’صنعتی پیداوار، قدرتی وسائل کے بےتحاشا استعمال نے انسان اور ماحول کےدرمیان قائم توازن کو متاثر کیا ‘

پائیدار ترقی کےلیے روایتی طرزِ زندگی اور تعمیراتی طریقوں سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے، معروف معمار کامل خان ممتاز


ویب ڈیسک September 13, 2026

معروف معمار کامل خان ممتاز نے کہا ہے کہ صنعتی پیداوار اور قدرتی وسائل کے بے تحاشا استعمال نے انسان اور ماحول کے درمیان قائم توازن کو متاثر کیا ہے، اس لیے پائیدار ترقی کے لیے ماضی کے روایتی طرزِ زندگی اور تعمیراتی طریقوں سے رہنمائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے یہ بات لاہور قلعہ کے تاریخی بارود خانہ میں آغا خان کلچرل سروس پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ کیفے لرننگ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ نشست میں فن تعمیر، تحفظِ ورثہ، انجینئرنگ، فنون اور آرکائیوز سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔

کامل خان ممتاز نے کہا کہ انسانی زندگی کا ماحول کے ساتھ تعلق وسائل کے حصول اور انہیں واپس ماحول کا حصہ بنانے کے عمل پر قائم ہے، تاہم یہ عمل ایک متوازن حد کے اندر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق قدرتی وسائل لامحدود نہیں اور کسی بھی ماحولیاتی نظام کو اس کی قدرتی استعداد سے زیادہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً تین لاکھ سال تک انسانی معاشرہ قدرتی معیشت کے اصولوں کے تحت چلتا رہا، جس میں انسان اپنی ضرورت کے مطابق قدرت سے وسائل حاصل کرتا تھا۔ شکاری اور خوراک جمع کرنے والے معاشرے میں ضرورت سے زیادہ شکار کرنے کی کوئی معاشی افادیت نہیں تھی، کیونکہ وسائل کا استعمال بنیادی ضروریات تک محدود تھا۔

کامل خان ممتاز کے مطابق زرعی انقلاب نے اس نظام میں پہلی بڑی تبدیلی پیدا کی، جب زمین اور جانوروں سمیت قدرتی وسائل سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے طریقے اختیار کیے گئے۔ اس کے نتیجے میں ضرورت سے زائد پیداوار اور ذخیرہ کرنے کا تصور سامنے آیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں میں صنعتی پیداوار اور مشینی نظام کے باعث قدرتی وسائل کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا۔ زراعت میں صنعتی طریقوں، کیڑے مار ادویات کے وسیع استعمال اور زرعی مشینری کے بڑھتے ہوئے استعمال نے بھی ماحولیاتی آلودگی اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ کیا۔

انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو اسی بڑھتے ہوئے عدم توازن کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، برفانی ذخائر کا پگھلاؤ، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے واقعات ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات میں شامل ہیں۔

معمار نے روایتی اور جدید معاشروں کے ترقی کے تصور میں فرق کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق روایتی معاشروں میں ترقی کو بہتر انسان بننے سے جوڑا جاتا تھا، جبکہ جدید معاشروں میں مادی دولت کا حصول کامیابی کا اہم پیمانہ بن چکا ہے۔

انہوں نے تحفظِ ورثہ کے موجودہ تصور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی عمارتوں اور مقامات کو صرف مادی اثاثوں کے طور پر دیکھنے کے بجائے ان کے پس پشت موجود روایتی علم اور طرزِ تعمیر کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

ان کے مطابق ماضی میں تعمیراتی طریقے مقامی آب و ہوا اور دستیاب وسائل کے مطابق وضع کیے جاتے تھے، جس سے عمارتیں طویل عرصے تک قائم رہیں۔

آغا خان کلچرل سروس پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر توصیف خواجہ نے کہا کہ روایتی تعمیراتی علم اور تکنیکوں کو موجودہ دور میں بھی زیرِ غور لانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخی عمارتوں میں استعمال ہونے والے تعمیراتی طریقے ماحول سے مطابقت رکھتے تھے اور کئی تاریخی عمارتیں صدیوں بعد بھی موجود ہیں۔