امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ نے دنیا بھر میں نئی بحث چھیڑ دی جس میں انہوں نے چاند کی تصویر کے ساتھ ’’چاند ہمارا ہے‘‘ لکھا۔
پوسٹ حقیقی ہے، لیکن کیا اس کا مطلب واقعی یہ ہے کہ امریکا نے چاند پر اپنی ملکیت کا اعلان کر دیا ہے؟

دعویٰ کیا ہے؟
6 ستمبر کو ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر چاند کی تصویر شیئر کرتے ہوئے ’چاند ہمارا ہے‘ لکھا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ پھیل گیا کہ امریکی صدر نے چاند کو امریکا کی ملکیت قرار دے دیا ہے۔


حقیقت کیا ہے؟
فیکٹ چیکنگ کے مطابق ٹرمپ کی مذکورہ پوسٹ حقیقی ہے اور اس کے الفاظ بظاہر چاند پر امریکی ملکیت کا تاثر دیتے ہیں۔
تاہم اسے امریکا کی جانب سے چاند پر باضابطہ قانونی دعویٰ قرار دینا درست نہیں۔ پوسٹ کے ساتھ کوئی ایگزیکٹو آرڈر یا ایسا قانونی اعلان جاری نہیں کیا گیا جس سے چاند امریکی علاقہ بن جائے۔
کوئی ملک چاند کا مالک نہیں بن سکتا:
امریکا 1967 کے آؤٹر اسپیس ٹریٹی کی توثیق کر چکا ہے جس کے آرٹیکل II کے تحت کوئی بھی ملک خودمختاری، قبضے یا کسی دوسرے ذریعے سے چاند سمیت کسی آسمانی چیز کو اپنی قومی ملکیت قرار نہیں دے سکتا۔
چین، روس، بھارت اور جاپان سمیت خلائی سرگرمیوں میں شامل کئی دیگر ممالک بھی اس معاہدے کا حصہ ہیں۔
نتیجہ
ٹرمپ نے واقعی ’’چاند ہمارا ہے‘‘ لکھا تھا، لیکن امریکا نے چاند کو باضابطہ طور پر اپنی سرزمین قرار نہیں دیا۔ لہٰذا وائرل پوسٹ حقیقی ہے، مگر اسے قانونی طور پر چاند پر امریکی ملکیت کے اعلان کے طور پر پیش کرنا گمراہ کن ہو گا۔