کسی کا کہنا ہے کہ مجھ پر شدید ظلم و تشدد ہو رہا ہے۔ بااختیاروں کا موقف ہے کہ ہم نے عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے تفصیلی طبی معائنے کے بعد آئی اسپیشلسٹ، کارڈیولوجسٹ سمیت بورڈ کی طرف سے صحت مند قرار دینے کے بعد ہی بانی کو پھر اڈیالہ منتقل کیا ہے جس پر کہا گیا کہ ہمیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، شاید کچھ عرصے بعد ہم اسمبلی کا حصہ نہ رہیں۔
حکومت کو پارلیمنٹ میں متحدہ اپوزیشن کے اعلان کے بعد یہ دھمکی بھی دی گئی ہے کہ ہم مجبور ہوئے تو عالمی عدالتوں میں جائیں گے کیونکہ عدالتوں سے اگر کبھی انصاف ملتا ہے تو حکومت عدالتی فیصلے پر عمل ہی نہیں کرتی۔ حکومتی موقف ہے کہ سزا یافتہ مجرم کو نجی اسپتال بھیجنا پرزن قوانین کی خلاف ورزی ہے جیل قوانین میں ایسا کوئی تصور موجود نہیں۔ سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ لیڈر وہی ہوتا ہے جو ڈیل نہ کرے۔
اس سلسلے میں ہر ایک کا موقف اپنی جگہ مگر یہ نہیں دیکھا جا رہا کہ اس ملک میں کیا ہوتا آ رہا ہے اور قوم کیا کچھ نہیں دیکھ چکی فرق صرف وقت کا اور حالات کا ہے۔ورنہ ملک میں کیا کچھ ممکن یا ناممکن نہیں ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ ماضی اور آج والے سب ہی متاثرین اور زیر عتاب رہے ہیں جس پر کہا جاتا ہے کہ یہاں تو اب بانی کو تکالیف سہتے ہوئے تین سال ہو گئے ہیں کچھ قوتیں نہیں چاہتیں کہ ہم موجودہ سسٹم کا حصہ رہیں ملک پر رحم کریں۔عوام کے ساتھ ہر بار دھوکا ہوا ہے۔
ہر سیاسی پارٹی نے عوام کو سبز باغ دکھائے‘ بڑے بڑے وعدے کیے‘ خود کو سچا اور دوسرے کو غلط ثابت کرکے ووٹ حاصل کیے مگر جب بھی کوئی سیاسی پارٹی برسراقتدار آئی تو صرف وعدوں اور چند نام نہاد فلاحی اور عوامی مگر خیراتی پالیسیوں کے سوا کچھ بھی ڈیلیور نہیں کر سکی پھر اپوزیشن کو بھی یہ کہنے کا موقع ملا کہ وعدے تو بڑے بڑے کرتے تھے مگر انھوں نے عوام کو مہنگائی اور بیروز گاری کے سوا کیا دیا ہے۔
یوں ہر سیاسی پارٹی کے دامن پر ناکامی اور نااہلی کا داغ نظر آئے گا۔ماضی اور حال کا ذکر تو حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی کرتی آئی ہیں اور حال کے حالات کا رونا متاثرین کر رہے ہیں مگر ملک کے مستقبل کی کسی کو فکر ہے نہ عوام کا احساس کہ وہ کس کرب سے گزر رہے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند کرا کر پاکستان سے متعلق دنیا کی سوچ بدل دی ہے۔ دنیا پاکستان کی اہمیت تسلیم کر رہی ہے اور بیرون ملک سے آنے والی مختلف اہم شخصیات کے آنے جانے کا سلسلہ ماضی میں کبھی نظر نہیں آیا تھا۔ پاکستان کے مختلف ممالک سے مختلف معاہدے ہو رہے ہیں۔
ملک کو قرضے اور امداد مل رہی ہے مگر اپوزیشن اور حکومت کے ناقدین یہ حکومتی دعوے تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ اپوزیشن حکومتی اقدامات پر سخت ناراض ہو کر لانگ مارچ کے منصوبے بنا رہی ہے کہ لوگوں کو اسلام آباد لے جایا جائے۔ اگلے ماہ کے لانگ مارچ میںتمام اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کو عوام کے مفاد میں آواز اٹھانے والی جماعت اسلامی کے لاہور کراچی اور پشاور میں جاری دھرنوں پر توجہ دینے کا وقت نہیں ملا کیونکہ ان دھرنوں میں کہا جا رہا ہے کہ حکمرانوں نے اپنی عیاشیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہم پاکستان کے عوام کا مقدمہ لڑ رہے ہیں مگر حکومت کو کوئی فکر نہیں اور پٹرولیم لیوی ختم کرنے، آئی پی پیز بند کرنے کے حوالے سے حکومت سے مذاکرات ضرور ہوں گے اس کے علاوہ کوئی بات نہیں ہوگی۔
جماعت اسلامی کے عوامی حمایت میں دیے گئے دھرنوں پر حکومت کی توجہ ہے نہ وہ دونوں کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔ پی ٹی آئی کو اپنے بانی کی سب سے زیادہ فکر ہے اور مولانا فضل الرحمن کو حکومت سازی پر نظرانداز کیے جانے کا غصہ ہے جس پر وہ ریاست اور حکومت سے سخت ناراض ہو کر انتہائی سخت بیانات دے چکے اور اب متحدہ اپوزیشن کے اتفاق کے لیے کوشاں ہیں ۔
عوامی حلقوں اور حکومتی ناقدین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے اپنے معاملات ہیں حکومت کے اپنے بلند و بانگ دعوے۔ عالمی معاہدے بھی ہو رہے ہیں۔ امریکا سے دس لاکھ ڈالر ملنے کی توقع ہے۔ حکومت آئی ایم ایف کے آگے پھیلائے ہوئے ہاتھوں سے تھک کر مزید قرضوں کے حصول کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ سعودی عرب میں سہ فریقی دفاعی معاہدہ ہو چکا۔ مختلف ممالک سے معاہدے ہو چکے جس سے ملک کو عزت ملی ۔
حکومت خوش ہے کہ کافی عرصہ قبل ہی وہ حج کے خواہشمندوں سے حج 2027 کے لیے ایک دن میں عازمین سے آٹھ ارب ستر کروڑ روپے وصول کرنے میں ضرور کامیاب ہو چکی ہے۔
ملک کے لوگ اپنے طور حصول روزگار کے لیے باہر جا رہے ہیں ملک کے لوگ شدید بے روزگاری اور مہنگائی بھگت رہے ہیں۔ کسی دوست ملک نے پاکستانیوں پر روزگار کے دروازے نہیں کھولے نہ عوام کو اپنے حالات میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن اپنے آپ میں مگن عوام سے لاتعلق رہ کر سیاست میں مصروف ہیں کوئی ملک و قوم کا نہیں سوچ رہا۔ ملک میں سیاسی افراتفری، اندرونی انتشار بڑھا تو ملک و قوم کا کتنا نقصان ہوگا۔ کیا اس سے ملکی ساکھ متاثر نہیں ہوگی۔ دھرنوں کا نقصان پہلے بھی اٹھا چکے۔ لانگ مارچ سے جانی و مالی نقصان کی ذمے داری کون قبول کرے گا ،اس لیے اب بھی وقت ہے کہ دونوں کچھ ملک و قوم کا سوچیں۔ سنجیدگی سے مل کر حالات بہتر رکھیں سیاسی استحکام لائیں تو ملک و قوم کو دونوں کی دور اندیشی کا صلہ مل جائے کاش!