حوثیوں کی پیش قدمی جاری؛ بحیرۂ احمر کے مزید اہم جزائر پر قبضہ کرلیا

اہم جزائر کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد حوثیوں کی باب المندب اور جنوبی بحیرۂ احمر میں ان کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگئی


ویب ڈیسک September 14, 2026
حوثیوں کا زُقَر جزیرے پر قبضہ، یمن میں لڑائی سے 500 ہلاکتیں (اے آئی سے بنوائی گئی تصوراتی تصویر)

یمن کے حوثی باغیوں نے جنوبی بحیرۂ احمر میں واقع مزید اہم جزائر گریٹر حنیش اور لیسر حنیش پر قبضہ کرلیا۔

عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق دو سرکاری اور ایک حوثی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت کے اتحادی افواج کے سیکڑوں اہلکار نے پسپائی اختیار کرلی۔

حکومتی اتحادی افواج کے اہلکار حوثیوں کے ساتھ جھڑپ کے بعد اپنی جان بچاتے ہوئے ان جزائر کو چھوڑ کر سے واپس چلے گئے جس کے بعد جزائر پر حوثیوں نے کنٹرول سنبھال لیا۔

خیال رہے کہ حنیش جزائر باب المندب سے تقریباً 160 کلومیٹر شمال میں واقع ہیں اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے حوالے سے انتہائی اہم جغرافیائی مقام رکھتے ہیں۔

ان دونوں جزائر پر کنٹرول حاصل کرنے سے حوثیوں کو جنوبی بحیرۂ احمر اور باب المندب کے قریب اپنی فوجی اور بحری موجودگی مزید بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔

سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز حوثیوں کی مغربی ساحلی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کے بعد اپنی صفوں کو دوبارہ منظم کرکے مزاحمت کی کوشش کر رہی ہیں۔

حوثی باغیوں نے حالیہ دنوں یمن کے مغربی ساحلی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے متعدد اہم مقامات پر اپنا کنٹرول بڑھایا ہے۔ وہ بحیرۂ احمر میں واقع جزیرہ زُقَر پر پہلے ہی قبضہ کرچکے ہیں۔

بحیرۂ احمر اور باب المندب کے اطراف حوثیوں کا بڑھتا ہوا کنٹرول عالمی تیل کی رسد اور قیمتوں پر مزید دباؤ ڈال سکتا ہے۔

اس صورتحال سے ایران کو امریکا کے ساتھ جاری جنگ اور علاقائی کشیدگی کے دوران ایک اضافی اسٹریٹجک برتری حاصل ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے جو بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور بحرِ ہند سے ملاتا ہے۔

اس راستے سے عالمی تجارت اور تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے اس لیے حوثیوں کا گریٹر اور لیسر حنیش جزائر پر قبضہ علاقائی ہی نہیں بلکہ عالمی جہاز رانی اور توانائی کی منڈی کے لیے بھی اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔