جنگ اب موبائل فون میں لڑی جا رہی ہے(آخری حصہ)

جدید جنگ کا ایک اہم مقصد دشمن کی فوج کو شکست دینا ضرور ہے مگر اس سے پہلے اس کے معاشرے کے حوصلے کو کمزور کرنا بھی ہو سکتا ہے۔


سرور منیر راؤ September 08, 2026

جدید جنگ کا ایک اہم مقصد دشمن کی فوج کو شکست دینا ضرور ہے مگر اس سے پہلے اس کے معاشرے کے حوصلے کو کمزور کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ اگر عوام خوفزدہ ہو جائیں، اداروں پر اعتماد کھو دیں، ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو جائیں اور ہر خبر کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگیں تو دشمن نے ایک بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ اس لیے پراپگنڈے کا مقصد ہمیشہ آپ کو کوئی خاص بات منوانا نہیں ہوتا۔

کبھی اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ کو کسی پر بھی یقین نہ رہے۔ جب ایک معاشرہ یہ سوچنے لگے کہ حکومت جھوٹ بول رہی ہے، میڈیا بک چکا ہے، تمام ادارے اور افسران وملازمین کرپٹ اور بددیانت ہیں، ہر سیاستدان جھوٹا اور بدعنوان ہے تو اجتماعی اعتماد ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے اور جس معاشرے کا اعتماد ٹوٹ جائے، اسے شکست دینے کے لیے ٹینک ،توپ کی ضرورت نہیں پڑتی۔

پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ پاکستان کے لیے یہ معاملہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم ایک ایسے خطے میں موجود ہیں جہاں جغرافیائی، سیاسی اور معاشی مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ بھارت، افغانستان، ایران، چین، امریکا، خلیجی ممالک اور عالمی طاقتوں کے ساتھ ہمارے تعلقات کا براہِ راست تعلق ہمارے قومی مفادات سے ہے۔ ایسے ماحول میں Information Warfare کو نظرانداز کرنا دانشمندی نہیں۔ ہم خود دیکھ چکے ہیں کہ سیاسی بحران ہو، دہشت گردی کا واقعہ ہو، سرحدی کشیدگی ہو یا کوئی بڑا قومی واقعہ… سوشل میڈیا پر چند ہی لمحوں میں افواہوں کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔

ایک خبر آتی ہے۔ پھر اس پر تبصرہ آتا ہے۔ پھر ایک جعلی ویڈیو سامنے آ جاتی ہے۔ پھر کسی نامعلوم اکاؤنٹ سے ایک ’’اندرونی خبر‘‘ آتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسا بیانیہ تشکیل پا جاتا ہے جس کی بنیاد شاید ایک جھوٹ پر ہوتی ہے، مگر اس کے اثرات حقیقی ہوتے ہیں۔ ہم خبر پڑھتے نہیں، خبر محسوس کرتے ہیں۔ یہاں ایک اور خطرناک حقیقت بھی ہے۔سوشل میڈیا کا الگورتھم ہمیں وہی چیز زیادہ دکھاتا ہے جس میں ہماری دلچسپی ہو۔ اگر ہم کسی خاص سیاسی یا نظریاتی سوچ کے حامی ہیں تو ہمیں اسی سوچ سے ملتا جلتا مواد زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ یوں ہر شخص اپنی ایک الگ انفارمیشن ورلڈ میں رہنے لگتا ہے۔ ایک شخص کے لیے جو ’’حقیقت‘‘ ہے، دوسرے کے لیے وہی ’’جھوٹ‘‘ بن جاتی ہے۔

ان سب چیزوں کا اثر یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں مکالمہ کم اور تصادم زیادہ ہو جاتا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو سننے کے بجائے ایک دوسرے کو شکست دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انفرمیشن وارفیئر کامیاب ہوتی ہے۔ یہ صحافت کے لیے سب سے بڑا امتحان ہے۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ انفارمیشن وارفیئر کے اس دور نئے دور میں صحافت اور صحافی کی ذمے داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ آج ہر شخص خبر دے سکتا ہے مگر ہر شخص صحافی نہیں ہے۔ صحافت کی اصل طاقت اس کی Verification، Context اور Credibility ہے۔ بریکنگ نیوز کی دوڑ میں اگر تصدیق پیچھے رہ جائے تو خبر انفارمیشن نہیں رہتی، نقصان پہنچانے والی تلوار بن سکتی ہے۔

ایک غلط خبر کسی فرد کی عزت تباہ کر سکتی ہے، کسی ادارے کے خلاف نفرت پیدا کر سکتی ہے اور قومی بحران کے دوران عوام میں خوف پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے آج کے صحافی کو صرف اچھا لکھنے یا بولنے والا نہیں ہونا چاہیے، اسے سچ اور جھوٹی خبروں کے درمیان تمیز کرنا ہوگی۔ ہم اکثر Fake News کے پھیلاؤ کا الزام حکومتوں پر ڈال دیتے ہیں لیکن مگر سوچنا یہ چاہیے کہ حکومتوں کی انفارمیشن بے بنیاد نہیں ہوتی بلکہ صحافی، وی لاگرز، تجزیہ کار جن ذرائع، سورسزسے خبر لیتے ہیں، وہیں سے فیک نیوز شروع ہوتی ہے۔ جب ہم کسی غیر مصدقہ خبر کو صرف اس لیے آگے بھیج دیتے ہیں تو ہم بھی اس انفارمیشن وار فئیر کا حصہ بن جاتے ہیں۔ صحافی کوایک لمحے کے لیے رک کرتجزیہ کرنا چاہیے:

خبر کا Source کہیں اسے استعمال تو نہیں کررہا ہے؟ خبر یا اطلاع کو ری چیک کیوں نہ کرلیا جائے، اور سب سے اہم: کیا یہ اطلاع یا خبر ملک و قوم کے اجتماع مفاد کے خلاف تو نہیں ہے ۔ اسی طرح تجزیہ کاروں کو بھی خبر دینے والے ادارے کی ساکھ ، رپورٹر یا خبررسان ایجنسی کی کریڈیبلٹی پر غور کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے ، پھر آخر میں خود احتسابی کرتے ہوئے یہ جائزہ لینا کہ ’’میں اس خبر یا اطلاع کو کہیں اس لیے سچ تو نہیں مان رہا ہوں کہ میں ایسا ہی ’’سچ‘‘ دیکھنا یا سننا چاہتا ہوں ہے۔

یہ آخری سوال شاید ہماری پوری ڈیجیٹل زندگی کا سب سے اہم سوال ہے۔ ہم اپنے بچوں کو ریاضی سکھاتے ہیں، سائنس سکھاتے ہیں، کمپیوٹر سکھاتے ہیں مگر انھیں یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ انٹرنیٹ پر ملنے والی ہر چیز حقیقت نہیں ہوتی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام میں میڈیا لٹریسی کے اس پہلو کو سمو دیں۔ ایک باشعور شہری جدید جنگ میں صرف تماشائی نہیں ہوتا۔ وہ قومی دفاع کی پہلی دیوار بھی بن سکتا ہے۔

پاکستان کو ایک جامع National Information Strategy کی ضرورت ہے جس میں حکومت، میڈیا، تعلیمی ادارے، Technology Experts اور Civil Society اپنا کردار ادا کریں۔ آج دنیا بدل نہیں رہی بلکہ بدل چکی ہے۔ جنگوں کے انداز بھی بدل رہے ہیں۔ آج ایک فوج سرحد پر کھڑی ہو سکتی ہے، دوسری فوج سرحد کے پار۔ مگر ان دونوں کے درمیان ایک تیسرا محاذ بھی قائم ہو چکاہے اور وہ ہے ہمارے موبائل فون کی اسکرین۔ یہاں کوئی وردی نہیں، کوئی مورچہ نہیں، کوئی توپ نہیں، صرف الفاظ ہیں، تصاویر ہیں، ویڈیوز ہیں، الگورتھم ہیں اور انسانی ذہن ہے اور شاید آنے والی دنیا کی سب سے بڑی جنگ یہاں ہی لڑی جا رہی ہے۔

آج کے دور کی جدید جنگوں کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہی ہے کہ دشمن کو شکست دینے سے پہلے ہمیں اپنے اندر کے انتشار، بے احتیاطی اور جھوٹ پر یقین کرنے کی اپنی عادت کو شکست دینا ہوگی کیونکہ آنے والی جنگ میں فاتح وہ نہیں ہوگا جس کے پاس سب سے زیادہ میزائل ہوں گے۔ فاتح وہ ہوگا جس کے پاس سچ کو پہچاننے والے سب سے زیادہ ذہن ہوں گے۔