پاکستان میں نئے ایڈ منسٹریٹو یونٹس بنانے کی بحث اس وقت اپنے عروج پر نظر آرہی ہے۔ اگر مقصد پورے ملک میں ایک نیشنل ڈائیلاگ کروانا تھا تو مقصد سو فیصد حاصل ہوگیا ہے۔ لیکن ہدف صرف بحث تو نہیں ہو سکتا۔ ہدف تو ایڈ منسٹریٹو یونٹس بنانا بھی ہے۔ اس لیے یہ جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ یہ نیشنل ڈائیلاگ مثبت رہا یا اس نے مسئلہ کو زیادہ متنازعہ بنا دیا ہے۔
اگر سندھ کے تناظر میں دیکھا جائے تواس بحث نے مسئلہ کو کافی متنازعہ بنا دیا ہے۔سندھ اسمبلی نے سندھ میں نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹس بننے کے خلاف قرارداد پاس کر کے مسئلہ کو کافی حد تک آئینی طور پر بھی متنازعہ بنا دیا ہے۔ اس ضمن میں ارباب اقتدار کی یہ رائے کہ پیپلزپارٹی نے بہت جلد بازی سے کام لیا ہے۔ ابھی کوئی ترمیم پیش نہیں ہوئی اور پیپلزپارٹی کو اندازہ ہے کہ ان کے بغیر کوئی ترمیم پیش بھی نہیں ہو سکتی۔ پھر سندھ اسمبلی سے قرارداد کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی۔
پارلیمان سے باہر ایک ڈائیلاگ جاری تھا۔ پیپلزپارٹی اس میں اپنا نقطہ نظر پیش کرتی۔ لیکن سندھ اسمبلی کی قرارداد سے ڈائیلاگ کو بریک لگانے اور سبوتاژ کرنے کی کوئی سیاسی ضرورت بھی نہیں تھی۔ صرف یہ اعلان ہی کافی تھا کہ ہم ایسی کسی ترمیم کو ووٹ نہیں دیں گے۔ انتہائی اقدام تک جانے کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی۔ تاہم پیپلزپارٹی نے اب یہ کر دیا ہے۔
باقی سیاسی جماعتیں بھی نیشنل ڈائیلاگ میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے پندرہ ایڈمنسٹریٹو یونٹس کے حق میں بیان دے کر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نیم رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
یہ درست ہے کہ اس ضمن میں مریم نواز کا کوئی پالیسی بیان نہیں آیا ہے جس کو پنجاب کی رائے سمجھا جائے۔ لیکن اسی طرح میاں نواز شریف اور وزیر اعظم شہباز شریف کی بھی کوئی براہ راست رائے سامنے نہیں آئی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے اپنی دوسرے درجہ کی قیادت سے نیم رضامندی ظاہر کروائی ہے۔ لیکن حتمی فیصلہ روک رکھا ہے۔ شائد تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کی پالیسی ہے۔ وہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔
ایم کیو ایم کھل کر میدان میں ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ایم کیو ایم کھل کر ایڈمنسٹریٹو یونٹس کے حق میں مقدمہ لڑ رہی ہے۔ اگر سندھ میں کوئی پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دے رہا ہے تو وہ ایم کیو ایم ہے۔ ایم کیو ایم میں بھی مصطفیٰ کمال سب سے زیادہ فرنٹ فٹ پر نظر آرہے ہیں۔ انھوں نے میڈیا میں ایڈمنسٹریٹو یونٹس کی بحث کو لیڈ کیا ہے۔ اور سیاسی محاذ پر بھی انھوں نے اس بحث کو لیڈ کیا ہے۔ ان کے بعد ایم کیو ایم کی باقی لیڈر شپ کو بھی بادل نخواستہ میدان میں آنا پڑا ہے۔ پہلے اکیلے مصطفی کمال بات کر رہے تھے۔ خالد مقبول صدیقی اور ان کے ساتھی بعد میں شامل ہوئے ہیں۔
یہ بھی درست ہے کہ اس نیشنل ڈائیلاگ کو بام عروج وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دیا۔ ان کی تقریر سے اس بحث کو سب نے سنجیدہ لینا شروع کر دیا۔ ویسے یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی تقریر کو سمجھا گیا کہ یہ اسٹبلشمنٹ کا پراجیکٹ ہے اور جس اتھارٹی سے محسن نقوی نے بات کی وہ ڈائیلاگ کو آگے بڑھانے والی کم اور حکم سنانے والی زیادہ تھی۔ اپنی دوسری تقریر میں انھوں نے صاف کہہ دیا کہ کوئی مخالفت کرے تب بھی یہ ایڈمنسٹریٹو یونٹس بن کر ہی رہیں گے۔ گو کہ انھوں نے فیصلہ ہی سنا دیا اور بحث کو سمیٹ دیا۔ یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ نیشنل ڈائیلاگ کو غیر ضروری قرار دے دیا۔
جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے وہ بہت محتاط کھیل رہے ہیں۔ نہ وہ نہ کر رہے ہیں نہ وہ ہاں ہی کر رہے ہیں۔ انھیں اندازہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے اس کھیل سے باہر ہونے کے بعد ان کی سیاسی حیثیت اور سیاسی بارگیننگ بہت بڑھ گئی ہے ۔ وہ واحد جماعت ہے جو اس کے حق میں ووٹ ڈالنے کا اعلان کرے تو دو تہائی اکثریت بن جائے گی اور پیپلزپارٹی کی سیاسی بارگیننگ ختم ہو جائے گی۔ اس لیے وہ اپنے آپشن کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے برملا کہا ہے کہ ہم اس موضوع پر کوئی بات نہیں کریں گے۔ ہم اپنے لیڈر کی ہدایات کا انتظار کریں گے۔ جس کا مطلب ہے کہ ہم سے بات کریں۔ہمارے لیڈر سے بات کریں۔
شائد پیپلزپارٹی کو بھی تحریک انصاف کی اس خاص پوزیشن کا اندازہ ہے۔ اسی لیے آج کل پیپلزپارٹی تحریک انصاف کی قربت حاصل کرنے کی کافی کوشش کر رہی ہے۔ پیپلزپارٹی کی طرف سے تحریک انصاف کی طرف سیاسی دوستی کا ہاتھ بڑھایا جا رہا ہے۔ آج کل وزیر اعلیٰ کے پی سندھ کے دورے پر ہیں۔ بلاول نے انھیں سندھ میں خوش آمدید کا ٹوئٹ کیا اور کہا کہ انھیں سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ چلانے کی بھر پور آزادی ہے۔ ورنہ اس سے پہلے جب سہیل آفریدی کراچی گئے تو ان کے ساتھ وہی سلوک ہوا تھا جو پنجاب میں ہوا تھا۔ لیکن اب سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی کی قیادت کی پالیسی بدلی ہوئی نظر آرہی ہے۔ سہیل آفریدی نے بھی بلاول کے خوش آمدید کا شکریہ ادا کیا۔
اس طرح دونوں طرف سے اشارے مل رہے ہیں۔ لیکن دوستوں کی رائے کہ ابھی تحریک انصاف بھی اشاروں کا کھیل کھیل رہی ہے۔ انھیں بھی اندازہ ہے کہ پیپلزپارٹی کو مثبت اشارے دے کر ان کی بارگیننگ کی طاقت بڑھ جائے گی۔اور ممکن ہے کہ مقتدرہ ان اشاروں کے باعث تحریک انصاف کو کوئی اچھی پیشکش کر دے۔ اس لیے ایک رائے یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کی پہلی چوائس مقتدرہ ہوگی۔ کس قیمت اور شرائط پر یہ الگ بات ہے۔
جے یو آئی (ف) کے مولانا فضل الرحمٰن کے ووٹ اب کوئی اتنی خاص اہمیت نہیں رکھتے ۔ ان کی وہ اہمیت 26ویں ترمیم تک ہی تھی۔ ان کی بات کی اہمیت ہے۔ وہ آج کل مقتدرہ سے کافی ناراض نظر آرہے ہیں۔ ان کی طرف سے سخت بیان آرہے ہیں۔ وہ بھی ایڈمنسٹریٹو یونٹس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن شائد ان کی مخالفت کو مقتدرہ کی مخالفت سمجھا جا رہا ہے۔ وہ بھی مان سکتے ہیں۔ لیکن وہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ ان کے ساتھ سیاسی طور پر کافی زیادتی ہوئی ہے۔
باقی حکومتی اتحاد کی چھوٹی جماعتیں جن میں استحکام پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) اور دیگر بھی ان یونٹس کے حق میں حصہ ڈالتی نظرآرہی ہیں۔ ان کے پر زور بیانات بھی سامنے آرہے ہیں۔ ان کی غیر مشروط حمایت بھی سامنے آرہی ہے۔ لیکن ان کی پارلیمانی طاقت کافی کمزور ہے۔ وہ اس بڑی لڑائی کے چھوٹے مہرے ہیں۔ نمبر گیم میں وہ اہم ہوں گے لیکن پہلے نمبر گیم کے بڑے کھلاڑی اہم ہیں۔ اس کے بعد ان کی باری ہے۔ نیشنل ڈائیلاگ میں ان کی آواز نظر آرہی ہے۔ لیکن سب ان کی سیاسی اہمیت جانتے ہیں۔ یہی حقیقت ہے۔