میر رضا قتل کیس کی تحقیقات میں پیشرفت، اہم انکشافات سامنے آگئے

وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے لیے پہنچے


ویب ڈیسک September 10, 2026

وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے لیے پہنچے۔

جسٹس عمر سیال نے ضیا لنجار کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ آپ بھی ایک وکیل ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ حقائق سامنے لائیں۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ آپ نے اس حوالے سے بہت دفعہ بات کی ہے اور چیف جسٹس سے کمیشن سے متعلق درخواست بھی کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ والدین کو تحفظات ہیں، ہم انہیں دور کرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔ یہاں موجود اہلخانہ الگ الگ سوال کریں تو ان کے وکیل انہیں سن کر سوال کرتے ہیں۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے مداخلت کی گئی، میرے اسٹاف کو کہا گیا کہ کمیشن میں غلط ہو رہا ہے، مداخلت پر مجھے غصہ آیا۔

وزیر داخلہ ضیا لنجار نے کہا کہ میں اپنی طرف سے اور حکومت کی طرف سے معذرت چاہتا ہوں۔ میر سندھ کا بچہ ہے، حکومت چاہتی ہے کہ اہلخانہ کو انصاف ملے۔ جب پولیس اور تفتیش کرنے والے اداروں پر اعتماد نہ ہو تو ہم عدالت ہی کی طرف دیکھتے ہیں۔

ضیاء لنجار نے کہا کہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے آپ پر اعتماد کیا، ہمیں بھی آپ پر اعتماد ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ اصل حقائق سامنے آئیں۔ کمیشن کے ٹی او آرز بنائے گئے ہیں، کمیشن کے سربراہ اس معاملے کو بہتر سمجھتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ فریال تالپور اور ہمارا یہی ماننا تھا کہ اس کیس کو کیسے دیکھیں۔ اسٹینڈنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ کمیشن بنے۔ پہلے والدین کو اعتماد نہیں تھا، بحیثیت وزیر داخلہ میں ان کے اہلخانہ سے دل کی گہرائیوں سے تعزیت کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن کو جو چاہیے ہوگا، حکومت فراہم کرے گی۔ ہم چاہتے ہیں کمیشن اپنا کام کسی بھی رکاوٹ کے بغیر کرے۔ جو مداخلت ہوئی، اس پر معذرت کرتا ہوں۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ بہت شکریہ، ایڈووکیٹ جنرل بہت اچھے وکیل ہیں۔ مجھے امید ہے اور میں چاہتا ہوں کہ جواد ڈیرو ایڈووکیٹ جنرل رہیں۔ رجسٹرار کمیشن کو ہدایت کی گئی کہ وزیر داخلہ کو احترام کے ساتھ چھوڑ کر آئیں، جس کے بعد کمیشن کی کارروائی دس منٹ کے لیے ملتوی کردی گئی۔

جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن فریال تالپور کے کردار کو سراہتا ہے، وہ بھی ماں ہیں اور اہلخانہ کے درد کو محسوس کرتی ہیں، جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں۔

وقفے کے بعد جوڈیشل کمیشن نے دوبارہ ریگولر کارروائی شروع کردی۔ ڈاکٹر اسامہ کو جاری شوکاز نوٹس کا جواب کمیشن کے روبرو پیش کیا گیا، جس پر کمیشن نے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور ڈاکٹر اسامہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

جبران ناصر نے کہا کہ بزنس پارٹنر احمد کی جانب سے کمیشن پر الزامات لگائے گئے ہیں اور احمد کے وکیل نے اس حوالے سے کچھ انکشاف کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احمد کو دوبارہ بلایا جائے تاکہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہہ سکیں۔ کمیشن نے کہا کہ اس حوالے سے باقاعدہ درخواست دے دیں، جس پر جبران ناصر نے درخواست جمع کرانے کی یقین دہانی کرائی۔

کمیشن نے ایس ایچ او عدیل افضال، ہیڈ محرر ذیشان، ڈاکٹر سمیہ اور پروفیسر نسیم کو 14 ستمبر کو طلب کرلیا، جبکہ ڈاکٹر اسامہ کو ذاتی حیثیت میں 15 ستمبر کو طلب کیا گیا ہے۔

جوڈیشل کمیشن نے کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ سندھ نے سندھ حکومت کے شفاف تحقیقات کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیر داخلہ کے مطابق گذشتہ سماعت کے دوران غلط فہمی پیدا ہوئی۔ وزیر داخلہ کے مطابق حکومت نے کمیشن کی کارروائی چلانے سے متعلق کوئی ہدایت نہیں دی، کمیشن وزیر داخلہ کے فوری جواب اور معاونت کی یقین دہانی پر اظہار تشکر کرتا ہے۔ اہلخانہ کے وکیل نے بھی وزیر داخلہ کی وضاحت پر اظہار تشکر کیا۔ کمیشن کارروائی سے متعلق تنازع خوش اسلوبی سے حل ہوگیا ہے۔

تحریری حکمنامے کے مطابق کمیشن 14 ستمبر سے کارروائی کا دوبارہ آغاز کرے گا۔ پولیس سرجن ڈاکٹرسمعیہ سید، ایس ایچ او عدیل افضال کو پیشی کے لیئے نوٹس کیئے جاتے ہیں۔ ہیڈ محرر ذیشان کو بھی پیشی کے لیے نوٹس جاری کیئے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر اسامہ کا شوکاز نوٹس کا جواب غیر تسلی بخش اور حقائق سے گریز پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر اسامہ 15 ستمبر کو پیش ہوکر اپنے جواب کی وضاحت دیں۔

میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کو شہریوں کی جانب سے معلومات موصول ہونا شروع

دوسری جانب میر رضا کیس کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کے رجسٹرار عبد الماجد کو شہریوں کی جانب سے معلومات موصول ہونا شروع ہوگئیں۔

رجسٹرار کمیشن عبد الماجد کے مطابق 5 ای میلز اور واٹس ایپ پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ ایک شہری نے کہا ہے کہ میر رضا کے بائننس اکاؤنٹس سے متعلق اگر کمیشن کو معاونت درکار ہو تو فراہم کرسکتا ہوں۔ ایک شہری کی جانب سے ڈیجیٹل فٹ پرنٹس سے متعلق معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

شہری کی جانب فراہم کی گئی معلومات انوسٹیگیشن ٹیم کے ساتھ شئیر کی جائیں گی۔ ایک شہری کی جانب سے کیس میں ایک مشکوک شخص کی نشاندہی کی گئی ہے۔

شہری کا کہنا ہے اس شخصیت سے بھی تحقیقات کی جائیں۔ ایک شہری کی جانب سے آئی کلاؤڈ لاگ ان کرنے سے متعلق بھی اہم معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ کمیشن سے رابط کرنے والے شہریوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی۔

جوڈیشل کمیشن کے رجسٹرار عبد الماجد کے مطابق معطل ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ کی جانب سے شوکاز نوٹس کا جواب آگیا جو کہ ان کے والد نے جمع کرایا۔ صحافی کا موبائل فون چھیننے پر کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔

وزیر داخلہ سندھ کی کمیشن میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو

وزیر داخلہ سندھ نے جوڈیشل کمیشن میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک غلط فہمی کی بنیاد پر میر رضا جوڈیشل کمیشن نے انہیں طلب کیا تھا۔ انہوں نے میر رضا جوڈیشل کمیشن سے غیر مشروط معافی مانگی ہے۔

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کمیشن خوش اسلوبی سے کام کرے اور میر رضا کے ورثا کو انصاف ملے۔ میر رضا جوڈیشل کمیشن کا نتیجہ خیز ہونا ضروری ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ میر رضا کے قتل میں جو بھی لوگ ملوث ہوں گے، انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ فیملی کی جانب سے جے آئی ٹی بنانے کی درخواست عدالت نے مسترد کردی تھی۔

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ آج بھی کمیشن کو کہا ہے کہ انہیں جو بھی معاونت درکار ہوگی، ہم فراہم کریں گے۔

 میررضا کے دوستوں نے اہم معلومات جوڈیشل کمیشن کے سامنے کیوں نہیں رکھی؟ ناصر جبران

سندھ ہائیکورٹ میں جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ایڈووکیٹ جبران ناصر نے کہا کہ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو اسمارٹ واچ جیب میں لے کر گھوم رہے تھے۔ جب فارنزک کے لیے کوئی چیز بھیجی جاتی ہے تو اس میں ڈائریکشن بھی دی جاتی ہے۔ ہم تو یہ کہہ رہے ہیں اس میں خلل ڈالی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی ہماری ڈیمانڈ کا معاملہ پرسنل ہے۔ وزیر داخلہ نے آج کہا کہ وہ فیملی کے خدشات کو دور کرنا چاہتے ہیں۔ کمیشن میں جب احمد بھاردے  سے 15 سوال پوچھے گئے۔ آپ کمیشن کو بتاتے جو بھی اپکو معلوم ہے۔

جبران ناصر نے کہا کہ عدالت سے باہر نکلتے ہی انہیں بہت کچھ یاد آگیا تھا۔ اب وہ پوڈ کاسٹ میں آکر بہت کچھ بتا رہے ہیں۔ اب کمیشن کا کام ہے کہ انہیں دوبارہ بلا کر ان سے سوال پوچھیں۔

انہوں نے کہا کہ جو کچھ میڈیا پر بیان بازی ہوتی رہی ہے وہ سب کمیشن کے سامنے رکھ دی ہیں۔ان دوستوں کو جلدی کیا تھی ہمیں نہیں پتا لیکن وہ مشکوک ہیں۔ جب دو بھائیوں کے حوالے سے بات ہوتی ہے تو وہ ضمانت کے لئے چلے گئے۔

انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ پولیس انہیں نامزد کررہی ہے۔ ابھی وہ چہلم پر گھر آئے تھے کسی نے انہیں منع نہیں کیا۔ ڈیرھ ماہ میں انہوں نے فیملی کو کتنی بار کال کی یہ بھی ان سے پوچھا جائے۔ کمیشن میں سوال ہوئے سب ریکارڈ ہورہا ہے۔ احمد بھردے نے کہا کہ میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔

کمیشن کے دروازے سے باہر نکلتے ہی ان کو قرضے یاد آگئے۔ میڈیا کے سامنے جو رکھ رہے ہیں وہ کمیشن کے سامنے رکھیں۔ لین دین کے معاملات کمیشن کے سامنے کیوں نہیں رکھ رہے۔ کمیشن کو نہ بتانا پوڈ کاسٹ میں تفصیل بتانا لوگ خود کو مشکوک بنارہے ہیں۔ کمیشن کو فیملی کی جانب سے میڈیا رپورٹس پہلے روز جمع کراچکے۔

جبران ناصر ایڈووکیٹ نے کہا کہ کمرے گاڑی کی کیوں تلاشی لے رہےتھے ہمیں نہیں پتہ۔ گاڑی واپس کرنے کا جواب حیثم کی طرف سے آیا۔ ضمانت کی تیسری سماعت میں انہوں نے پولیس تفتیش کو گراؤنڈ بنایا۔ جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کے دوستوں نے اہم معلومات میڈیا کے بجائے جوڈیشل کمشن کے سامنے کیوں نہیں رکھی؟ ہم نے کسی کو مشکوک قرار نہیں دیا، لوگ خود اپنے آپ کو مشکوک بنا رہے ہیں۔

جی آئی ٹی کے مطالبے کا مقصد جوڈیشل کمیشن پر عدم اعتماد نہیں۔ ہمیں تو پتہ نہیں چلتا، لیکن پولیس میڈیا کے ذریعے چیزیں لیک کرتی ہے۔ گولی کے خول کی فارنزک رپورٹ کا میڈیا سے پتہ چلا۔ پولیس حکام کیس میں ابہام رکھ رہی ہے۔ حکومت کےپاس ابھی بھی اختیارہےکہ جی آئی ٹی بنائے۔

تفتیشی حکام کو ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ آج وزیر داخلہ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے ان کے شکر گزار ہیں۔ کمیشن کا اختیار ہے کہ میر رضا کے اہلخانہ سے سوالات کرے۔ ہمارا ہدف میر رضا کے قاتلوں کی گرفتاری اور اسکے پیچھے افراد کی نشاندھی کرنا ہے۔ ہم نے کمیشن کو بتایا اہلخانہ مطمئن ہیں۔ وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں، قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔

میر رضا کے بائنانس اکاؤنٹ میں کروڑوں روپے کی ٹریڈنگ کا انکشاف

ادھر کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے قتل کیس میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور حکام نے میر رضا کے بائنانس اکاؤنٹ کی تفصیلات حاصل کرلی ہیں۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کے مطابق میر رضا نے 2021 میں بائنانس اکاؤنٹ بنایا جس میں مجموعی طور پر 8 کروڑ 90 لاکھ یو ایس ڈی ٹی سے زائد کی خرید و فروخت کی گئی جب کہ میر رضا کو فیوچر ٹریڈنگ میں 3 کروڑ 49 لاکھ یو ایس ڈی ٹی سے زائد کا نقصان ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 2024 سے 2026 کے دوران میر رضا کو ایک لاکھ 39 ہزار یو ایس ڈی ٹی سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا جب کہ موت سے چند روز قبل 22 اور 23 جولائی 2026 کو بھی تقریباً 20 لاکھ یو ایس ڈی ٹی کا نقصان ہوا تھا۔

میر رضا کیس:کرائم سین سے پوسٹ مارٹم تک سنگین غلطیاں، اہم شواہد ضائع

اس کے علاوہ میر رضا کیس میں کرائم سین سے پوسٹ مارٹم تک سنگین غلطیاں سامنے آئی ہیں جب کہ اہم شواہد ضائع بھی کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق میر رضا کیس میں پہلے اور دوسرے پوسٹ مارٹم میں اہم سیمپلز نہ لیے جانے اور کرائم سین پر ایس او پیز کی سنگین خلاف ورزیوں پر فارنزک ماہرین نے حیرت کا اظہار کیا ہے۔

فارنزک ماہرین کا کہنا ہے کہ میر رضا کیس میں کرائم سین پر ایس او پیز کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں، میر رضا کی لاش کو جس وقت اٹھایا گیا نہ ہی کرائم سین کو کارڈن آف گیا اور نہ ہی لاش اٹھانے والے نے ہاتھ میں گلوز پہن رکھے تھے۔

فارنزک ماہرین کے مطابق جہاں سے لاش ملی اس کے تقریباً دگنے ایریا کو کارڈن آف کیا جانا چاہیے تھا، جتنے زیادہ علاقے کو کارڈن آف کیا جاتا ثبوت ملنے کے اتنے ہی امکانات بڑھ جاتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کرائم سین یونٹ کا بنیادی مقصد صرف جائے وقوعہ سے شواہد اٹھانا نہیں بلکہ پورے واقعہ کو محفوظ، دستاویزی اور قابل عدالتی ثبوت کی صورت میں محفوظ کرنا ہوتا ہے، کرائم سین یونٹ کی ذمہ داری تھی کہ وہ سب سے پہلے جائے وقوعہ کو محفوظ کرتا، لاش کو فوری طور پر نہ ہلایا جاتا، مکمل فوٹوگرافی اور ویڈیو بناتا، گولی کے زخموں اور کپڑوں کی حالت کو محفوظ بناتا،خول اور گولیوں کی تلاش کرتا، Bullet holes اور ٹریجیکٹری سے متعلق شواہد محفوظ کرتا، خون کے شواہد کو نظر انداز نہ کرتا، ہاتھوں اور جسم پر موجود شواہد محفوظ کرتا، کسی بھی چیز کو حرکت دینے سے پہلے اس کی حالت، مقام اور تعلق کو مکمل طور پر ڈاکومنٹ کیا جاتا۔

سینئر فارنزک ماہرین کا کہنا ہے کہ میر رضا کے دائیں ہاتھ میں جی ایس آر کے شواہد واضح طور پر موجود تھے، سینے پر نیل پڑنے کے نشانات تھے، دائیں ہتھیلی پر رگڑ کے واضح نشانات تھے تاہم ان پر بھی توجہ نہیں دی گئی، دائیں ہاتھ پر ممکنہ طور پر کسی رسی یا چیز کے نشان موجود ہیں جس کا ٹھیک طرح جائزہ نہیں لیا گیا، کسی حتمی اور مضبوط رائے کے لیے ضروری ہے کہ ہاتھ کے دونوں اطراف کا معائنہ کیا جاتا تاکہ نشانات کے تسلسل اور باقاعدہ پیٹرن کا جائزہ لیا جاسکتا۔

لیب رپورٹ کے مطابق میر رضا کے خون میں bupivacaine ( مقامی بے ہوش کرنے والی دوا) کے اجزا پائے گئے۔

ماہرین کے مطابق ٹریجیکٹری معلوم کرنے کے لیے لاش کا ایکسرے تک نہیں کیا گیا جو کہ بہت ضروری تھا، اگر گولی نے کھوپڑی، پسلی، ریڑھ کی ہڈی، بازو یا ٹانگ کی ہڈی کو متاثر کیا ہو تو ہڈیوں پر موجود نقصان ٹریجیکٹری کی reconstruction میں اہم ہو سکتا ہے، ایسے معاملات میں ایکسرے یا سٹی اسکین بھی مددگار ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب جسم ڈی کمپوز ہو۔

فارنزک ماہرین نے پہلے اور دوسرے پوسٹ مارٹم میں ناخنوں کے سیمپل نہ لیے جانے پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے۔

فارنزک ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کی موت گولی لگنے سے ہوئی ہو تو پوسٹ مارٹم کے دوران ناخنوں کے نمونے لینا بعض حالات میں انتہائی اہم ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فارنزک نقطہ نظر سے ناخنوں کے نمونے ایسے مشتبہ قتل کے کیس میں جہاں ہاتھا پائی، مزاحمت، دفاعی زخم یا مقتول اور حملہ آور کے درمیان جسمانی تصادم کا امکان ہو، ناخنوں کے نیچے موجود trace material ایک ممکنہ اہم ثبوت ہو سکتا ہے، اس میں دوسرے شخص کے ڈی این اے، خون، بال، کپڑوں کے ریشے یا دیگر ذرات شامل ہوسکتے ہیں، کیا دستیاب شواہد و حالات ایسے تھے کہ ناخنوں کے نمونے لینا فارنزک پروٹوکول کے تحت مناسب اور مفید precaution ہوتا؟

ماہرین کے مطابق اگر مزاحمت یا جسمانی تصادم کا امکان موجود تھا تو پہلے پوسٹ مارٹم کے وقت نمونے لینا زیادہ مناسب ہوتا کیونکہ اس مرحلے پر ممکنہ trace evidence نسبتاً بہتر حالت میں محفوظ ہو سکتا تھا، قبر کشائی کے بعد بھی ناخنوں سے ڈی این اے یا ٹریس مٹیریل ملنے کا امکان مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا لیکن ڈی کمپوزیشن ، environmental exposur handling اور شواہد کے آلودہ یا متاثر ہونے کی وجہ سے اس کی ثبوتی اہمیت متاثر ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے نزدیک اہم بات یہ بھی ہے کہ ناخنوں کا سیمپل بنیادی طور پر ڈی این اے / ٹریس ایویڈینس کے لیے ہوتا ہے اسے جی ایس آر کا متبادل نہیں سمجھنا چاہئے، اگر پہلے اور دوسرے دونوں پوسٹ مارٹم میں ناخنوں کے سیملپز نہیں لیے گئے تو اس کوتاہی یا بھول کو خود بخود کسی خاص نتیجے یا بدنیتی پر مبنی عمل کا ثبوت نہیں کہا جاسکتا، البتہ اگر کیس کے حالات و واقعات میں مزاحمت یا جسمانی حملے کا معقول امکان موجود تھا تو ممکنہ سراغی ثبوت جمع کرنے کا ایک فارنزک موقع ضائع ہونے کا امکان ضرور زیر غور آتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کے کرائم سین یونٹ میں ان اہلکاروں کی پوسٹنگ اور ٹریننگ ہونی چاہئے جنہوں نے سائنسز میں ڈگری لی ہو کیوں کہ تربیت یافتہ لوگ ہی ایس او پیز کے مطابق علاقے کو کارڈن آف کرسکتے ہیں اور لاش کو ایس او پیز کے مطابق ڈیل کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کرائم سین میں ڈاکٹر اور کسی فارنزک ایکسپرٹ کا ہونا بہت ضروری ہونا چاہئے، تھانے کے اہلکار جو کسی بھی واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچتے ہیں اور ریسکیو رضاکاروں کو بھی کرائم سین کو محفوظ بنانے کے حوالے سے خصوصی تربیت دینی چاہیے۔