تھا کہ کس قدر مواد ہاتھ لگے گا، مگر بہرحال بڑی حد تک موضوع کا احاطہ ہوگیا۔ مشترکات کے ضمن میں ایک فہرست نقل کی جس میں اردو کے فرانسی فرہنگ کا مختلف شعبہ جات میں دخل، رواج اور استعمال واضح کیا گیا، ایک فہرست یا جَدوَل ایسے الفاظ یا فقرہ جات کی ہے جن کی جڑ ۔یا۔اصل ان دونوں زبانوں میں یکساں ہے اور انگریزی سے بھی اکثر مشترک ہے۔ بنیادی طور پر سنسکِرِت سے لاطینی (پھر ہم رشتہ زبانوں) کا تعلق ہی اس کا سبب ہے۔ وہ جَدوَل بھی یہاں پیش کرتا ہوں، مگر ایک نکتہ سنجی، اہل تحقیق کے لیے:

کیا وجہ ہے کہ فرانسی میں شامل و مروّج اردو /ہندوستانی الفاظ کا باقاعدہ جائزہ نہیں لیاگیا {جیسے خاکی(فرانسی تلفظ ’کاکی‘ حرف Hکے ساکن ہونے کی وجہ سے: (Khaki، پاجامہ /پجامہ یا علاقائی لہجے کے فرق سے پَئیجامہ (فرانسی میں : پی ژاماle pyjama, les pyjamas: واحد لو۔پی ژاما، جمع لے پی ژاما، آخری حرف Sساکن)، قمیض (فرانسی میں شے مِیز:Chemise) جو پلٹ کر اُردومیں آیا تو زیرجامہ شمیز کا لفظ متعارف ہوگیا۔ اس طرح متعدد اَور بھی ہوںگے}۔ اس تمہید کے بعد جَدوَل سے استفادہ کرتے ہیں:

اردو لفظ ’پیادہ‘ یعنی پیدل، فرانسی: a pied(آپی اے)، سَو یعنی 100، فرانسی cent(سَوں)، (اسی سے انگریزی سمیت متعدد زبانوں کے الفاظ بمعنیٰ سَو بھی جڑے ہوئے ہیں)، چیز یعنی شے، فرانسی chose(شوز)، گِریہ یعنی رونا ، فرانسی cri (خی)، دُبلا، فرانسی débil (دے بِل)، دانت ، فرانسی dent (دَوں) (یہی لفظ انگریزی میں Dentalبناتا ہے اور فارسی میں اس کا بھائی دنداں ہے)، دو یعنی گنتی کا دوسرا، فرانسی deux(دو)،دیو/دیوتا،فرانسی dieu (دِیو:خدا)، دَس یعنی گنتی کا دسواں، فرانسی dix (دِیز)، دینا، فرانسی donner (دونے)، انتڑیاں، فرانسی entrailles(آنت غئے) انگریزی میں Entrails، زانو یعنی گھُٹنا (اس لفظ کی جڑ تو فارسی میں ہے)، فرانسی genou (ژونُو)، جنتا یعنی عوام، فرانسی gens (ژاں)، گھونٹ، فرانسی goutte(گُوت)، گروہ ،فرانسی groupe(غُوپ)، انگریزی میں آخری e کے بغیر گروپ بھی وہی ہے، آٹھ یعنی گنتی کا آٹھواں، فرانسی میں huit(وِیت، hساکن) جو انگریزی میں جاکر Eightہوگیا، جوان، فرانسی میں jeune (ژون) جو اِنگریزی میں Youngبن گیا (یہاں بھی فارسی اصل نظر آرہی ہے)، مَیں، فرانسی me (مو)، تھوڑے فرق سے یہی انگریزی کا me یعنی’ مجھے‘ بھی ہے، اردو/فارسی لفظ مَمّہ/مَمّا، فرانسی mamelle (مامے)، یہی لفظ انگریزی سمیت متعدد زبانوں میں عورت کی چھاتی کے لیے بہ اختلاف ہجّا موجود ہے، اسی سے انگریزی لفظ mammal اور Mammalia بنے، اردو لفظ ماں یا فارسی الاصل لفظ مادر ، فرانسی mere (میغ) جو اِنگریزی میں Mother ہوگیا، مگر دنیا کی اکثر زبانوں میں تھوڑے بہت فرق سے مماثل الفاظ رائج ہیں جن کا ذکر ’زباں فہمی‘ کے ایک پرانے مضمون میں ہوچکا ہے، اردو میں ’میرا‘، فرانسی میں mon(موں) اور اِنگریزی میں My، اردولفظ مُردہ، فرانسی میں mort (موغ) جس سے ہم رشتہ الفاظ میں Mortal, Mortuary جیسے انگریزی الفاظ شامل ہیں، مرنا، فرانسی میں mourir (موغِیغ) کہلاتا ہے، درمیان/میان، فرانسی میںmoyen (موئیاں) بمعنیٰ بیچ(Middle )۔یا۔ اوسط( AVERAGE)، ناک، فرانسی میں nez (نے) جو اِنگریزی میں Nose ہوگیا، ناؤ ، فرانسی navire (ناوِیغ)، مزید دل چسپ بات یہ ہے کہ انگریزی لفظ navy کی بنیاد بھی یہی ’ناؤ‘ ہے، ہم اردو والے اگر ’بحریہ ‘ کی جگہ ’نیوی‘ کہیں تو کوئی حرج نہیں، اردوگنتی کا ’نو‘، فرانسی میں neuf(نُف) کس قدر قریب ہے، فارسی کے ’ نُہ‘ سے بھی، اردومیں حرفِ نفی یعنی نہ، فرانسی میں non/ne(نوں/نے) ]ایک دل چسپ انکشاف کروں: جب کسی کو فرانسی میں یہ کہنا ہو’بالکل ہی غلط‘ تو کہتے ہیں: Non ni pas (نوں نی پا) یعنی نہیں، نہیں، بالکل نہیں[، حیرت انگیز طور پر فرانسی میں بھی لفظ ’اُنگل‘ (انگلی) موجود ہے ongle(اونگل)، مگر اُس کا مطلب وہاں ناخن ہے، اردو میں تو جسم اور سردونوں ہی کے بال، بال کہلاتے ہیں، مگر فرانسی میں poil(پوال) کا مطلب ہے جسم کے بال، اردو اور فارسی میں ’کہ‘، حرفِ ربط ہے، فرانسی میں اسے que(کُو) کہتے ہیں اور یہی لفظ ’کیا‘ (What)کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، ہمارے یہاں بعض گھرانوں میں والد کو ’’پاپا‘‘ کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے، papa فرانسی میں بھی موجود ہے، یہ وہاں خالصاً بچّوں کی آواز پر مبنی نام ہے، جبکہ یونانی میں páppas (father or daddy) (پاپا، آخری حرف ساکن) اور لاطینی (Latin) میں بھی) papa (father موجود ہے اور پاپائے روم کے اسم ِخاص’پوپ‘ (pope)کی بنیاد بھی یہی لفظ ہے;سن سولہ سواَسّی (1680s) کے عشرے میں پاپا، فرانسی سے انگریزی میں داخل ہوا (ضمنی بات یہ ہے کہ یونانی میں دادا کو  pappos، پاپو کہتے ہیں)، ہندوستانی (اردو، ہندی) لفظ ’راجہ/راجا‘ بھی فرانسی میں roi (غوئی) کی شکل میں محفوظ ہے، اردو لفظ ’سینہ‘ فرانسی میں sein (سیں) ہے،اردو کا ’اِتنا‘، فرانسی میں tant (تاں) ہے، اردوگنتی کا تین، فرانسی میں trios (ظاہری شکل سے قطع نظر، ت+خوا ، تھوک جیسی آوازمیں) ہے، اردو کی طرح فرانسی میں بھی آپ، تم اور تُو کا اپنا اپنا محل اور مقام ہے، وہاں تُو کو tu (تُو، مگر پُچار کے ساتھ) ہی کہتے ہیں، بیوہ کو فرانسی میں veuve (وووْ، جزم کے ساتھ) اور رَنڈوے کو veuf (وُف) کہتے ہیں، اردو لفظ کا مصدر، سنسکِرِت کا ’وِدھ وا‘ یا وِدوا ہے جبکہ فرانسی لفظ کا ماخذ vidua لاطینی سے تعلق رکھتا ہے، یوں یہ بیوہ سے قریب لگتا ہے، اردو لفظ ’آواز‘ کے لیے فرانسی میں voix (ووا، آخری حرف ساکن) ہے جو بادی النظر میں اس لفظ کے صدیوں کے سفر میں تبدیل ہونے والی آواز ہ محسوس ہوتی ہے;ویسے فرانسی لفظ کی اصل vocemلاطینی ہے جس کا مطلب ہے آواز:"voice" or "sound"، انگریزی لفظ voice اسی کا ہم رشتہ ہے۔ آواز کا ماخذ ، قدیم اَوِستائی زبان کا vax(واش /واز) ہے جبکہ فرانسی لفظ کا ماخذ ، لاطینی میں ہے:vox۔

اردو کے محسنوں میں شامل فرانس کے عظیم مستشرق، ماہرِلسانیات گارساں دتاسی (گاخ ساں دوتاسیGarcin de Tassy)کو اُردو کا اوّلین باضابطہ وباقاعدہ پروفیسر کہاجاتا ہے جنھوں نے فرانس میں بیٹھ کر اپنے خطبات، مقالات اور کتب سے وہ بیش بہا مواد تالیف وتصنیف کرکے دنیا کے سامنے پیش کیا کہ آج تک عقل دنگ ہے۔ اُس دور میں جب وسائل اور رَسائل ِآمدورفت کی قلّت تھی ، رابطے محدود تھے، انھوں نے وہ کام کردکھایا کہ آج اکیسویں صدی میں بھی ممکن ہوتا نظر نہیں آتا۔ بقول پروفیسر زورؔ ’’دتاسی صحیح معنوں میں اردو کا پہلا باضابطہ پروفیسر تھا۔ اُس نے ہر وہ کام انجام دیا جو کسی زبان کے پروفیسر کو کرنا چاہیے اور اِس اعلیٰ پیمانے پر اَنجام دیا کہ وہ اردو کی پروفیسری کا جو معیار قائم کرگیا ہے، وہ عرصے تک دوسروں کے لیے بہترین نمونہ ثابت ہوگا۔ اگرچہ اُس کے زمانے میں چند دوسری جامعات میں بھی اردو کے پروفیسر موجودتھے، لیکن کسی نے اردو کی ایسی خدمت کی نہ کسی کو یہ عظمت حاصل ہوئی‘‘۔

1969ء کے اواخر میں دارالعلوم عُرف دہلی کالج کے سالانہ جلسے کا احوال گارساں دتاسی نے خوب نقل کیا اور اِس کے مندرجات نقل کرتے ہوئے اپنی بے لاگ رائے سے بھی نوازا۔ ایک طرف انھوں نے میرزا پور کے نمایندہ مولوی محمدعلی کی پُرجوش تقریر کا ایک اقتباس پیش کیا، پھر لکھا کہ ’’موصوف نے مسلمانوں کو اَپنی حالت بہتر کرنے کے متعلق نہایت دل نشیں اور مؤثر اَلفاظ میں توجہ دلائی۔ اس تقریر کا اِتنا اثر ہوا کہ بعضوں کے آنسو نکل آئے اور بعض دھاڑیں مارکر رونے لگے‘‘۔ آگے چل کر موصوف نے لکھا کہ ’’کلکتّے کے مسلمانوں کی ادبی انجمن کے متعمد مولوی عبداللطیف بہادر ہیں جو مستقل معتمد معلوم ہوتے ہیں۔ یہ انجمن خوب ترقی کررہی ہے۔ اس قسم کی ادبی انجمنیں ہر بڑے شہر میں قائم ہورہی ہیں۔ علی گڑھ اخبار کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مغل سرائے کی انجمن، خاص جو ش وانہماک کے ساتھ، کارگزار ہے۔ اس انجمن کے پچھلے جلسے میں بابو اَمبکا چون چٹر جی نے ’انسان اور اُس کے فرائض ‘ پر ایک نہایت فصیح وبلیغ تقریر کی، اس کے علاوہ بابو دِینا ناتھ گنگولی نے ایک نہایت دل چسپ تقریر فرمائی جس میں انھوں نے ہندوؤں کے مشہور تیرتھ ہردوار کے سفرکے کوائف بیان کیے۔ یہ انجمن ،ہندُستانی زبان (اردو) کے ذریعے اہلِ ہند کی تعلیم کے لیے بھی خاص طور پر کوشاں ہے‘‘۔ دتاسی نے ہندوؤں کے یہاں بیواؤں کے عقدِ ثانی کے رِواج کی کاوشوں کا ذکر کیا اور ساتھ ہی برہمو سماج اور اُس کے مقابل دھرم سبھاکا بھی۔ موصوف نے ہندوسماج میں ہونے والی اصلاحی مساعی کا بھی بغور جائزہ لیا ۔ یہاں لائق صدتحسین بات یہ ہے کہ وہ ہندوستان کے اخبارات سے بھی کماحقہ‘ مستفیض ہوتے تھے۔ دتاسی کے اس خطبے میں انگلستان جانے والے متعدد مشاہیرِ ہند کا ذکر ملتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اردو، ہندی اخبار ’مِرأۃ‘ کے مدیر جناب وجاہت علی نے لندن کی سیر کے بعد، اپنے ہم وطن لوگوں کے لیے 110صفحات پر مشتمل باتصویر ’آئینہ لندن‘ شایع کیا۔ اسی خطبے میں ’اردو۔ہندی‘ تنازُع کا بھی ذکر موجود ہے۔ اس کی تفصیل الگ مضمون کا تقاضا کرتی ہے۔ گارساں دتاسی نے بلاجھجک لکھا کہ ’’کوئی مانے نہ مانے، لیکن یہ مُسلّم ہے کہ اردو، اور دوسری زبانوں کے مقابلے میں زیادہ مستعمل ہے‘‘ ۔ مزید تفصیل سے آگاہ کرتے ہوئے انھوں نے 1869ء میں ہندوستان میں پھیلنے والی وبا ء چیچک کا بھی ذکر کیا۔

گارساں دتاسی کے عہد میں متعدد غیرملکی اور مستشرقین اردو زبان واَدب کی خدمت میں مشغول تھے، مگر کسی نے اُن کی طرح مسلسل اور بالتحقیق اتنا کام نہیں کیا کہ اُسے شہرتِ دوام ملتی۔ انھوں نے میر تقی میرؔ کی مثنوی ’’اژدرنامہ ‘‘ کا فرانسی میں ترجمہ کرکے 1826ء میں شاہی مطبع سے شایع کروایا، 1829ء میں ہندوستانی یعنی اردو زبان کا قاعدہ مرتب کرکے شایع کروایا اور پھر 1834ء میں اس کا ضمیمہ۔ دوتین برس مسلسل مطالعے کے بعد، ولیؔ گجراتی دکنی کے دیوان کے قلمی نسخوں کا تطابق کرتے ہوئے ولیؔ کا ایک عمدہ دیوان مرتب کیا جو 1834ء میں شاہی اہتمام سے شایع ہوا۔ اسی سال انھوں نے تحسین الدین کی مثنوی ’کام رُوپ‘ کا اپنی زبان میں ترجمہ کیا اور پھر اَصل کتاب بھی اگلے سال شایع کردی، جبکہ اسی محقق نے ’گل بکاؤلی‘ کا بھی فرانسی میں ترجمہ کیا۔ ان کی تحقیقی مساعی کا نقطہ عروج ’تاریخِ ادبیات ِہندوی و ہندوستانی‘ جیسا کارنامہ 1839ء میں انگلستان کی رائل ایشیاٹک سوسائٹی کے زیراہتمام منظرِعام پر آیا جس کا انتساب، ملکہ وکٹوریہ کی اجازت سے اُنہی کے نام کیا اور پھر 1846ء میں دو ضخیم جلدو ں پر مشتمل کتاب پیرس سے شایع کی اور 1870ء میں یہی کتاب تین جلدوں پر مشتمل شایع کی۔ ان کا یہ کارنامہ بلا شبہ تاریخی اور تاریخ ساز تھا۔ دتاسی کے ہم عصر مستشرقین کا کام بھی اپنی جگہ اہم ہے اوربشرط ِ فرصت و صحت اس بابت بھی لکھا جاسکتا ہے۔

مآخذ

۱۔ گارساں دتاسی اور اُس کے ہم عصر بِہی خواہانِ اردو از ڈاکٹر سیّد محی الدین قادری زورؔ ، حیدرآباد، دکن:1941

۲۔ مقالاتِ گارساں دتاسی، جلد اوّل(1870ء تا 1873ء)، انجمن ترقی اردو،ہند (دہلی): 1943

۳۔ مغربی زبانوں کے ماہر عُلماء۔ علی گڑھ کالج کے قیام سے پہلے از پروفیسر سید محمد سلیم، ادارہ تعلیمی تحقیق ، لاہور:1993ء

۴۔ اردو کے یورپین شعراء اَز شفقت رضوی ، مکتبہ رشیدیہ ، کراچی :1981

۵۔ حیدرعلی اَز نریندر کرشن سِنہا، مترجمہ اقتدارحسین صدیقی، ترقی اردو بیورو، دہلی ، چوتھا ایڈیشن :1959(چربہ اشاعت: لاہور۔1998)

۶۔اردو میں فرانسیسی الفاظ اَز محمد بن عمر، کتاب خانہ ، حیدرآباد(دکن):1954

7. Lexical Affinities between Urdu & French by Ahmad Ali Khan, Inst. of Languages, University of Punjab, Lahore; Eurasian Journal of Humanities, Vol. I, Issue I: 2015

8. Teaching of  Urdu Language in France by Shahzaman Haque, Plidam, INALCO, France; Paper written and read in the International Seminar  on 'Teaching Urdu and Women writers', held on 9-10 Septrember 2022, at University of Heidelberg, Germany

9. Encyclopaedia Britannica: Online  edition: www.britannica.com

10. The Oxford  Paperback French Dictionary (French-English/English-French) by Michael Janes-Oxford, New York: 1991 edition

۔ختم شد۔