وفاقی ڈائریکٹوریٹ مذہبی تعلیم سے رجسٹرڈ مدارس پنجاب میں دوبارہ رجسٹریشن سے مستثنیٰ قرار

پنجاب اسمبلی نے سوسائٹیز رجسٹریشن (ترمیمی) بل 2026ء کثرتِ رائے سے منظور کرلیا


عائشہ صغیر October 29, 2026
فوٹو : فائل

لاہور:

پنجاب اسمبلی نے سوسائٹیز رجسٹریشن (ترمیمی) بل 2026ء کثرتِ رائے سے منظور کر لیا جس کے تحت وفاقی ڈائریکٹوریٹ جنرل مذہبی تعلیم سے رجسٹرڈ دینی مدارس کو پنجاب میں دوبارہ رجسٹریشن کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

بل کے متن کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل مذہبی تعلیم سے پہلے سے رجسٹرڈ مدارس پنجاب میں دوبارہ رجسٹریشن کے پابند نہیں ہوں گے، جبکہ مستقبل میں وفاقی ڈائریکٹوریٹ سے رجسٹر ہونے والے مدارس کو بھی صوبے میں الگ سے رجسٹریشن نہیں کرانا پڑے گی۔

ترمیمی بل کا مقصد دینی مدارس کی دہری رجسٹریشن سے متعلق مسائل اور قانونی پیچیدگیوں کا خاتمہ، مدارس کی قانونی حیثیت کا تعین اور رجسٹریشن کے نظام کو واضح بنانا ہے۔

بل کے تحت سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کی دفعہ 21 میں نئی شق 1A شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے ذریعے وفاقی ڈائریکٹوریٹ جنرل مذہبی تعلیم سے رجسٹرڈ مدارس کو پنجاب میں دوبارہ رجسٹریشن کی شرط سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

مدارس کی مستقبل میں رجسٹریشن سے متعلق شق قائمہ کمیٹی پنجاب اسمبلی کی سفارش پر ترمیمی بل میں شامل کی گئی۔ قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد بل ایوان میں پیش کیا گیا، جہاں اسے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔

پنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد ترمیمی بل حتمی منظوری کے لیے گورنر پنجاب کو بھجوایا جائے گا۔ گورنر کی منظوری کے بعد بل قانون کی شکل اختیار کرے گا۔