جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات پر بھاری ٹیکسز اور مہنگائی کے خلاف حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ سے قبل ٹرین مارچ کا اعلان کردیا۔
جماعت اسلامی نے حکومت کی جانب سے مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں ملک گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن کا آپشن بھی برقرار رکھا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ عوام کو ریلیف نہ ملا تو احتجاجی دھرنوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں کا آج 23واں روز ہے ۔ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ ان کے بقول دھرنوں سے عوام میں اپنے حقوق کے حوالے سے شعور پیدا ہوا ہے ۔ جماعت اسلامی عوام کی ترجمانی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ واضح ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 92 سے 97 ڈالر فی بیرل کے درمیان ہے، اس کے باوجود حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام پر بوجھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی، بالخصوص موٹر سائیکل سوار، بھاری لیوی اور ٹیکس ادا کر رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے مقررہ ہدف سے زیادہ پیٹرولیم لیوی وصول کی، جبکہ گزشتہ 4 برس میں ایف بی آر میں 5 ہزار ارب روپے سے زائد کی کرپشن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی اور اضافی ٹیکس عوام کو کسی صورت منظور نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کی تکنیکی کمیٹیوں کا پہلا اجلاس آج ہوگا۔ جماعت اسلامی کی کمیٹی ماہرین پر مشتمل ہے اور حکومت سے بھی توقع ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے متعلقہ شعبوں کے ماہر افراد کو نامزد کرے گی۔ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ مزید بڑھایا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ احتجاج کے 3 آپشنز موجود ہیں، جن میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن، اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اور اس سے قبل ٹرین مارچ شامل ہیں۔ انہوں نے کارکنوں کو تیار رہنے اور بڑے پیمانے پر موبلائزیشن کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین مارچ عام لوگوں کے ساتھ ٹرین میں بیٹھ کر کیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئی پی پیز کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے تو بڑے بڑے نقاب پوش بے نقاب ہوجائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں کا مقصد عوام کو تکلیف دینا نہیں بلکہ انہیں ریلیف دلانا ہے۔
انہوں نے اشرافیہ، بیوروکریسی اور ججز کو حاصل مراعات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ نام نہاد ایلیٹ اور عام آدمی کی زندگی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ سیکریٹری سطح کے افسران کو کئی کئی کنال کے گھر اور گاڑیاں ملتی ہیں جبکہ ان مراعات کا بوجھ عام شہری برداشت کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ارب پتی شخص کی گاڑی اور عام موٹر سائیکل سوار، دونوں ایک جیسا پیٹرولیم لیوی ادا کرتے ہیں۔ حکومت شرح سود میں ایک فیصد کمی کرے تو 563 ارب روپے سے زائد کا فائدہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بینکوں کے منافع پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھاری سودی ادائیگیوں نے ملکی معیشت پر بوجھ ڈال رکھا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے پنجاب کے سرکاری اسکولوں کے نتائج پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ صوبے میں غربت میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ حکومت نے 4 ہزار اسکول فروخت کیے ہیں۔
یوم ختم نبوت کے موقع پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے انہوں نے یوم فضائیہ پر ایئر چیف اور پاک فضائیہ کے اہلکاروں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب فوج ملک کا دفاع کرتی ہے تو قوم اسے سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے، تاہم فوج کی قیادت سے اپیل ہے کہ ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے فوج اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا ہوں۔
جماعت اسلامی کے امیر نے دھرنوں کے خلاف دائر عدالتی درخواستوں پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ جن عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں، وہاں دھرنوں کے خلاف درخواستوں پر بھی فوری کارروائی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت کو دھرنوں سے جتنی تکلیف ہوگی، اتنی ہی جلد عوام کو ریلیف دینا پڑے گا۔
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے الزام عائد کیا کہ پیپلزپارٹی اب ایک نسل پرست جماعت کے طور پر سامنے آگئی ہے، جبکہ مریم نواز بھی لسانی سیاست کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں سے متعلق معاملات آئین میں درج ہیں، اس لیے نئے صوبوں کے قیام سمیت اہم معاملات پر قومی سطح پر مذاکرات ہونے چاہییں۔
انہوں نے سندھ میں سرکاری اداروں اور تعلیم کے نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ صوبائی حکومت کو عوامی مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔