سپریم کورٹ میں ایف بی آر افسران کو ہیڈ کوارٹر الاؤنس دینے کے معاملے پر سماعت ہوئی۔ وکیل ایف بی آر نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کو ایگزیکٹو الاؤنس دیا جاتا ہے، جبکہ ایف بی آر ملازمین کو ایگزیکٹو الاؤنس کی بجائے ہیڈ کوارٹر الاؤنس دیا گیا۔ ٹائم اسکیل والے ملازمین کو یہ الاؤنس نہیں دیا جاسکتا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اس کی منظوری وزیر اعظم نے دی تھی؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے الاؤنس کی سمری فوری منگوانے کی ہدایت کی تاکہ حقیقت کا پتا چل سکے۔ عدالتی حکم پر دوران سماعت ایف بی آر ہیڈ کوارٹر الاؤنس کی سمری منگوائی گئی۔
وکیل ایف بی آر نے بتایا کہ یہ الاؤنس 17 گریڈ کے افسران کے لیے ہے، جبکہ موجودہ درخواست گزار گریڈ 17 کے ملازمین نہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سمری میں ایسی کوئی بات نہیں لکھی۔ اگر ایف بی آر ٹائم اسکیل ملازمین کو علیحدہ کرنا چاہتا ہے تو دوبارہ سمری بھجوا دے۔
وکیل ایف بی آر نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ کیس سروس ٹریبونل کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اور استدعا کی کہ عدالت فنانس ڈویژن کو نوٹس جاری کرے۔ سپریم کورٹ نے سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ایف بی آر کی اپیلیں خارج کردیں۔
ایف بی آر کے 40 سے زائد ملازمین نے ٹائم اسکیل کی بنیاد پر الاؤنس کے لیے درخواست دائر کی تھی۔ سروس ٹریبونل نے ملازمین کے حق میں فیصلہ دیا تھا جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھا۔