تیل کی قیمت بڑھنے کی خبر اب صرف پٹرول پمپ کے نرخ نامے پر درج ایک عدد نہیں رہی، یہ گھر کے چولہے، دفتر جانے والے قدم، رکشے کی سواری، دکان تک پہنچنے والے سامان اور روزانہ اجرت کمانے والے ہاتھ کی رفتار تک اتر آتی ہے۔ عالمی منڈی میں ایک جھٹکا آتا ہے اور اس کے ارتعاش کی لہریں ہزاروں میل دور بیٹھے پاکستانی گھرانے کی ماہانہ آمدن کو چھونے لگتی ہیں۔
ایسے ماحول میں حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے فی لیٹر 100 روپے کی رعایت کا اعلان بلاشبہ فوری ریلیف کی ایک قابلِ ذکر کوشش ہے۔ اصل سوال تاہم یہ نہیں کہ رعایت کتنی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس رعایت کا فائدہ واقعی اس شخص تک کس حد تک پہنچے گا جس کے لیے پٹرول محض سفر کا ذریعہ نہیں بلکہ روزگار تک پہنچنے کی شرط ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ریلیف اسکیم کا بنیادی تصور اسی اعتبار سے اہم ہے کہ اس میں عام اور غیر ہدفی سبسڈی کے بجائے مخصوص طبقے کو ریلیف فراہم کی کوشش کی گئی ہے۔ موٹر سائیکل، رکشہ، چنگچی اور چھوٹی گاڑی استعمال کرنے والے شہری مجموعی طور پر معاشرے کے اس حصے کی نمائندگی کرتے ہیں جس کی آمدن محدود ہے اور نقل و حرکت کے اخراجات بجٹ میں غیر معمولی جگہ گھیرتے ہیں۔ موٹر سائیکل پر دفتر جانے والا ملازم، رکشہ چلانے والا محنت کش، چنگچی کا ڈرائیور یا چھوٹی گاڑی رکھنے والا متوسط گھرانہ پٹرول کی قیمت میں اضافے کو نسبتاً زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے۔ اس لیے امداد کا رخ کم وسائل رکھنے والے صارفین کی طرف موڑنا معاشی منطق سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔
لیکن اچھی پالیسی صرف نیت سے نہیں، اس کے نفاذ سے کامیاب ہوتی ہے۔ پاکستان میں سبسڈی کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اعلان اور فائدہ اٹھانے کے درمیان ایک ایسا فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے جسے کاغذی قواعد سے نہیں بلکہ انتظامی اہلیت سے طے کیا جاتا ہے۔ اس اسکیم میں جدید ترین ڈیجیٹل نظام، نادرا، صوبائی محکموں، ایکسائز اور ٹیلی کام آپریٹرز کے اشتراک سے خودکار تصدیق کا طریقہ اختیار کرنا اسی پرانے مسئلے کا ایک ممکنہ جواب ہے۔
اگر گاڑی کی ملکیت، شناخت اور اہلیت خودکار طور پر جانچی جاتی ہے، فیول ٹوکن ڈیجیٹل انداز میں جاری ہوتا ہے اور پٹرول پمپ پر تصدیق کے بعد رعایت ملتی ہے تو انسانی مداخلت کے کئی دروازے بند کیے جا سکتے ہیں، یہی وہ پہلو ہے جسے محض تکنیکی سہولت نہیں بلکہ حکمرانی کی اصلاح سمجھنا چاہیے۔ حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ رجسٹریشن کا عمل عام شہری کے لیے آسان ہو، موبائل یا انٹرنیٹ سے محروم افراد کے لیے متبادل راستہ موجود ہو، شناختی معلومات کے اندراج میں غلطی کی صورت میں فوری تصحیح ممکن ہو۔
رعایت کی مقدار بھی توجہ طلب ہے۔ دو پہیوں اور تین پہیوں والی سواریوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 30 لیٹر کی حد مقرر کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے محدود مالی وسائل میں ایک قابلِ انتظام دائرہ بنانے کی کوشش کی ہے، مگر یہی حد بہت سے محنت کشوں کے لیے سوال بھی پیدا کرتی ہے۔ رکشہ یا موٹر سائیکل جس شخص کے لیے آمدورفت کا ذریعہ ہونے کے ساتھ روزگار کا وسیلہ بھی ہے، اس کی حقیقی ماہانہ کھپت محض مقررہ حد تک محدود نہیں ہو سکتی، اگر کوئی ڈرائیور روزانہ کئی گھنٹے سڑک پر گزارتا ہے تو رعایتی مقدار ختم ہونے کے بعد باقی ایندھن اسے مارکیٹ نرخ پر خریدنا ہوگا، لہٰذا اس اسکیم کو مکمل حل سمجھنے کے بجائے عارضی حفاظتی بندوبست سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔
یہاں ایک بنیادی معاشی حقیقت بھی نظر انداز نہیں ہونی چاہیے کہ پٹرول مہنگا ہونے کا اثر صرف پٹرول استعمال کرنے والے پر نہیں پڑتا۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے تو سبزی، دودھ، پھل، دوا اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی ترسیل کی لاگت بڑھتی ہے۔ بسوں اور رکشوں کے کرایے متاثر ہوتے ہیں، چھوٹے کاروبار کے اخراجات بڑھتے ہیں اور بالآخر قیمتوں کا دباؤ ایسے گھرانوں تک بھی پہنچتا ہے جو ذاتی گاڑی یا موٹر سائیکل نہیں رکھتے۔ اس لیے پٹرول پر ہدفی رعایت ایک مفید قدم ضرور ہے، مگر اسے مہنگائی کے پورے مسئلے کا علاج قرار دینا معاشی حقیقت سے آنکھیں چرانا ہوگا۔
اصل چیلنج یہی ہے کہ عالمی تیل منڈی کی غیر یقینی کیفیت کو پاکستان کے اندرونی معاشی عدم استحکام کے ساتھ ملنے سے کیسے روکا جائے۔ ایک طرف درآمدی ایندھن کے لیے قیمتی زرمبادلہ درکار ہے، دوسری طرف عالمی قیمت بڑھتے ہی ملکی معیشت پر دباؤ آتا ہے۔ اس دباؤ کا کچھ حصہ حکومت برداشت کرے تو خزانے پر بوجھ بڑھتا ہے، صارف برداشت کرے تو مہنگائی اور قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے، اور اگر دونوں کے درمیان توازن پیدا نہ کیا جائے تو مالیاتی خسارہ مزید پیچیدہ صورت اختیار کرسکتا ہے۔
اسی لیے ہر ریلیف پیکیج کے ساتھ یہ سوال بھی لازم ہے کہ اس کی مالی گنجائش کیا ہے، مدت کتنی ہے اور اس کے اخراجات کہاں سے پورے کیے جائیں گے۔حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہوگا کہ اسکیم سیاسی اعلان بن کر نہ رہ جائے بلکہ قابلِ پیمائش عوامی فائدے میں تبدیل ہو۔ اس مقصد کے لیے شفافیت بنیادی شرط ہے۔ کتنے افراد رجسٹر ہوئے، کتنے اہل قرار پائے، کتنے فیول ٹوکن جاری ہوئے، مجموعی مالی لاگت کیا رہی اور کس صوبے یا طبقے کو کتنا فائدہ پہنچا،ان اعداد و شمار کی باقاعدہ اشاعت اعتماد کو مضبوط کرے گی، اگر ڈیجیٹل نظام موجود ہے تو اس کے ذریعے پیدا ہونے والا ڈیٹا صرف سبسڈی تقسیم کرنے کے لیے نہیں بلکہ پالیسی کی کارکردگی جانچنے کے لیے بھی استعمال ہونا چاہیے۔ حکومت کو یہ دکھانا ہوگا کہ رعایت کہاں پہنچی اور کہاں رکی۔
اس نظام میں دھوکے کے امکانات کو بھی ابتدا ہی سے سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ جعلی رجسٹریشن، ایک ہی گاڑی کے نام پر متعدد دعوے، غیر مستحق افراد کی شمولیت، ٹوکن کے غلط استعمال یا پٹرول پمپ پر رعایت کے حساب میں بے قاعدگی جیسے مسائل کسی بھی فلاحی اسکیم کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت وقتی ریلیف اور طویل المدتی توانائی پالیسی کے درمیان فرق واضح رکھے، اگر عالمی منڈی میں کشیدگی برقرار رہتی ہے تو ہر چند ہفتے بعد نئی رعایت کا اعلان مالیاتی طور پر قابلِ عمل نہیں ہوگا۔ پاکستان کو بالآخر تیل کی درآمد پر انحصار کم کرنے، پبلک ٹرانسپورٹ بہتر بنانے، شہری نقل و حرکت کے موثر نظام کو فروغ دینے اور توانائی کے متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے۔ موٹر سائیکل پر رعایت دینا موجودہ بحران کا جواب ہے، لیکن ایسی معیشت بنانا جس میں روزگار اور تعلیم تک رسائی کے لیے ہر شہری کو ذاتی پٹرول خرچ نہ کرنا پڑے، کہیں زیادہ دور رس حل ہے۔
یہاں صوبائی حکومتوں کا کردار بھی معمولی نہیں۔ چونکہ اسکیم کے لیے گاڑیوں کی معلومات اور تصدیق میں صوبائی ادارے شریک ہیں، اس لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان ڈیٹا کے تبادلے، ذمے داریوں کی تقسیم اور شکایات کے ازالے کا مربوط نظام ضروری ہوگا۔ کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت پورے ملک میں یکساں اصول اور واضح طریقہ کار نافذ نہ ہوا تو ایک ہی اسکیم مختلف علاقوں میں مختلف تجربہ بن سکتی ہے۔ عوام کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ انھیں یہ معلوم ہو کہ وہ اہل ہیں یا نہیں، رجسٹریشن کہاں کرانی ہے، رعایت کب ملے گی اور مسئلہ پیدا ہونے پر کس ادارے سے رجوع کرنا ہے۔
خصوصی ریلیف اسکیم اس لیے خوش آئند ہے کہ اس نے کم از کم مسئلے کے ایک حساس پہلو کو درست طور پر شناخت کیا ہے۔ مہنگے ایندھن کا بوجھ سب پر یکساں نہیں پڑتا۔ جس کی آمدن پہلے ہی محدود ہو، اس کے بجٹ میں پٹرول کی معمولی تبدیلی بھی بڑی دراڑ پیدا کر سکتی ہے۔
اب حکومت کے سامنے اصل کام اعلان سے آگے بڑھنا ہے، اگر رجسٹریشن آسان، اہلیت کی جانچ شفاف، پمپ پر عمل درآمد بے داغ، شکایات کا ازالہ فوری اور مالیاتی نظم مضبوط رکھا گیا تو یہ اسکیم محض ایک وقتی رعایت نہیں بلکہ ہدفی فلاحی پالیسی کی قابلِ تقلید مثال بن سکتی ہے، لیکن اگر پیچیدگی، بدعنوانی یا معلومات کی کمی نے مستحق شہری کو پھر قطار میں کھڑا کردیا تو ایک اچھا خیال بھی عوامی مایوسی کا سبب بن جائے گا۔
بحران کی گھڑی میں ریاست کی اصل قوت بڑے اعلانات میں نہیں، اس لمحے میں ظاہر ہوتی ہے جب محدود آمدن والا شہری پٹرول پمپ پر کھڑا ہو اور اسے معلوم ہو کہ وعدہ واقعی اس کے لیے موجود ہے۔ موجودہ اسکیم کی کامیابی کا پیمانہ یہی ہوگا کہ حکومتی اعلان کتنے گھروں کے ماہانہ بجٹ میں حقیقی آسانی پیدا کرتا ہے۔ عالمی منڈی کا اختیار پاکستان کے ہاتھ میں نہیں، مگر اپنے شہری تک ریلیف پہنچانے کا طریقہ، اس کی شفافیت اور اس کی ترجیحات ضرور ریاست کے اختیار میں ہیں۔ یہی اختیار اگر دیانت، تدبر اور انتظامی صلاحیت کے ساتھ استعمال ہوا تو مہنگے تیل کا یہ بحران کم از کم اس سبق میں بدل سکتا ہے کہ عوامی ریلیف صرف رقم بانٹنے کا نام نہیں، بلکہ اعتماد کو بچانے کا نام بھی ہے۔