ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی، پولیس کی تردید

وفاقی وزرا خالد مقبول ، مصطفیٰ کمال اور علی خورشیدی سمیت دیگر اہم سیاسی شخصیات کے پاس ان کی سیکیورٹی موجود ہے، رپورٹ


محمد سلیم جھنڈیر September 11, 2026
فوٹو فائل

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سیکیورٹی کی واپسی کے حوالے سے میڈیا پر چلنے والی خبروں کے بعد پولیس کے متعلقہ حکام نے سندھ حکومت کو تفصیلی رپورٹ پیش کردی ہے۔

پولیس رپورٹ میں ان تمام خبروں کی تردید کی گئی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ متحدہ رہنماؤں کی سیکیورٹی یکسر ختم کر دی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے سندھ حکومت کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین اور مرکزی رہنمائوں کے پاس ان کے لیے مختص کی گئی سیکیورٹی بدستور موجود ہے۔

ذرائع کے مطابق تھریٹ اسسمنٹ کمیٹی نے جن رہنماؤں کے لیے سیکیورٹی فراہم کرنے کی سفارش کی تھی، ان کی حفاظت کے لیے تعینات نفری میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور سیکیورٹی کور پہلے کی طرح برقرار ہے۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وفاقی وزرا خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سمیت دیگر اہم سیاسی شخصیات کے پاس ان کی سیکیورٹی موجود ہے۔

تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس حکام نے حکومت کو واضح کیا ہے کہ یہ اقدام معمول کی انتظامی ترتیب کا حصہ ہے اور تمام اہم رہنماؤں کی تحفظ کی صورتحال کو ترجیحی بنیادوں پر برقرار رکھا گیا ہے۔

قبل ازیں سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ تھا کہ پارلیمانی لیڈر افتخار عالم، طحہ احمد رکن قومی اسمبلی صبحین غوری، معید انور اور معاذ محبوب کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے تاہم میرے پاس تاحال سیکیورٹی موجود ہے۔