کراچی:
سرجانی ٹاؤن میں گھر کی چھت پر پانی کے ٹینک سے دو ماہ کی بچی کی لاش ملی، مقتولہ دو بھائیوں میں چھوٹی تھی۔
تفصیلات کے مطابق سرجانی ٹاؤن کے علاقے سیکٹر 7/B جامع مسجد حسنین کے قریب مکان نمبر L /31 کی چھت پر پانی کی ٹینکی سے 2 ماہ کی بچی کی لاش ملی، جسے ایدھی ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا، مقتولہ کی شناخت نور فاطمہٰ کے نام سے کی گئی۔
مقتولہ کے والد محمد علی نے ایکسپریس کو بتایا کہ وہ گارمنٹ کمپنی میں کام کرتا ہے، مقتولہ سے قبل اس کے دو بیٹے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب 4 بجے تک وہ بچی کے ساتھ کھیل رہا تھا اس کے بعد وہ سوگیا کہ الصبح اس کی بیوی نے اسے اٹھایا کہ منی کہاں گئی، اس نے اٹھ کر پورے گھر میں تلاش کیا لیکن بچی نہیں ملی، شور شرابہ سن کر پڑوسی آگئے اور انہوں نے کہاں کہ چھت پر ٹنکی میں دیکھو، جب ہم نے ٹنکی میں جا کر دیکھا تو بچی کی لاش اوپر ہی تیر رہی تھی۔
علاقہ مکینوں نے پولیس کو اطلاع کی، پولیس نے موقع پر پہنچ کر بچی کے والد اور والدہ سے بیان لیا، جس جگہ سے لاش ملی تھی اس ٹنکی کا جائزہ لینے کے بعد ایدھی کی ایمبولینس طلب کر کے بچی کی لاش اسپتال کے لیے روانہ کی۔
جاں بحق ہونے والی بچی کی والدہ ڈاکٹروں سے ضد کر رہی تھیں کہ ان کی بیٹی کے پیٹ سے پانی نکال دو ہو سکتا ہے وہ بچ جائے لیکن ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ مکمل معائنہ کر لیا ہے، بچی میں بلکل سانس نہیں ہے۔
والدہ کا کہنا تھا کہ پولیس نے بچی کی لاش اسپتال لانے میں بہت دیر کی اگر بچی کو بروقت اسپتال پہنچایا جاتا تو وہ بچ سکتی تھی جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ان کی بچی کو جس نے پانی کی ٹینک میں ڈالا اس کے خلاف پولیس کو قانونی کارروائی کرنی چاہیے، انہیں یقین ہے کہ ان کی بچی کو قتل کیا گیا ہے تاہم قتل کس نے کیا اس حوالے سے انہوں نے خاموشی اختیار کر لی۔