بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے کمرے کے ایئر انڈیا پائلٹ کیپٹن سنی اسلادیکر مردہ حالت میں ملے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیپٹن سنی اسلادیکر دہلی کے علاقے وسنت کنج میں واقع فائیو اسٹار ہوٹل دی گرینڈ میں قیام پذیر تھے۔
انہوں نے 10 ستمبر کو ہوٹل میں چیک اِن کیا تھا۔ وہ بوئنگ 787 طیارے کی کنورژن ٹریننگ کے سلسلے میں دہلی آئے ہوئے تھے۔
بھائی کی فون کال پر معاملہ سامنے آیا
پولیس کے مطابق 11 ستمبر کو پائلٹ کے بھائی نے انہیں فون کیا لیکن کئی مرتبہ رابطہ کرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں ملا۔
اس کے بعد بھائی نے ہوٹل انتظامیہ سے رابطہ کیا اور پائلٹ کی خیریت معلوم کرنے کی درخواست کی۔ ہوٹل کے مینیجر نے کمرے کا رخ کیا تو دروازہ اندر سے بند تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مینیجر نے ماسٹر کی کی مدد سے کمرہ کھولا جہاں کیپٹن سنی بے ہوش اور غیر متحرک حالت میں پائے گئے۔
پولیس اور کرائم ٹیم کی تحقیقات
واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس کی ٹیم ہوٹل پہنچی اور کمرے کا معائنہ کیا۔ بعد ازاں کرائم ٹیم کو بھی موقع پر طلب کیا گیا تاکہ جائے وقوعہ کا جائزہ لے کر ممکنہ شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔
پولیس نے بتایا کہ سفدرجنگ اسپتال میں 12 ستمبر کو پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ حکام کے مطابق موت کی اصل وجہ حتمی طبی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔
پولیس نے موت کی وجوہات اور حالات جاننے کے لیے بھارتی شہری تحفظ قانون (BNSS) کی دفعہ 194 کے تحت کارروائی شروع کی ہے۔
پائلٹ بوئنگ 787 کی تربیت کے لیے دہلی میں تھے
رپورٹس کے مطابق کیپٹن سنی اسلادیکر کا تعلق ایئر انڈیا سے تھا اور وہ بوئنگ 787 طیارے کو آپریٹ کرنے کی کنورژن ٹریننگ حاصل کر رہے تھے۔
کچھ بھارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ وہ اس سے قبل ایئر انڈیا ایکسپریس سے بھی وابستہ رہے تھے اور بعد میں ایئر انڈیا میں شامل ہوئے۔
موت کی وجہ ابھی واضح نہیں
حکام نے فی الحال موت کی کوئی حتمی وجہ بیان نہیں کی۔ پولیس کی جانب سے بھی یہ کہا گیا ہے کہ اصل وجہ حتمی پوسٹ مارٹم اور طبی رپورٹ سامنے آنے کے بعد واضح ہوگی۔
اس لیے فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پائلٹ کی موت کسی طبی مسئلے، حادثے یا کسی اور وجہ سے ہوئی۔ تحقیقات مکمل ہونے تک پولیس تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔
تحقیقات جاری
نئی دہلی پولیس اس وقت پائلٹ کی موت کے حالات، ہوٹل میں ان کے قیام، دستیاب شواہد اور طبی رپورٹس کا جائزہ لے رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی طبی رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ کے بارے میں کوئی واضح نتیجہ اخذ کیا جا سکے گا۔