مستحق بچوں کے کفالتی معاملات بیت المال دیکھے، سپریم کورٹ

2 ہندو نابالغ بچیوں کی رجسٹریشن ،شادی تک ماہانہ وظیفہ کا سندھ ہائیکورٹ کا حکم برقرار


حسنات ملک September 07, 2026

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مستحق بچوں کی کفالت جیسے معاملات بیت المال ہی دیکھے،عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کی جانب سے 2ہندو نابالغ بچوں کی کفالت کے لیے بیت المال کو ہدایت  پر عمل درآمد کا حکم برقرار دکھتے ہوئے رہنما اصول جاری کر دیے ہیں۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے 13 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ  آئندہ  ایسے مقدمات جہاں عدالت کے سامنے ظاہری حالات بیت المال سے رجوع کرنے کا تقاضا کرتے ہوں، یہی مناسب طریقہ کار ہوگا کہ متعلقہ شخص کے کیس کو غور کے لیے بیت المال کو بھیج دیا جائے۔

اس کے بعد بیت المال ضروری پالیسی، اہلیت کے معیار کے مطابق درخواست گزار کے حالات کا جائزہ لے  کرکسی خاص کیس کے لیے موزوں امداد کی شکل اور حد کا تعین کر سکتا ہے۔ 

یہ طریقہ کار عدالت کو کسی مستحق کیس کو  متعلقہفلاحی ادارے  تک پہنچانے کے قابل بناتا ہ اور اس کے ساتھ ہی اس فلاحی ڈھانچے کو بھی متاثر نہیں کرتا جس کے تحت اس ادارے کو اپنی امداد فراہم کرنی ہوتی ہے۔

سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں بیت المال کو2ہندو نابالغ بچیوں کو باقاعدہ مستفیدین کے طور پر رجسٹر کرنے اور ان میں سے ہر ایک کو10ہزارروپے ماہانہ وظیفہ، سالانہ 10 فیصد اضافے کے ساتھ شادی تک ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

مقدمے کے مطابق ہندو خاتون شریمتی ریتا  کے شوہرروی کمار نے2017میں خودکشی کر لی جس کے بعد خاتون  نے اپنی اوردو بیٹیوںجیسیکا اور سانیکا کی کفالت کے لیے آمدنی کا کوئی آزادانہ ذریعہ نہ ہونے پردادا رام راج سے خرچہ کیلئے فیملی کورٹ میں مقدمہ دائر کیا،  عمر رسیدہ رام راج کے پاس بھی آمدنی کا کوئی ذریعہ اور اپنی رہائش نہیں تھی، اور وہ  دھرم شالا میں رہائش پذیر تھا،

 فیملی کورٹ نے نفقہ کے دعوے کو منظور کرتے ہوئے رام راج کو حکم دیا کہ وہ ہر نابالغ بچی کو 3,000 روپے ماہانہ ادا کریں جس میں سالانہ 10 فیصد اضافہ بھی شامل ہو۔

رام راج نے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ دادا پر نابالغ بچوں کی کفالت کی کوئی قانونی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، فریقین میں سے کوئی بھی یہ ذمہ داری اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں جس پرعدالت نے بیت المال کو ہدایت کی کہ وہ جیسیکا اور سانیکا کو باقاعدہ مستفیدین کے طور پر رجسٹر کرے اور ہر نابالغ کو شادی تک 10,000 روپے ماہانہ، سالانہ 10 فیصد اضافے کے ساتھ ادا کرے۔

بعد میں بیت المال نے اس ہدایت کو سپریم کورٹ میں چیلنج  کیاتھا۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ  کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کی بیت المال سے رجوع کرنے کی ہدایت  میں کوئی قباحت نہیں ہے جہاں سامنے آنے والے حالات اس دائرہ کار کے اندر آتے ہوں جس کے لیے بیت المال قائم کیا گیا ہے۔