کراچی:
تشدد کا نشانہ بننے والے جامعہ کراچی کے پروفیسر سے معافی مانگنے ملزم کے والد ان کے گھر پہنچ گئے اور معافی تلافی کرکے معاملہ ختم کرنے کی درخواست کی۔ متاثرہ پروفیسر عارف ساقی نے ایکسپریس سے گفتگو میں بتایا کہ انہوں نے فوری مفاہمت کرنے سے انکار کردیا ہے تاہم واقعے کے حوالے سے قانونی کارروائی عدالت میں جاری ہے۔ دوسری جانب ہوٹل کے مالک علی گوہر شاہ کے معاملے سے پاکستان مسلم لیگ فنکشنل اور جی ڈی اے نے اظہار لاتعلقی کا اظہار کردیا۔
تفصیلات کے مطابق ایک ٹریفک تنازع کو بات چیت سے ختم کرنے کی کوشش کرنے والےجامعہ کراچی کے شعبہ علومِ اسلامیہ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عارف خان ساقی اور ان کے بھتیجے خود مبینہ تشدد کا نشانہ بن گئے۔
اس حوالے سے پروفیسر عارف ساقی نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا منگل کے روز صفورا چورنگی کے قریب ایک ہوٹل کے سامنے سیاہ ڈبل کیبن گاڑی سے مبینہ طور پر ہماری گاڑی کا ٹکراؤ ہوا میں نے ڈبل کیبن سوار افراد کو روک کرکہا کہ گاڑی کا نقصان پورا کردیں کیونکہ یہ ڈرائیور کی ذاتی گاڑی نہیں، غریب شخص چلا کر اپنی روزی کما رہا ہے، مگر معاملہ بات چیت کے بجائے مبینہ تشدد تک جا پہنچا پروفیسر عارف خان ساقی کے مطابق ان کے چہرے پر متعدد مرتبہ بٹ مارے گئے اور سر پر بھی گہرے زخم آئے ہیں جبکہ ان کے بھتیجے کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جو ڈرائیونگ کررہا تھا۔
پولیس نے واقعے میں ملوث دو ملزمان گل شیر اور تاج محمد کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ مرکزی ملزم تاحال قانون کی گرفت میں تاحال نہیں آسکا، واقعے کے بعد ہوٹل کے مالک متاثرہ پروفیسر عارف ساقی سے معافی مانگنے ان کے گھر پہنچے اور کہا، ’’معافی تلافی کرلیں، بچوں سے غلطی ہوگئی ہے۔‘
پروفیسر کے مطابق میں نے کہا، الفاظ کا چناؤ درست کریں، اسے غلطی نہ کہیں، یہ غنڈہ گردی ہے۔جو اصل مجرم ہے وہ گرفت میں لایا جائے تب تک صلح کی بات کرنا مناسب نہیں ہے ملزم کے والد نے دوبارہ آنے کی بات کی تو پروفیسر نے انہیں پیغام بھجوا دیا کہ وہ مصروف ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اصل ملزم کی گرفتاری سے قبل وہ کسی صلح یا معافی کی طرف نہیں جائیں گے اور معاملہ عدالت کے ذریعے ہی آگے بڑھے گا۔پروفیسر عارف خان ساقی نے بتایا کہ وہ 21ویں گریڈ کے پروفیسر ہیں لیکن آج بھی شان سے کرائے کے مکان میں رہتے ہیں۔ واقعے کے وقت استعمال ہونے والی گاڑی بھی ان کی اپنی نہیں تھی۔
وہ پہلے موٹر سائیکل پر سفر کرتے تھے، تاہم گزشتہ ہفتے ایک معمولی حادثے کے بعد موٹر سائیکل چلانا چھوڑ دی اور کرائے کی گاڑی پر سفر کرتے ہیں اسلامی تعلیمات سے وابستہ پروفیسر کا کہنا تھا کہ وہ طلبہ کو اخلاق، انسانیت، احترام اور برداشت کا درس دیتے ہیں مگر ان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے تشدد اور طاقت کے استعمال پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’بدمعاشی اور غنڈہ گردی کے کلچر کے خلاف کسی نہ کسی کو کھڑا ہونا پڑے گا۔
متاثرہ پروفیسر کے اہلخانہ نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے کہا استاد کا کام ہے سبق سکھانا اور وہ سکھا کر رہیں گے۔ ہم ظلم ہوتے ہوئے خاموش نہیں رہ سکتے ورنہ اس میں شریک ہو جائیں گے۔ انصاف کیلئے آواز بلند کی جائے گی۔
ادھر جامعہ کراچی کے اساتذہ اور طلبہ نے بھی واقعے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی اور مرکزی ملزم کی گرفتاری سمیت بلاامتیاز قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ فنکشنل نے جامعہ کراچی کے پروفیسر کے ساتھ بدتمیزی اور مبینہ تشدد کے حالیہ واقعے کو جی ڈی اے یا پی ایم ایل فنکشنل سے منسلک کیے جانے کی تردید کردی۔ پی ایم ایل فنکشنل کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ معتبر اخباری رپورٹس کے مطابق علی گوہر شاہ نے 19 اکتوبر 2023 کو بلاول ہاؤس کراچی میں صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا، جبکہ 20 اور 21 اکتوبر کو بھی مختلف اخبارات میں ان کی پیپلز پارٹی میں شمولیت اور پارٹی کو مضبوط بنانے کے عزم سے متعلق بیانات شائع ہوئے۔
ترجمان کے مطابق علی گوہر شاہ کی جانب سے خاندانی روایات کی پاسداری نہ کرنے کے باعث اکتوبر 2023 سے خاندانی تعلق بھی برقرار نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی فرد کے ذاتی عمل یا بیان کو پی ایم ایل فنکشنل یا جی ڈی اے سے منسوب کرنا حقائق کے منافی ہے۔
پی ایم ایل فنکشنل کے ترجمان نے سیاسی جماعتوں اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ وہ حقائق کی بنیاد پر مؤقف اختیار کریں اور غیر ضروری سیاسی پروپیگنڈے سے گریز کریں۔