کراچی؛ گھر کے باہر کھڑی گاڑی میں اتفاقیہ گولی چلنے سے 12سالہ بچہ جاں بحق

گاڑی کے مالک کے بیٹے سے چلنے والی گولی اس کے دوست کو لگی، پولیس


ویب ڈیسک September 13, 2026

کراچی:

گلشن اقبال بلاک 16 میں گھر کے باہر کھڑی گاڑی میں اتفاقیہ فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والا 12 سالہ بچہ دم توڑ گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اتوار کو عزیز بھٹی تھانے کے علاقے گلشن اقبال بلاک 16 میں بیت المکرم مسجد کے قریب واقع اپسرا اپارٹمنٹ تھری میں کھڑی الیکٹرک گاڑی رجسٹریشن نمبر اے اے ای سی 292 میں مبینہ طور پر اتفاقیہ گولی لگنے سے گاڑی میں موجود بچہ چہرے پر گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا جسے فوری طور پر اسٹیڈیم روڈ پر واقعے نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں شدید زخمی بچہ چند گھنٹے موت اور زیست میں مبتلا رہنے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران علاج دم توڑ گیا۔

جاں بحق بچے کی شناخت 12 سالہ عبدالرقیب ولد محمد محسن کے نام سے ہوئی، مقتول بچہ اپسرا اپارٹمنٹ تھری کے بلاک ایل کا رہائشی اور چھٹی جماعت کا طالب علم تھا جو کہ 4 بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھا۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی عزیز بھٹی سید ابو طلحہ عمراؤ، ایس ایچ او عزیز بھٹی جابر حسین اور انویسٹی گیشن سمیت دیگر پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے اور پولیس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھا کرنے کے لیے کرائم سین یونٹ کو موقع پر طلب کرلیا۔

ڈی ایس پی عزیز بھٹی سید ابو طلحہ عمراؤ کے مطابق جس گاڑی میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا وہ گاڑی مذکورہ اپارٹمنٹ کے بلاک ایچ کے رہائشی کارشوروم کے مالک برہان نامی شخص کی ملکیت ہے اور گاڑی میں ان کا لائسنس یافتہ پستول موجود تھا۔

انھوں نے بتایا کہ گاڑی میں کارشوروم کے مالک کا بیٹا اور اس کے 3 دوست موجود تھے جو کہ اسی رہائشی اپارٹمنٹ کے رہائشی تھے اور چاروں بچے ہم عمر تھے اس دوران گاڑی میں موجود کار شوروم کے مالک کے بیٹے احمد سے مبینہ طور پر اتفاقیہ گولی چلی ہے جس کے باعث گاڑی میں موجود عبدالرقیب نامی بچہ شدید زخمی ہوا جو کہ بعد میں دوران علاج دم توڑ گیا۔

انھوں نے بتایا کہ جس پستول سے گولی چلی وہ پستول اور اس کا لائسنس پولیس نے حاصل کرلیا ہے جبکہ اپارٹمنٹ میں لگی سی سی ٹی وی کمیرے کی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ واقعہ کیسے پیش آیا انھوں نے بتایاکہ مبینہ طورپر جس بچے سے گولی چلی اس کا بیان قلم بند کیا جارہا ہے جبکہ بچے کی عمرکے تعین کے لیے اس کے برتھ سرٹیفکیٹ سمیت دیگردستاویزات کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ یہ بات بھی معلوم کی جا رہی ہے کہ گاڑی میں اسلحہ اکثرموجود ہوتا تھا یا نہیں اور گاڑی کی چابی جس کے پاس ہوتی ہے تاکہ اس بات کا تعین ہوسکے کہ کس کی جانب سے غفلت برتی گئی ہے ، پولیس اس کیس کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر بارک دینی سے مزید تفتیش کررہی ہے۔