زندگی کیا ہے

زندگی صرف ایک بار ملتی ہے۔زندگی کو اگر کسی چیز سے تشبیہ دی جائے تو شاید لفظ سفر اس کے لیے سب سے مناسب لفظ ہے۔


عبد الحمید September 11, 2026
[email protected]

زندگی ایک ایسا لفظ ہے جسے ہم روزانہ کئی بار سنتے اور بولتے ہیں لیکن جب یہ سوال کیا جائے کہ زندگی کیا ہے تو اس سوال کا جواب سیدھا اور آسان نہیں ہوتا۔ زندگی صرف سانس لینے،کھانے، پینے،سونے، جاگنے اور وقت گزارنے کا نام نہیں۔ زندگی احساسات، خیالات،جذبات، خواہشات، جدوجہد، کامیابی، ناکامی، محبت، نفرت، خوشی،غم، امید،نا امیدی زیر و بم اور خوابوں کا ایک وسیع سفر ہے۔ہر انسان زندگی کو اپنے تجربات،حالات اور نظریات کی روشنی میں دیکھتا ہے۔

اسی لیے زندگی کی کوئی ایک تعریف ایسی نہیں جو ہر انسان کے تجربے کو مکمل طور پر بیان کر سکے اور ہر ایک کو مطمئن کر سکے۔حیاتیاتی اعتبار سے زندگی ایک ایسی حالت ہے جس میں کسی جاندار میں نشوونما، بڑھوتی، توانائی کا استعمال،غذا کا حصول،ماحول کے ساتھ تعامل اور نسل کو آگے بڑھانے کی صلاحیت موجود ہو۔انسان، جانور، چرند،پرند،درخت اور بے شمار حشرات الارض زندگی کی نعمت سے مستفید ہوتے ہیں۔ایک پودا بیج سے پھوٹتا ہے،بڑھتا ہے،پھول اور پھل دیتا ہے اور پھر فنا سے دوچار ہو جاتا ہے لیکن انسانی زندگی محض حیاتیاتی عمل نہیں۔انسان کے پاس عقل، شعور، احساس ، جذبات ، اخلاق،جمالیاتی حس اور خواہشات ہیں۔ انسان ارادہ رکھنے والی مخلوق ہے۔ وہ اپنے وجود کے بارے میں سوال کرتا ہے۔

وہ سوچتا ہے کہ میں کیا ہوں،کون ہوں،کہاں سے آیا ہوں۔میں کہاں جاؤں گا۔اس زندگی کا مقصد کیا ہے۔مجھے یہ زندگی کیسے گزارنی چاہیے۔ میں بیمار نہیں ہونا چاہتا لیکن بیمار ہوتا ہوں۔ بڑھاپا کیوں کر ہے۔موت کیوں آتی ہے اور موت کے بعد کیا ہو گا۔کیا موت زندگی کا خاتمہ ہے یا یہ صرف کسی دوسری زندگی میں منتقل ہونا ہے۔اگر ایسا ہے تو وہاں زندگی کیسی ہو گی۔یہی سوالات انسان کو دوسرے جانداروں سے ممتاز کرتے ہیں۔

 زندگی صرف ایک بار ملتی ہے۔زندگی کو اگر کسی چیز سے تشبیہ دی جائے تو شاید لفظ سفر اس کے لیے سب سے مناسب لفظ ہے۔ایک مشہور گیت میں اسی کا تذکرہ ہے۔ زندگی کا سفر ،ہے یہ کیسا سفر ۔کوئی سمجھا نہیں،کوئی جانا نہیں۔انسان پیدائش سے موت تک مسلسل ایک سفر میں رہتا ہے۔اس سفر میں کبھی راستہ ہموار ہوتا ہے اور کبھی دشوار بلکہ انتہائی دشوار۔کبھی انسان کامیابی کی بلندیوں کو چھو لیتا ہے اور کبھی ناکامیوں کی گہرائیوں میں گر جانا پڑتا ہے۔

کبھی اسے خوشی ملتی ہے اور کبھی رنج و غم گھیر لیتا ہے۔زندگی کی خوبصورتی بھی شاید اسی میں ہے کہ یہ ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔اگر ہر وقت خوشی رہتی تو خوشی کی قدر و قیمت ختم ہو جاتی۔اگر ہر راستہ آسان ہو تو کامیابی اور منزل پا لینے کی خوشی بھی نہ رہے۔مشکلات انسان کو مضبوط بناتی ہیں اور ناکامیاں اسے اپنی کمزوریوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔اسی لیے زندگی میں مشکلات کا ہونا لازماً زندگی کی ناکامی نہیں بلکہ بقول فرانسس بیکن بعض اوقات مشکل حالات ہی انسان کی خوابیدہ صلاحیتوں کو آشکار کرتے ہیں۔وہ جو کہا گیا ہے کہ یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے۔ زندگی دراصل وقت کا دوسرا نام بھی ہے۔ ہر انسان ایک مقرر اور محدود وقت کے لیے یہاں ہے۔

انسان کے پاس جو سب سے قیمتی متاع ہے وہ زندگی اور وقت ہے کیونکہ دولت،رفعت،جائیداد اور دوسری بہت سی نعمتیں چھن جانے کے بعد دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہیں لیکن جو لمحہ گزر گیا،سو گزر گیا اسے لوٹایا نہیں جا سکتا۔اسی طرح ایک دفعہ زندگی ختم ہو جائے تو اس دنیا میں دوبارہ زندہ ہونا نا ممکن ہے۔ہم اکثر مستقبل کی فکر اور آس میں حال کو ضایع کر دیتے ہیں۔کبھی ہم ماضی کی غلطیوں پر کفِ افسوس ملتے ہیں تو کبھی آنے والے کل کے خوابوں میں آج اور موجودہ لمحے کو جو ہمیں میسر ہوتا ہے،بھول جاتے ہیں،حالانکہ زندگی کا حقیقی لمحہ وہی ہے جو ہمارے پاس ہے۔وقت ہمیں خاموشی سے یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی بہت مختصر ہے۔ بچپن کب جوانی میں بدل جاتا ہے،جوانی کب بڑھاپے کا روپ اختیار کرتی ہے انسان کو آپا دھاپی میں معلوم ہی نہیں پڑتا۔رابندر ناتھ ٹیگور نے کہا ہے کہ اگر دنیا میں کسی چیز کا حقیقی قحط ہے تو وہ وقت ہے۔کسی انسان کو بھی یہ وافر مقدار میں نہیں دیا گیا۔ اس لیے ایک دانش مند انسان وقت کی قدر کرتا ہے اور اپنے موجود لمحے کو بہترین بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

ہر انسان خوش رہنا چاہتا ہے لیکن یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ آخر خوشی کیا ہے اور کہاں سے،کیسے حاصل ہوتی ہے۔ یہ دیرپا کیوں نہیں۔بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ زیادہ انتظامی اختیارات، جسمانی قوتِ، زیادہ دولت،زیادہ اور بڑی قیمتی گاڑیاں، خوبصورت گھر،عزت اور بلند معاشرتی مقام ہی خوشی کی ضمانت ہیں۔ یہ چیزیں زندگی کو آسان ضرور بنا سکتی ہیں لیکن حقیقی خوشی اکثر شکرِ نعمت اور با مقصد زندگی سے پیدا ہوتی ہے۔خوشی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کی زندگی میں کبھی غم کا گزر ہی نہ ہو۔غم زندگی کو ایک ایسی حقیقت سے آشنا کرتا ہے جسے خوشی اکثر چھُپا دیتی ہے۔ حقیقت میں انسان کمزور بھی ہے اور فانی بھی۔غم ہی انسان کے اندر ہمدردی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ جو شخص خود غم سے آشنا ہوتا ہے وہ دوسروں کے دکھ کو زیادہ گہرائی سے محسوس کرتا ہے۔ اسی سے انسان کی خوبصورت شخصیت نکھر کر آشکار ہوتی ہے۔

زندگی ایک جہدِ مسلسل ہے۔دنیا میں شاید ہی کوئی بڑی کامیابی ایسی ہو جو مسلسل جدو جہد کے بغیر حاصل ہوئی ہو۔انسان کو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے۔طالب علم کھیل،تماشہ اور آرام کو تج کر تعلیم حاصل کرتا ہے۔کسان حبس،سخت گرمی یا سخت ترین سردی میں زمین کا سینہ چیر کر اور فصل کی مسلسل نگرانی کر کے،مزدور اپنا پسینہ بہا کر،سائنس دان تفکر، تدبر اور ریسرچ کر کے اپنا مقصد حاصل کرتا ہے اور ایک فن کار اپنی فنی صلاحیت کو نکھارنے کے لیے مسلسل مشق کرتا ہے۔زندگی میں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو مشکلات کے سامنے ہار ماننے سے انکار کرکے سینہ سپر ہو جائے۔

ناکامی کا مطلب ہمیشہ اختتام نہیں ہوتا،بلکہ بعض اوقات ناکامی،کامیابی کا زینہ بن جاتی ہے۔اگر انسان سے پوچھا جائے کہ تم کیوں زندہ ہو تو شاید بہت سے لوگ کوئی واضح جواب نہ دے سکیں لیکن با مقصد زندگی انسان کو سمت فراہم کرتی ہے۔ Senecaنے کہا ہے کہ جس کشتی کی کوئی منزل نہ ہو اس کے لیے کوئی ہوا بھی موافق نہیں ہو سکتی۔مقصد ہمیشہ بہت بڑا اور غیر معمولی ہونا ضروری نہیں،ہاں البتہ مقصد Challengingہونا ضروری ہے۔اگر انسان با اخلاق ہو اور اپنی ذمے داریوں کو سمجھ کر ایمان داری سے ادا کرے،دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے تو یہ بھی ایک خوبصورت مقصدِ زندگی بن سکتا ہے۔

زندگی کے بارے میں کچھ حقائق ایسے ہیں جو زندگی دینے اور اس کو موت سے ہمکنار کرنے والی پاک اور بابرکت ہستی کے علاوہ کوئی نہیں بتا سکتا۔اﷲ رب العزت نے اپنی آخری کتاب کی اکیسویں سورۃ الانبیاء کی آیت نمبر30میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے بنایا۔اس کا مطلب ہے پانی زندگی کا اہم ترین جزو ہے۔

آسٹرو فزکس سائنس دان مختلف دوربینوں کے ذریعے وسیع و عریض کائنات میں زندگی کے اس بنیادی جزو کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔اسی طرح قرآنِ کریم کی سورۃ الملک جو 29ویں پارے کی پہلی سورۃ ہے اس کی ابتدائی آیات میں ارشاد فرمایا کہ بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ساری کائنات کی بادشاہی ہے،جو ہر چیز پر قادر ہے،جس نے زندگی اور موت کواس لیے تخلیق کیا تاکہ دیکھے کہ تم میں سے کون بہترین عمل لے کر اس کے سامنے حاضر ہوتا ہے۔خدا کرے کہ ہم اپنے خالق و مالک کے سامنے ایمان اور بہترین اعمال سے مزین زندگی لے کر پیش اور سرخرو ہوں۔آمین۔