نئے صوبوں پر ریفرنڈم کی بازگشت

ملک میں نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹس بنانے یا نئے صوبے بنانے کی تحریک کو پیپلزپارٹی نے کافی حد تک کمزور کر دیا ہے۔


مزمل سہروردی September 14, 2026
[email protected]

ملک میں نئے ایڈمنسٹریٹو یونٹس بنانے یا نئے صوبے بنانے کی تحریک کو پیپلزپارٹی نے کافی حد تک کمزور کر دیا ہے۔ سندھ اسمبلی کی قرارداد کہ سندھ کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔اس نے جو قوتیں نئے صوبے بنانے کی جدو جہدکر رہی تھیں انھیں ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

اس لیے فی الحال سیاسی طور پر نئے صوبے بننا عملی طور پر نا ممکن نظر آرہا ہے کیونکہ جب تک پیپلزپارٹی نئے صوبوں کی حمایت میں پارلیمان میں ووٹ ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہوتی تب تک کوئی نئی ترمیم پارلیمان میں نہیں آسکتی لیکن اس سب کے باوجود نئے صوبے بنانے کی تحریک اپنی جگہ موجود ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی شدت میں کمی آئی ہے۔ لیکن یہ اپنی جگہ موجود ہے۔

اسی لیے حکمران جماعت اس حوالہ سے کوئی واضح پوزیشن نہیں لے رہی۔ اگلے روز ہی وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثناء اللہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اندر ابھی مشاورت جاری ہے۔ اور مسلم لیگ (ن) اپنا پالیسی بیان پارلیمان میں دے گی۔ اب تک جن بھی وزراء اور رہنماؤں نے اس ضمن میں بات کی ہے وہ ان کی ذاتی بات ہے۔ جماعت کا موقف نہیں ہے۔ اس لیے حکمران جماعت دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

لیکن آج کل ریفرنڈم کا بہت شور ہے۔ دوست بتا رہے ہیں کہ اب ریفرنڈم پر کام ہو رہا ہے۔ پاکستان کے آئین میں ریفرنڈم کی گنجائش موجود ہے۔ اس ضمن میں بھی آئین میں ایک طریقہ کار موجود ہے۔ جس کے مطابق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت ریفرنڈم کروانے کی اجازت حاصل کرے گی۔ سوال بھی مشترکہ اجلاس سے منظور کروایا جائے گا۔ اس کے بعد ہی حکومت ملک میں ریفرنڈم کروانے کا اعلان کر سکتی ہے۔ اکیلی حکومت کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی بھی وقت کسی بھی ایشو پر ملک میں ریفرنڈم کروا سکے۔ اس ضمن میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظوری لازمی ہے۔

لیکن اگر پیپلزپارٹی کو مائنس کر دیا جائے تو کیا باقی حکمران اتحاد مشترکہ اجلاس سے ریفرنڈم کی قرارداد اور سوال منظور کروا سکتا ہے۔ عددی اعتبار سے تو یہ ممکن نظر نہیں آتا، ریفرنڈم کے لیے بھی پیپلزپارٹی کے ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔ دوسری صورت میں تحریک انصاف ریفرنڈم کے حق میں ووٹ ڈال دے تو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ریفرنڈم کا سوال منظور ہو سکتا ہے۔ تحریک انصاف کا ایک بڑا فارورڈ بلاک بھی یہ کام کر سکتا ہے۔ لیکن اس کا ابھی کوئی وجود سامنے نظر نہیں آرہا۔

ویسے تو پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی کافی حد تک صلح ہو گئی ہے۔ پیپلزپارٹی نے قانون سازی میں حکومت کے ساتھ جو تعاون ختم کیا ہوا تھا وہ پیپلزپارٹی نے بائیکاٹ ختم کر دیا ہے۔اور پارلیمان میں دونوں مل کر چلنے پر تیار ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پیپلزپارٹی بھی حکومت کے ساتھ اپنے معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر نہیں لے جانا چاہتی۔ پیپلزپارٹی ابھی اس نظام کو گرانا نہیں چاہتی۔ ویسے بھی پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان معاملات بھی کوئی خاص آگے نہیں بڑھ سکے۔ اس کو بھی شائد ابھی وقت لگے گا۔

فی الحال حکومت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس ملتوی کر دیے ہیں۔ پہلے یہ اجلاس ستمبر میں ہونے تھے۔ لیکن اب کہا جا رہا ہے کہ یہ اجلاس اکتوبر میں ہوں گے۔ یہ عندیہ بھی دیا جا رہا ہے کہ اکتوبر میں جو اجلاس ہوں گے ان میں نئے صوبوں کے حوالے سے بحث ہوگی۔ میں یہ یقین سے نہیں لکھ رہا لیکن نئے صوبوں کے حق میں جو قوتیں ہیں ان کی کوشش ہے کہ اکتوبر میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ریفرنڈم منظور کروا لیا جائے۔ اس ضمن میں انھیں تیاری کے لیے وقت چاہیے تھا۔ اس لیے اجلاس فی الحال ملتوی کیے گئے ہیں۔ ابھی تاریخ بھی طے نہیں۔ اس لیے مکمل تیاری کے بعد ہی اجلاس بلائے جائیں گے۔

کیا پیپلزپارٹی ریفرنڈم پرمان جائے گی۔ مجھے بہت مشکل نظر آتا ہے۔ یہ ایک بڑا یوٹرن ہوگا۔ آپ سندھ اسمبلی سے قرارداد منظور کر کے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ریفرنڈم کے حق میں ووٹ ڈال دیں۔اس سیاست کی کسی کو سمجھ نہیں آئے گی۔ پھر کیا تحریک انصاف ریفرنڈم کے حق میں ووٹ ڈال دے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ اجلاس آگے ہی اس لیے کیے گئے ہیں کہ سب 27ستمبر گزارنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد جو بھی منظر نامہ ہوگا۔ اس کے تناظر میں تحریک انصاف سے بات ہوگی۔ کیا فارورڈ بلاک آئے گا۔ یہ دیکھنے کی بات ہے۔

دوستوں کا خیال ہے کہ ریفرنڈم میں پاکستان کا عام آدمی نئے صوبوں کے حق میں ووٹ ڈال دے گا۔، ریفرنڈم کے نتائج نئے صوبوں کے حق میں آئیںگے۔ حیرانگی کی بات ہے کہ دوستوں کی یہ بھی رائے کہ سندھ سے بھی عام آدمی نئے صوبوں کے حق میں ووٹ ڈالے۔ جب پوچھا کہ ایسا کیسے ہوگا ۔ تو انھوں نے کہا ریفرنڈم میں ہر شخص کا ایک ووٹ ہوگا۔ شہری سندھ تو اکثریت سے سندھ کی تقسیم اور نئے صوبوں کے حق میں ووٹ ڈالے گا۔ اور ایسا نہیں ہے کہ دیہی سندھ میں سو فیصد لوگ سندھ کی تقسیم کے خلاف ہیں۔ وہاں بھی لوگ موجود ہیں۔ اندرون سندھ سے بھی ایک مناسب تعداد نئے صوبوں کے حق میں ووٹ ڈالے گی۔ باقی دوستوں کا خیال ہے کہ پنجاب، کے پی اور بلوچستان سے تو نئے صوبوں کے حق میں ووٹ آنا طے ہے۔ وہاں لوگوں کی رائے نئے صوبوں کے حق میں ہے۔

ایسی تیاری بھی کی جا رہی ہے کہ ریفرنڈم میں ہرصوبے کا الگ رزلٹ سامنے آئے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کس صوبے کے عوام نے نئے صوبوں کے حق اور خلاف کتنے ووٹ دیے ہیں۔ یہ ایک بڑی گیم ہے۔ میرے نزدیک دو مسائل سامنے ہوں گے۔ پہلی بات اس ریفرنڈم کے نتائج سب کو قبول ہوں اس کو کیسے یقینی بنایا جائے گا۔ دھاندلی کے الزامات نہ لگ جائیں۔ نتائج تبدیل کرنے کے الزامات لگ جائیں۔ پاکستان میں ریفرنڈم صرف آمروں نے اپنے اقتدار کو بڑھانے کے لیے کروائے ہیں۔ کسی جمہوری حکومت کی جانب سے کسی مسئلہ پر ریفرنڈم کی کوئی مثال موجود نہیں۔ لیکن آئین میں راستہ موجود ہے۔

کیا نئے صوبوں پر ریفرنڈم کے نتیجے میں نئے صوبے بن جائیں گے۔ آئین میں ایسی کوئی بات نہیں۔ آئین خاموش ہے۔ کہیں یہ نہیں لکھا کہ ریفرنڈم کے نتائج کو پارلیمنٹ پر سبقت حاصل ہوگی۔ لیکن زیادہ مضبوط رائے یہی ہے کہ آئینی ترمیم کی پھر بھی ضرورت ہوگی۔ لیکن دوستوں کی رائے کہ جب عوام کا فیصلہ آجائے گا تو سیاسی جماعتوں میں مخالفت کرنے کی طاقت کم ہوجائے گی۔ انھیں عوام کے فیصلہ کے سامنے سرجھکانا پڑے گا۔ اس لیے ریفرنڈم کے بعد آئینی ترمیم آسان ہوجائے گی۔ اب دیکھیں کیا ہوتا ہے۔ یہ سب بھی ابھی پلاننگ ہے۔ اس پر عمل کرنا کتنا مشکل ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔