سعودی تیل پائپ لائن پر حوثی حملے کا خدشہ، سیٹلائٹ تصاویر نے کھلبلی مچادی

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی میں تیزی آگئی ہے


ویب ڈیسک September 11, 2026

ریاض: یمن کے ایران نواز حوثیوں کے حملوں میں اضافے کے دوران سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو ممکنہ طور پر نشانہ بنائے جانے کے خدشات سامنے آئے ہیں، تاہم پائپ لائن کو براہ راست نقصان پہنچنے کی آزادانہ تصدیق ابھی نہیں ہوسکی۔

رپورٹس کے مطابق مدینہ کے جنوب مشرق میں صحرا کے ایک علاقے سے دھوئیں کا بڑا بادل دیکھا گیا، جو سعودی تیل پائپ لائن کے ممکنہ راستے کے قریب واقع ہے۔ ناسا کے فرمز سیٹلائٹ ڈیٹا میں بھی اس علاقے میں متعدد تھرمل سرگرمیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق فرمز ڈیٹا کسی علاقے میں آگ یا غیر معمولی حرارت کی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے، تاہم اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آگ کس چیز میں لگی یا اس کے پیچھے کون ذمہ دار ہے۔ اس لیے پائپ لائن کو حوثی حملے میں نقصان پہنچنے کا دعویٰ فی الحال غیر مصدقہ ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی میں تیزی آگئی ہے۔ 8 ستمبر کو حوثیوں نے جازان، ابہا، نجران اور خمیس مشیط سمیت جنوبی سعودی عرب کے مختلف علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے، جن کے نتیجے میں تیل اور توانائی کی تنصیبات میں آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

سعودی عرب نے ان حملوں کے جواب میں یمن میں حوثی اہداف پر کارروائیاں کی ہیں۔ تازہ کشیدگی نے عالمی توانائی کی سپلائی اور تیل کی قیمتوں کے حوالے سے بھی خدشات بڑھا دیے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے کی اہم بحری گزرگاہیں پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔