8 ستمبر1965ء؛ بھارت کے خلاف پاکستان نیوی کا تباہ کن آپریشن دوارکہ

رات کی تاریکی سے اجالا پھیلنے تک دشمن ملک بھارت نے صرف اپنی بربادی کا تماشا دیکھا


آفتاب خان September 08, 2026
(فوٹو: فائل)

سن 65 کی پاک،بھارت جنگ میں پاکستان نیوی نے 8 ستمبرکی شب تباہ کن آپریشن دوارکہ کا آغاز کیا۔ رات کی تاریکی سےاجالاپھیلنےتک سامان حرب سے لیس 6 بحری جنگی جہاز ڈسٹرائیر، فریگیٹس بحری جہازوں کے تابڑتوڑ حملوں کے دوران دشمن ملک بھارت نے صرف اپنی بربادی کا تماشا دیکھا۔ اہم سمندری مشن میں پاکستانی آبدوز پی این ایس غازی بھی سمندرکی 400 فٹ گہرائی میں موجود تھی،اس پیچیدہ آپریشن کےلیے پاک بحریہ کےجری افسران وجوانوں نے گہرے سمندرمیں 200ناٹیکل مائل( 370کلومیٹر) کا طویل سفرطےکرکےبھارتی حدود میں داخل ہوئے۔

تیکنیکی اعتبار سے ایک دشوار اور پیچیدہ سمندری آپریشن کے دوران پاک بحریہ کےجنگی جہازوں نے ساڑھے تین ہزار پاونڈز بارود کےگولے بیک وقت مشن پرداغ کردشمن ملک کے اہم تنصیبات کے پرخچے اڑادیے تھے۔

بمبئی کی بندرگاہ پر موجود پاک بحریہ کی آبدوز پی این ایس غازی بھارتی ائیرکرافٹ کیریئر سمیت دیگربحری اثاثوں کے راہ کی رکاوٹ بنی رہی۔

سن 65 کی پاک، بھارت جنگ کےدوران جب پاکستانی افواج مختلف بری اورفضائی محاذوں پردشمن ملک سے برسر پیکار تھی،اسی جنگی ماحول کے دوران 8 ستمبرکی ایک تاریک رات کوجب سمندرمیں ہر جانب گہرا سکوت طاری تھا، ایسےمیں پاک بحریہ کےجنگی بیڑے میں شامل پی این ایس بہادر، پی این ایس خیبر، پی این ایس بدر، پی این ایس جہانگیر، پی این ایس عالمگیر، پی این ایس شاہ جہاں، پی این ایس ٹیپوسلطان جبکہ آبدوز پی این ایس غازی شامل تھی۔

7 دیوہیکل بحری جنگی جہازدشمن کےدانت کھٹے کرنے کے لیے سمندر کے سینے پر کسی پہاڑ کی مانند موجود تھے۔ ان تباہ کن جہازوں کے ہمراہ 400 فٹ کی گہرائی میں آبدوز پی این ایس غازی بھی موجود تھی۔ آپریشن کی کمان اس وقت کے کمانڈر پاکستان فلیٹ کموڈور ایس ایم انور نے کی۔ دیگرافسران میں کیپٹن ایم اے کےلودھی، کمانڈرآئی ایچ ملک، کمانڈرکے ایم حسین، کمانڈراقبال ایف قادر، کمانڈر کرامت رحمن نیازی، کیپٹن اے حنیف، کمانڈرایس زیڈ شمسی، کمانڈر عامر اسلم، کمانڈرمحمد اسعمیل شامل تھے۔

پاک بحریہ کی جانب سے اس آپریشن کا آغاز انتہائی ناگزیر تھا کیونکہ جنگی محاذوں پر بھارت سے اڑنے والے جنگی بمبار جہازوں کو دوارکہ ریڈار سے تیکنیکی معاونت حاصل تھی۔ مشن کے انتہائی نزدیک پہنچ کر پاک بحریہ کے جنگی جہازوں کے توپوں کے دہانے پر سب سے پہلے بھارتی ہائی فریکوینسی ریڈارآیا۔ جس کے بعد نیول ائیر اسٹیشن، لائٹ ہاوس اوردیگراہم تنصیبات کو پے در پے نشانہ بنایا گیا۔

اس دوران دشمن ملک کی افواج صرف اپنی بربادی دیکھتی رہی اور پاکستان سے بحری اثاثوں کے لحاظ سےکئی گنا بڑی بھارتی بحریہ کوبھاری نقصان اورشکست فاش سے دوچار ہونا پڑا۔

دوارکہ آپریشن کےضرورت کے پیش نظر ایکسپریس نیوز نے پاکستان نیوی میں طویل عرصے تک خدمات سرانجام دینے والے وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) عرفان احمد ہلال امتیازملٹری وستارہ جرات سے خصوصی بات چیت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ سن 1965 کی پاک بھارت جنگ میں دوارکہ آپریشن ملک کے دفاعی لحاظ سے اور پاکستان نیوی کے لیے ایک بہت ہی اہم مشن تھا کیونکہ جنگی محاذ کھلنے کے بعد پاکستان ائیر فورس پر کشمیر میں بہت زیادہ دباو تھا، جس کے لیے فوری حکمت عملی انتہائی ضروری تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دو اہم مقاصد تھے،جس میں اولین یہ کہ دوارکہ میں ایک ریڈاراسٹیشن تھا، جو دشمن ملک کے بحری اورفضائی جہازوں کومدد فراہم کررہا تھا، جسےتباہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوسرا اہم مقصد یہ تھا کہ سمندر میں دشمن ملک کو کچھ ایسے حالات کا شکارکیاجائے جس کی وجہ سے نہ صرف اس کے راستے مسدود ہو بلکہ پاکستان کی جانب سے دفاع کا بھرپور ماحول پیدا ہوسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ خوش آئند بات یہ رہی کہ پاکستان نیوی کے بحری بیڑے میں شامل تمام جہازمکمل طور پر فعال تھے۔ دوارکہ آپریشن کی لیڈ کرنے والےکروزر میں کمانڈر پاکستان پاکستان فلیٹ ایس ایم انورخود موجود تھے۔ اس مشن میں 6 ڈسٹرائیر فریگیٹس ان کے زیرکمان تھے۔ یہ سارے بحری جہاز 200 ناٹیکل مائل (370کلومیٹر) کا سمندری سفرطے کرنے کے بعد بھارتی حدود میں دوارکہ پہنچے۔ انہوں نے رات میں بمباری شروع کردی، ہر بحری جہاز سے ایک ساتھ 50 راونڈز فائر کیے گئے۔ ایک راونڈ 100 پاونڈ وزنی تھا۔ اس مشن میں ساڑھے تین ہزارپاونڈزگولہ و بارود نے عمارت کوتباہ کیا اورجنگی ماحول پرگہرے اثرات چھوڑے۔ اس آپریشن نے نہ صرف بھارت پردھاک بیٹھی بلکہ پاکستان کی اجارہ داری اس بحری فوج کے سامنے قائم ہوئی، جو طاقت میں چارگنا بڑی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ بھارتی بحری جہاز اس عمل کے بعد مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے، سب سے نمایاں کردار پاکستانی آبدوز پی این ایس غازی کا تھا جو خطے میں واحد سب میرین تھی۔ پی این ایس غازی کو بمبئی کی ہاربر کے سامنے کھڑا کر دیا گیا جس کی وجہ سے انڈین ائیر کرافٹ کیریئر(سمندرمیں جنگی جہازوں کے ٹیک آف لینڈنگ کے لیے پلیٹ فارم) بھی بندرگاہ سے باہر نہیں آسکا۔ اس آپریشن سے ایک اور فائدہ یہ ہوا کہ پاکستان کے لیےایمونیشن لانے والے باغ جناح نامی جہازوں کودوارکہ آپریشن میں شریک جہازوں نے ہی تحفظ فراہم کرنا تھا تو یوں یہ سمندری راہداری بھی متوازن ہوگئی۔

وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) عرفان احمد کا کہنا تھا کہ دوارکہ آپریشن سے نہ صرف انڈین نیوی کی جنگی صلاحیتیں متاثر ہوئیں بلکہ بھارتی فضائیہ نے بھی محدود ہو کر کراچی ہاربر یا کسی دوسرے پاکستانی مقام پرمہم جوئی کی کوشش نہیں کی۔ دوارکہ آپریشن اگلی صبح تک مکمل ہوا۔

سن 65 کی جنگ 23 ستمبرتک جاری رہی۔ اس دوران پاک بحریہ سمندروں میں خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طورپرچوکنا رہی۔ سیزفائر کے بعد بحری اثاثے سمندر میں کچھ عرصے کے لیے موجود رہے تاکہ دشمن ملک بھارت کی جانب کوئی اورمہم جوئی نہ کی جاسکے۔