ایک نوجوان لڑکی کیمرے کے سامنے بیٹھی ہے، اسکرین کے دوسری طرف ہزاروں آنکھیں اسے دیکھ رہی ہیں۔ کوئی شاید پریشان ہے، کوئی خاموش، کوئی تبصرہ کر رہا ہے، کوئی مدد کے لیے پولیس کو اطلاع دے رہا ہے، مگر ایک چیز بدستور جاری ہے۔ لائیو نشریات۔
یہ محض ایک اسکرین نہیں رہی، یہ ایک ایسا آئینہ بن چکی ہے جس میں جدید انسان اپنا چہرہ دیکھنے سے بھی گریز کرتا ہے۔
مینا چان، جاپانی نژاد ایک چھبیس سالہ سوشل میڈیا شخصیت اور جنوبی کوریا میں مقیم ’’ کے پوپ ‘‘کی مداح تھی۔ پانچ اگست کو اس کی ایک پریشان کن ٹک ٹاک لائیو نشریات کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی کہ وہ اپنے گھر میں مردہ پائی گئی ہے۔ اس کی بہن نے بعد میں اس کی موت کی تصدیق کی، واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
موت سے پہلے مینا چان کو ’’کے پوپ گروپ ہائے پن‘‘ کے ایک پروگرام میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد شدید آن لائن تنقید اور مبینہ ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس نے وضاحت بھی کی، معذرت بھی کی، مگر اطلاعات کے مطابق آن لائن حملے رکنے کے بجائے جاری رہے۔
یہاں رک کر ایک سوال پوچھنا چاہیے۔’’ کیا ایک انسان کی غلطی کی سزا، اسے پورے ڈیجیٹل ہجوم کے سامنے رسوا کرنا ہے؟‘‘
مینا چان نے شاید کوئی ایسی حرکت کی ہو جو بعض مداحوں کو ناگوار گزری۔ شاید اس نے حدود کو غلط سمجھا۔ شاید اسے اپنی قربت کا اندازہ حقیقت سے زیادہ ہو گیا تھا، مگر کیا اس سے ہزاروں اجنبیوں کو اس کی زندگی کا منصف بن جانے کا حق مل جاتا ہے؟
یہیں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔
ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہو چکے ہیں جہاں عدالتوں سے پہلے ہجوم فیصلے سناتا ہے۔ الزام لگانے کے لیے ثبوت درکار نہیں، سزا دینے کے لیے اختیار درکار نہیں اور کردار کشی کے لیے ذمے داری تو شاید بالکل بھی نہیں۔
ڈیجیٹل دنیا آج ایک مقتل بن چکی ہے،اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت کی تحقیقات کے مطابق، دنیا بھر میں 13 سے 24 سال کے تقریباً 60 فیصد نوجوان سوشل میڈیا پر کسی نہ کسی نوعیت کی سائبر ہراسانی، شدید آن لائن تنقید یا ڈیجیٹل تشدد کا سامنا کرتے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں 5 ارب سے زائد افراد سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں۔ جدید ڈیجیٹل الگورتھم کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مثبت مواد کے مقابلے میں منفی، غصہ انگیز اور ذلت آمیز مواد 500 فیصد زیادہ تیزی سے وائرل ہوتا ہے۔ یعنی نظام خود انسان کی نفرت کو بیچنے پر مامور ہے۔
یہاں ہماری توجہ، ہماری ہمدردی اور ہمارا غصہ محض احساسات نہیں رہے ،یہ ایک منافع بخش تجارتی جنس بن چکے ہیں۔
جس پوسٹ پر زیادہ لوگ رکیں گے، الگورتھم اسے زیادہ پھیلائے گا۔ جس ویڈیو پر زیادہ لوگ گالیاں دیں گے، وہ زیادہ نمایاں ہوگی۔ جس تنازعے میں غصے کی شدت زیادہ ہوگی، وہ اسکرین پر زیادہ دیر تک زندہ رہے گا۔
نتیجتاً، اس جدید منڈی میں انسان کا دکھ بھی مواد ہے، غصہ بھی مواد ہے، ذلت بھی مواد ہے اور کسی کی آخری سانسیں یعنی موت بھی صرف اور صرف ’’مواد‘‘ ہے۔
یہ اس دور کا سب سے ہولناک سچ ہے کہ اس نظام کو آپ کا خوش ہونا چاہیے نہ غمگین ہونا، اسے آپ کی اخلاقیات سے غرض ہے نہ انسانیت سے، اسے صرف اور صرف آپ کا ’’وقت‘‘ اور ’’توجہ‘‘ چاہیے۔
اسی لیے ہماری تہذیب کا قدیم ’’تماشائی‘‘ اب ’’صارف‘‘ بن چکا ہے۔ ماضی میں لوگ کسی حادثے کے گرد جمع ہو کر افسوس کرتے تھے، آج موبائل نکال کر ویڈیو بناتے ہیں۔ پہلے کسی کے آنسو دیکھ کر نظریں جھک جاتی تھیں، آج اس کے وقار کی دھجیاں ہوا میں اچھالی جاتی ہیں۔ ہم نے ٹیکنالوجی کو تو جدید کر لیا، مگر اپنی اخلاقی بے حسی کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا۔ ہم نے تماشے کو ٹیکنالوجی دے دی ہے اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ انسان بے حس کیوں ہو رہا ہے۔
یہ جدید منڈی کا شاید سب سے خوفناک پہلو ہے کہ اسے آپ کا خوش ہونا بھی چاہیے اور آپ کا غصہ بھی، آپ کی محبت بھی چاہیے اور آپ کی نفرت بھی۔ہماری تہذیب کا پرانا ’’تماشائی‘‘ اب ’’صارف‘‘ بن چکا ہے۔
مینا چان کے آخری لمحات میں بھی بعض ناظرین نے خطرے کو محسوس کیا اور حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ اس واقعے کا نسبتاً روشن پہلو ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں موجود کچھ لوگ صرف تماشائی نہیں رہے، انھوں نے مدد کی کوشش کی، مگر اس کے ساتھ ایک تلخ سوال بھی موجود ہے۔
اگر کسی انسان کو بچانے کے لیے ہزاروں لوگ موجود ہوں تو وہ انسان اتنا تنہا کیسے ہو سکتا ہے؟
یہ سوال صرف جنوبی کوریا یا جاپان کا نہیں۔
یہ پاکستان کا بھی ہے۔
مینا چان کی موت کے بارے میں حتمی قانونی اور طبی ذمے داری کا تعین ابھی باقی ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ فلاں شخص یا فلاں گروہ اس موت کا براہ راست ذمے دار ہے۔ پولیس تحقیقات کر رہی ہے، جب کہ خاندان نے بھی آن لائن تبصروں کے اثرات پر تشویش ظاہر کی ہے۔
لیکن ایک اخلاقی سوال کے لیے عدالت کے فیصلے کا انتظار ضروری نہیں۔
وہ سوال یہ ہے۔کیا ہماری زبان اس وقت بھی ہماری ذمے داری ہے جب ہم اسے موبائل کی اسکرین کے پیچھے چھپا کر استعمال کریں؟
شاید ہمیں ڈیجیٹل دنیا کا سب سے بنیادی اخلاقی اصول دوبارہ سیکھنے کی ضرورت ہے۔اسکرین کے دوسری طرف کوئی ’’اکاؤنٹ‘‘ نہیں ہوتا۔
انسان ہوتا ہے۔کوئی صارف نام نہیں ہوتا۔ کسی کی پوری زندگی ہوتی ہے۔ کوئی تصویر نہیں ہوتی۔ کسی کا چہرہ ہوتا ہے۔ اور کسی وائرل تنازعے میں کوئی ’’کردار‘‘ نہیں ہوتا۔
ایک انسان ہوتا ہے، جو شاید ہم سے کہیں زیادہ کم زور اور کہیں زیادہ تنہا ہو۔مینا چان کی موت ہمیں کے - پوپ سے زیادہ کچھ بتاتی ہے۔ یہ ہمیں اپنے بارے میں بتاتی ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے ایسی دنیا کیوں بنا لی ہے، جہاں انسان کی توجہ سب سے قیمتی شے اور انسان خود سب سے سستی چیز بن گیا ہے۔
ہم نے تماشائی کو صارف بنایا، صارف کو ہجوم بنایا، ہجوم کو منصف بنایا اور پھر حیران ہیں کہ المیے بڑھ کیوں رہے ہیں۔
شاید اصل سوال یہ نہیں کہ مینا چان کیوں مر گئی؟
اصل سوال یہ ہے۔ ہم کس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ ایک انسان کو مرتا دیکھنے والے ہزاروں لوگ موجود ہوں، مگر اس کے پاس انسان کی طرح موجود ہونے والا کوئی نہ ہو؟ اور اس سے بھی بڑا سوال۔
اگر ہماری انگلیاں کسی انسان کو توڑنے کے لیے ایک لمحے میں ہزاروں الفاظ لکھ سکتی ہیں، تو کیا وہی انگلیاں اسے بچانے کے لیے ایک لفظ’’رک جاؤ، تم اکیلے نہیں ہو‘‘نہیں لکھ سکتیں؟