صومالیہ میں مغوی پاکستانیوں کے احتجاجی اہلخانہ پر پولیس ٹوٹ پڑی، مظاہرین زیرحراست

پولیس نے مظاہرین کا سامان اٹھا کر پھینک دیا، پرامن احتجاج پر کریک ڈاؤن کرنا افسوس ناک ہے، مظاہرین


اسٹاف رپورٹر September 07, 2026

کراچی:

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے والے پاکستانیوں کے اہلخانہ کے احتجاج پر پولیس نے کریک ڈاؤن کردیا۔

شارع فیصل پر منسٹری آف فارن افیئر کے دفتر کے باہر پولیس نے مظاہرین کے خلاف کارروائی کی، جہاں پولیس نے دھرنے پر بیٹھے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا جبکہ مظاہرین کا سامان اٹھا کر بھی پھینک دیا گیا۔

مظاہرین کا اس موقع پر کہنا تھا کہ وہ اپنے پیاروں کی بحفاظت بازیابی کے لیے پرامن احتجاج کررہے ہیں۔ مظاہرین نے کہا کہ ان پر لاٹھی چارج کرنا اور گرفتاریاں کرنا افسوسناک عمل ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ احتجاج کا مقصد صومالیہ میں یرغمال بنائے گئے اپنے پیاروں کی بحفاظت بازیابی کے لیے آواز اٹھانا ہے۔

پولیس کے کریک ڈاؤن کے بعد متاثرہ فیملیز ٹیپو سلطان پولیس اسٹیشن پہنچ گئیں۔ ٹیپو سلطان پولیس اسٹیشن پہنچنے والی فیملیز نے زیر حراست افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

واضح رہے کہ صومالیہ میں قزاقوں کے ہاتھوں اغوا کیے گئے پاکستانیوں کے اہل خانہ نے وزارت خارجہ کے کراچی دفتر کے باہر اتوار کی شب احتجاج کیا، جہاں مظاہرین نے اپنے پیاروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ مغویوں کے اہل خانہ وزارت خارجہ کراچی کے دفتر کے باہر جمع ہوئے، جہاں مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم پرامن احتجاج کر رہے ہیں، ہمارے پاکستانی اغوا ہیں۔

مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صومالیہ میں قید پاکستانیوں کی بازیابی کے لیے فوری سفارتی اقدامات کیے جائیں۔  مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ احتجاج کے دوران پولیس نے انہیں فوری طور پر جگہ خالی کرنے کا کہا۔ مظاہرین کے مطابق پولیس انہیں گرفتار کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے اور ان کی لائٹیں بھی بند کی گئی ہیں۔

مظاہرین نے واضح کیا کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات نہیں مان لیتی، وہ احتجاج ختم نہیں کریں گے۔ اہل خانہ نے صومالیہ میں قید پاکستانیوں کی فوری بازیابی کا مطالبہ دہرایا۔