غزل
احمریں عارض و لب، چشم سیہ، بال سیاہ
زیب دیتے ہیں یہ دو رنگ تجھے لال، سیاہ
کیسے حالات میں جیتے رہے جلتے بجھتے
کن حوادث کے تھپیڑوں نے کیے گال سیاہ
غم کی بھٹّی میں جھلستی گئی پہچان مری
ہوگئے دودِ مشقت میں خد و خال سیاہ
بسترِ غم پہ ہوں اک عمر سے میں نوحہ کناں
ہاتھ سینے پہ دھرے، آنکھ پہ رومال سیاہ
تو کہ روشن مرے بجھنے سے ہوا ہے ورنہ
ترا ماضی تھا منوّر نہ مرا حال سیاہ
میں نے کل رات کہیں خواب میں دیکھا تھا اُسے
سرخ پوشاک پہ اوڑھے ہوئے اک شال سیاہ
مدح کرتے ہوئے اُس بت کی سخن میں صادقؔ
کردیا تم نے عبث نامۂ اعمال سیاہ
(محمد ولی صادق۔ کوہستان ،خیبر پختون خوا)
...
غزل
جس سے ہوا ہو، اُس کو بتایا ہوا نہ ہو
اتنا بھی اپنا عشق چھپایا ہوا نہ ہو
پیروں کی سمت سے ہے سروں پر زمیں کا بوجھ
اِس کو کہیں ہمی نے اٹھایا ہوا نہ ہو
پھینکا نہیں اُدھر کبھی اپنی طلب کا تیر
اُس نے جدھر نشان لگایا ہوا نہ ہو
یہ زندگی پھٹی ہوئی چادر ہے اور میں
وہ سوئی جس میں چھید بنایا ہوا نہ ہو
کر لوں اگر یہ دل مرا تبدیل ہو سکے
اُس دل سے جو کسی سے لگایا ہوا نہ ہو
(فرحان عارض۔ فیصل آباد)
...
غزل
کبھی تو عشق ہمیں اپنے آئنے میں اتار
بدن میں خود کو کسی خاص ذائقے میں اتار
میں عرش زاد تھا، اتنی کہاں خبر تھی مجھے
کہا نہیں تھا کہ خاکی کو طاقچے میں اتار
ہر ایک فکر کو وسعت کی اب ضرورت ہے
مری وفا کو محبت کے سلسلے میں اتار
یہ شعر شعر نہیں، دل کی دھڑکنیں ہیں مری
انہیں بھی اپنے لبوں کے ہی زاویے میں اتار
بہت بلند اڑانے لگا ہے مجھ کو غرور
سو میری خاک کو پھر کُن کے مرحلے میں اتار
مری اڑان پرندوں کی مثل ہو، یارب
مزاج ان کا بھی پھر میرے حوصلے میں اتار
مکانِ دل بھی بہت دیر سے اداس ہے یار
سو نور عشق کا اب دل کے قمقمے میں اتار
مری شکست کو اک روز اپنی فتح بنا
مجھے بھی درد کے گہرے سے تجربے میں اتار
یہ دشتِ ہجر مجھے راس آ گیا ہے، سو اب
ذرا سا ابر محبت کے راستے میں اتار
چہار سمت جو پھیلی ہے اک ضیا، یارب
کسی فقیر کی آنکھوں کے رتجگے میں اتار
(سرفراز ضیاء۔ للیانی، بھلوال)
...
غزل
برائے عشق سبھی رابطے لگے ہوئے ہیں
کہیں پہ دل تو کہیں پر دیے لگے ہوئے ہیں
ترے کلام کے تیور بتا رہے ہیں مجھے
تری زباں کو نئے ذائقے لگے ہوئے ہیں
تبھی تو اپنی محبت کا پیٹ کاٹتا ہوں
بہت سے پیٹ مری پشت سے لگے ہوئے ہیں
کبھی توجہ بھی کرنا ہمارے چہرے پر
یہاں پہ آنکھیں نہیں خوابچے لگے ہوئے ہیں
حدود اربعٰ مرا کم سمجھنے والے، سمجھ!
یہاں کنارے نہیں، حاشیے لگے ہوئے ہیں
ہمارے سائے کی تاثیر ایک جیسی ہے
تمھاری چھت سے مرے شاخچے لگے ہوئے ہیں
کوئی بھی زخم مجھے جان سے نہیں پیارا
مگر وہ تیر کہ جو آپ سے لگے ہوئے ہیں
یہ میرے شعر نئے زاویوں کے بانی شعر!
کہ ان میں قومے نہیں کافکے لگے ہوئے ہیں
(گل جہان۔ جوہرآباد)
...
غزل
ہم پر کوئی حق اپنا جتائے نہیں پسند
بس اک وہ! کوئی اس کے سوائے نہیں پسند
ہر بار وہ بہانے بنائے نہیں پسند
ہم گر نہیں تو کھل کے بتائے نہیں پسند
اس کی ہر اک پسند کو ہم نے کیا پسند
اور اب وہ ہم سے جان چھڑائے نہیں پسند
وہ شخص جو پسند تھا مل تو گیا مگر
جس شخص کو ملے، اسے آئے نہیں پسند
غربت کے ہاتھوں مارے ہوئے لوگ ہیں وسیمؔ
کیا ہم کو اس کی زلفوں کے سائے نہیں پسند
(سردار وسیم اکرم محبوبی۔ کیکوٹ، ہری پور)
...
غزل
تھا، بڑے قریوں سے بڑا متاثر تھا
میرا بچپنا گڈیوں سے بڑا متاثر تھا
ملک کے وزیروں نے میری سوچ آ بدلی
ورنہ میں پڑھے لکھوں سے بڑا متاثر تھا
جو کچل کے گزرے ہیں اسکی دونوں ٹانگوں کو
ریڑھی بان ان پہیوں سے بڑا متاثر تھا
ان میں دیکھنے سے کتراتا رہتا ہے کیوں، اب
تو تو، چیرویں آنکھوں سے بڑا متاثر تھا
شمع دان جب تک الٹے نہیں تھے موجوں نے
چاند! میں تری کرنوں سے بڑا متاثر تھا
یوں ہوا کہ مجھ کو ہی نوچنے چلے آئے
اس سے قبل میں گِدھوں سے بڑا متاثر تھا
ایک دفتری دھکے نے بنا دیا باغی
ایک شخص جو عہدوں سے بڑا متاثر تھا
پھر اسے سمجھ آنے لگ گئے مرے الزام
پہلے وہ مرے شعروں سے بڑا متاثر تھا
وہ گزرتے تھے کر کر کے ریاضتیں ساگرؔ
رستہ، اجنبی لوگوں سے بڑا متاثر تھا
(ساگرحضورپوری ۔قطر)
...
غزل
سرودِ طعنۂ دنیا پہ کان رہنے دے
خموشیوں کے حوالے زبان رہنے دے
ابھی تو پاؤں سے اُس نے زمین کھینچی ہے
تُو میرے سر پہ ابھی آسمان رہنے دے
میں گلستانِ عدم میں خوشی سے رہتا ہوں
یہیں رہوں گا، اگر باغبان رہنے دے
لکیر کھینچ کے بیٹھا ہوں اپنے چاروں طرف
مجھے رہینِ فریبِ گمان رہنے دے
یہی تو رختِ سفر ہے نئے سفر کے لیے
مرے بدن میں ذرا سی تھکان رہنے دے
اسی سے نکلیں گی سب لاشعور کی چیزیں
تہی دماغ میں امکان دان رہنے دے
تمام وحشی نکل آئیں گے نگر کی طرف
دہانِ غار پہ کوئی چٹان رہنے دے
مٹائیں گے سبھی نقطے نئی اشاعت میں
ابھی مکاں کی بجائے مکان رہنے دے
تُو اپنے کام کی چیزیں نکال لے مجھ سے
مگر مجھے تو مرے درمیان رہنے دے
(دائم فراز۔نارووال)
...
غزل
نابیناؤں سے پڑھوایا گیا ہوں
میاں بہروں کو سنوایا گیا ہوں
تمہارے شہر میں آیا نہیں تھا
تمہارے شہر میں لایا گیا ہوں
جنہیں میں بھول کر جینے لگا تھا
انہی سے آج ملوایا گیا ہوں
تماشا دیکھنا تھا چار دن کا
میں پہلے دن ہی دفنایا گیا ہوں
مرے دل میں ہیں سپنے کس جہاں کے
یہ کس دنیا میں فلمایا گیا ہوں
جنہیں پالا تھا اپنی آستیں میں
انہی سانپوں سے ڈسوایا گیا ہوں
چتا کی راکھ تھی مختار کب تھا
ہوا کے ہاتھ میں آیا گیا ہوں
(مختار مغل صائم، راولپنڈی)
...
غزل
ہزاروں نعمتیں ہوں ایک گھر نہیں ہوتا
مسافروں کا کوئی مستقر نہیں ہوتا
اک اضطرابِ درونی کے مارے پھرتے ہیں
دکانِ زیست کی خاطر ہنر نہیں ہوتا
گزر تو جاتا ہوں تاریک وادیوں سے میں
مگر یہ وقت بھی تنہا بسر نہیں ہوتا
مقام ان کا ہے دراصل اوجِ نوکِ سناں
حسین والوں کے کاندھوں پہ سر نہیں ہوتا
لحاظ رکھتا ہوں تعجیلؔ بے حسی کا بھی
بچھڑتے وقت میں با چشمِ تر نہیں ہوتا
(سید محمد تعجیل مہدی۔ جھنگ)
...
غزل
راہِ محبت میں دکھ سہنا اچھا لگتا ہے
دل کی بات نظر سے کہنا اچھا لگتا ہے
جب بھی کبھی ہجر کے پتھر دل پر بوجھ بڑھائیں تو
اشکوں کا آنکھوں سے بہنا اچھا لگتا ہے
چاندی سونے کے زیور بھی خوب مگر
سکھ کا حاصل ہو گر گہنا اچھا لگتا ہے
چھوڑ تو آیا ہوں مجبوراً لیکن یہ حقیقت ہے
یار کے کوچے میں ہی رہنا اچھا لگتا ہے
ہیں تو ملبوسات ہزاروں اس دنیا میں لیکن
شاہدؔ فقر کا جبہ پہنا اچھا لگتا ہے
(شمشاد حسین شاہد۔ سرگودھا)
...
غزل
یہ سعادت ہمیں توفیق ہوا کرتی تھی
شعر کہنے کو بھی تحریک ہوا کرتی تھی
جانے کس سمت گئی اپنے اندھیرے لے کر
زلف جو رات سے تاریک ہوا کرتی تھی
اب تو ازبر ہے ہر اک گل کو فسانہ کہ یہ شاخ
ڈرتے ڈرتے مرے نزدیک ہوا کرتی تھی
حرفِ اقرار تھا بے معنی بڑے لوگوں میں
اور انکار پہ تحقیق ہوا کرتی تھی
زندگی الجھی حکایت کی طرح ہم سے ملی
ورنہ کہتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہوا کرتی تھی
ہم نے چوپال نہیں چھوڑی جہاں پر اکثر
بات باریک سے باریک ہوا کرتی تھی
(قاسم رضا مصطفائی۔ شادیوال، گجرات)
...
غزل
زمیں پہ پھیر تھے نہ سر پہ آسماں ارسل
وہ ایک شخص جو مجھ سے ہوا جدا ارسل
کسی کے ہجر میں در در کی خاک چھانی ہے
نہ گھر رہا ہے نہ گھر کا کوئی پتہ ارسل
نہ جانے کتنے چراغوں کا خون شامل ہے
تبھی تو اتنا منور ہے راستہ ارسل
وہ ایک شخص میرے شہر سے گیا تو لگا
تمام شہر پہ چھایا ہے سانحہ ارسل
کبھی تو لوٹ کے آتا وہ خواب کی صورت
کبھی تو پوچھتا میرا بھی مدعاارسل
عجب نہیں کہ میں تنہائیوں کا عادی ہوں
میرا رفیق رہا درد ہی سدا ارسل
نصیب والوں کو ملتی ہے منزلِ مقصود
ہمیں تو مل نہ سکا کوئی نقش پا ارسل
میں اپنی ذات کے ملبے میں ڈھونڈتا ہوں اسے
کہ جیسے ڈھونڈ رہا ہو کوئی خدا ارسل
غزل کے شعر تو سب آہ بن کے نکلے ہیں
یہ لوگ کرتے رہیں پھر بھی واہ واہ ارسل
کبھی جو ذکرِ محبت کو چھیڑتا ہوں میں
لرزنے لگتی ہے آواز بے وجہ ارسل
(ارسلان شیر۔ نوشہرہ، خیبر پختون خوا)
سنڈے میگزین کے شاعری کے صفحے پر اشاعت کے لیے آپ اپنا کلام، اپنے شہر کے نام اورتصویر کے ساتھ ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں۔ موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘
روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی
موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘ روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی