یمن کی جنگ اور نئی بساط

عالمی طاقتیں باب المندب، تیل اور بحری تجارت کے اعداد دیکھتی ہیں، مگر ان اعداد کے پیچھے موجود انسانی المیے کو اکثر نظرانداز کردیا جاتا ہے


ایڈیٹوریل September 14, 2026
یمن میں 48 گھنٹوں میں حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان جھڑپ میں 100 ہلاکتیں (اے آئی سے بنوائی گئی تصویر)

تاریخ کے بعض موڑ نقشے پر ایک چھوٹے سے نقطے کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے اثرات براعظموں تک پھیل جاتے ہیں۔ آج باب المندب ایسا ہی ایک نقطہ بن چکا ہے۔ یمن کے ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی، بحیرہ احمر میں بدلتی ہوئی صورت حال، سعودی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملہ اور واشنگٹن کے محتاط رویے نے مشرق وسطیٰ کے بحران کو ایک ایسے مرحلے میں پہنچا دیا ہے جہاں ایک محدود علاقائی کشمکش عالمی تجارت، توانائی کی سلامتی اور بڑی طاقتوں کی حکمت عملی کو متاثر کرسکتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ اگلا میزائل کہاں گرے گا، بلکہ یہ ہے کہ دنیا اس مرتبہ جنگ کے راستے سے ہٹ کر بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے میں کامیاب ہوگی یا نہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ حوثیوں نے واشنگٹن سے رابطہ کرکے امریکا کو تنازع سے دور رہنے کی درخواست کی ہے اور فی الحال امریکا بھی ایسا ہی کرے گا، موجودہ حالات میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس بیان سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایک اور طویل عسکری مہم میں الجھنے سے گریزاں ہے۔ ٹرمپ پہلے ہی ایران کے ساتھ جنگ سے نکلنے، داخلی سیاسی دباؤ کم کرنے اور اپنی گرتی ہوئی مقبولیت سے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ایسے میں یمن میں براہ راست فوجی مداخلت ان کے لیے ایک ایسا فیصلہ ہوسکتا ہے جس کے فوری سیاسی فائدے سے کہیں زیادہ طویل مدتی نقصانات ہوں۔

مگر مسئلہ یہ ہے کہ حوثیوں کی پیش قدمی اب محض یمن کی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہی۔ باب المندب بحر ِ احمر اور عالمی بحری تجارت کا ایک نہایت اہم راستہ ہے۔ اس پر کسی ایک فریق کی مضبوط گرفت یا اسے بند کرنے کی دھمکی دنیا کی معیشت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے یہ انتباہ کہ بیرونی مداخلت کی صورت میں باب المندب مکمل طور پر بند کردیا جائے گا، دراصل یہ ظاہر کرتا ہے کہ جغرافیہ اب سیاسی دباؤ کا ہتھیار بن چکا ہے۔ عالمی برادری کے لیے یہ صورت حال قابل قبول نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ بین الاقوامی بحری راستوں کو کسی علاقائی تنازع میں سودے بازی کا ذریعہ بنانا عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کے مترادف ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب خود کو ایک نئے خطرے کے سامنے محسوس کر رہا ہے۔ سعودی تیل کی اہم پائپ لائن کا ڈرون حملے کے بعد بند ہونا ،اس امر کی علامت ہے کہ خطے میں جنگ کا دائرہ تیزی سے فوجی تنصیبات سے نکل کر توانائی کے بنیادی ڈھانچے تک پہنچ سکتا ہے۔ امریکی صدر نے اس حملے کا ذمے دار غالباً ایران کو قرار دیا ہے، تاہم ایسے حساس ماحول میں کسی الزام کو حتمی حقیقت سمجھنے سے پہلے ٹھوس شواہد ضروری ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں غلط اندازہ بھی کسی بڑے تصادم کا آغاز کرسکتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں واشنگٹن کی مشکل دوچند ہوجاتی ہے۔ سعودی عرب امریکا کا اہم اتحادی ہے اور ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اپنا دوست قرار دیا ہے، اگر ریاض حوثیوں کے خلاف امریکی مدد چاہتا ہے تو واشنگٹن کے لیے اپنے اتحادی کو تنہا چھوڑنا آسان نہیں ہوگا، لیکن اگر امریکا براہِ راست فوجی کارروائی شروع کرتا ہے تو وہ ایک ایسے تنازع میں دوبارہ داخل ہوسکتا ہے جس سے نکلنے کی خواہش امریکی سیاست میں پہلے ہی نمایاں ہے۔ افغانستان، عراق اور دیگر جنگوں کے تجربے نے یہ ثابت کیا ہے کہ فوجی طاقت سے جنگ شروع کرنا نسبتاً آسان، مگر اسے اپنے مطلوبہ انجام تک پہنچانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

ایران کا موقف بھی اس بحران کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کو امریکا کی حیثیت سے کسی ’’علاقائی تھانیدار‘‘ کی ضرورت نہیں اور خطے کی سلامتی کی ضمانت اس کے اپنے ممالک کو دینی چاہیے۔ اصولی سطح پر علاقائی ممالک کی باہمی سلامتی کا تصور قابلِ غور ہے، لیکن اس کے لیے اعتماد بنیادی شرط ہے، اور مشرق وسطیٰ میں یہی عنصر سب سے کمزور ہے۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بداعتمادی، مختلف مسلح گروہوں کے ذریعے اثر و رسوخ کی کشمکش اور امریکا کی موجودگی نے ایک ایسا پیچیدہ توازن پیدا کردیا ہے جسے محض نعروں سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

ایران اور عمان کے درمیان مفاہمت کی کوشش اس لیے امید کی ایک کرن ضرور ہے کہ سفارتی راستے ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ اگرچہ اس مفاہمت کا فوری نتیجہ آبنائے ہرمز کا کھلنا نہیں، تاہم یہ مذاکرات کے لیے بنیاد فراہم کرسکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جسے وسیع کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ مذاکرات اس وقت شروع ہوں جب میزائل فضا میں نہ ہوں، تیل کی تنصیبات نشانے پر نہ ہوں اور عالمی منڈیاں خوف کا شکار نہ ہوں۔ بحران کے بعد ہونے والی سفارت کاری اکثر نقصان کا ازالہ کرتی ہے، کامیاب سفارت کاری وہ ہے جو نقصان ہونے سے پہلے خطرے کو روک دے۔

اس حوالے سے ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ کا یہ موقف بھی تشویش پیدا کرتا ہے کہ امریکا سے مذاکرات اس وقت تک بے سود ہیں جب تک واشنگٹن تہران کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کرتا۔ مذاکرات اگر فریقین کی مکمل فتح کا نام بن جائیں تو مفاہمت کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔ پائیدار سیاسی حل ہمیشہ کچھ حاصل کرنے اور کچھ چھوڑنے کے اصول پر قائم ہوتا ہے۔ امریکا کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ پابندیوں، عسکری دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے ہر مسئلے کا حل ممکن نہیں، جب کہ ایران کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ علاقائی اثر و رسوخ کے لیے مسلسل دباؤ اور بالواسطہ محاذ آرائی خطے کو دیرپا استحکام نہیں دے سکتی۔

موجودہ بحران کو 11 ستمبر 2001 کے بعد کی امریکی جنگوں کے پچیس سالہ تجربے سے الگ کرکے دیکھنا بھی ممکن نہیں۔ افغانستان اور عراق سے لے کر شام، یمن، صومالیہ اور لیبیا تک فوجی کارروائیوں نے انسانی جانوں، معیشتوں اور معاشروں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ لاکھوں افراد کی ہلاکت، کروڑوں انسانوں کی بے گھری اور کھربوں ڈالر کے اخراجات یہ سوال اٹھانے کے لیے کافی ہیں کہ کیا مسلسل عسکری طاقت نے دنیا کو واقعی زیادہ محفوظ بنایا؟ جنگ کے اثرات میدان جنگ ختم ہونے کے بعد بھی باقی رہتے ہیں، وہ مہاجر کیمپوں، معذور جسموں، ذہنی بیماریوں، خودکشیوں، تباہ شدہ شہروں اور آنے والی نسلوں کی محرومیوں میں زندہ رہتے ہیں۔

یمن اس پورے بحران کا سب سے بڑا مظلوم فریق ہے۔ عالمی طاقتیں باب المندب، تیل اور بحری تجارت کے اعداد دیکھتی ہیں، مگر ان اعداد کے پیچھے موجود انسانی المیے کو اکثر نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ جب تک یمن میں ایک قابلِ قبول سیاسی نظام، معاشی بحالی اور قومی مفاہمت کی بنیاد نہیں رکھی جاتی، کوئی بھی فوجی کامیابی عارضی ثابت ہوگی۔ بندوق کے زور پر ساحل فتح کیا جاسکتا ہے، ریاست نہیں بنائی جاسکتی، سمندری راستہ کنٹرول کیا جاسکتا ہے، مگر مستقل امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔

مشرق وسطیٰ کو اس وقت کسی نئے ’’تھانیدار‘‘ سے زیادہ ایک نئے سیاسی معاہدے کی ضرورت ہے۔ ایسا معاہدہ جس میں سعودی عرب کی سلامتی، ایران کے جائز مفادات، یمن کی خودمختاری، عالمی بحری تجارت اور خطے کے دیگر تنازعات کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے۔ امریکا کو اپنی طاقت کے ساتھ اپنی حدود کا ادراک کرنا ہوگا، ایران کو اپنے اثر و رسوخ کے ساتھ ذمے داری قبول کرنا ہوگی اور عرب ممالک کو بیرونی عسکری ضمانتوں کے ساتھ علاقائی مفاہمت کی ضرورت بھی تسلیم کرنا ہوگی۔

پچیس برس کی جنگوں کا سب سے تلخ سبق یہی ہے کہ طاقت دروازہ توڑ سکتی ہے، مگر امن کا دروازہ نہیں کھول سکتی۔ باب المندب آج صرف ایک سمندری گزرگاہ نہیں، دنیا کے لیے ایک امتحان ہے، اگر اس کے کناروں سے جنگ کا نیا شعلہ اٹھا تو اس کی تپش عالمی معیشت اور انسانی معاشروں تک پہنچے گی، لیکن اگر یہی مقام مذاکرات، تحمل اور علاقائی مفاہمت کی علامت بن گیا تو شاید مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہوسکے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بار دنیا جنگ ختم ہونے کا انتظار نہ کرے، بلکہ جنگ شروع ہونے سے پہلے اسے روکنے کی سنجیدہ کوشش کرے۔

اب فیصلہ صرف واشنگٹن، تہران، ریاض یا صنعاء کے ایوانوں میں نہیں ہونا، اس کے اثرات دنیا بھر کے بازاروں، سمندروں اور عام انسان کی زندگی پر مرتب ہوں گے۔ اس لیے عالمی طاقتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کسی ایک ملک کی فتح یا دوسرے کی شکست سے نہیں آئے گا۔ پائیدار استحکام تب ہی ممکن ہے جب طاقت کے بجائے اصول، دھمکی کے بجائے مکالمہ اور مداخلت کے بجائے علاقائی شراکت کو ترجیح دی جائے۔ باب المندب سے آبنائے ہرمز تک ہر راستہ اگر تجارت اور تعاون کے لیے کھلا رہے تو یہی اس خطے اور دنیا دونوں کے بہترین مفاد میں ہوگا۔