فرانس، پولیس نے 29 سالہ یوسف کو زمین پر پٹخ دیا؛ بے گھر شہری ہلاک؛ویڈیو وائرل

فرانسیسی پولیس کے تارکین وطن اور بے گھر افراد کیساتھ امتیازی سلوک کی کئی شکایات پہلے ہی درج ہیں


ویب ڈیسک September 15, 2026
فرانس میں پولیس اہلکار کی شہری کو زمین پر پٹخنے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد تحقیقات شروع کردی گئیں۔ (اے آئی سے بنوائی گئی تصوراتی تصویر)

فرانس کے شہر کارکاسون میں ایک پولیس اہلکار کے بے گھر شہری کو انتہائی زور سے زمین پر پٹخنے کی ویڈیو سامنے آئی تھی جو بعد میں دم توڑ گیا، اہلکار کے خلاف عدالتی تحقیقات شروع کردی گئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ 12 جون کو ایک میوزک فیسٹیول کے دوران پیش آیا تھا جب پولیس اہلکار نے ایک بے گھر شہری کو اتنی زور سے دھکا دیا تھا کہ وہ سر کے بل پر زمین گر گیا تھا۔

جس کے بعد اُس بے گھر شخص کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے بجائے پولیس اہلکاروں نے دیگر افراد کو اس کی مدد کرنے سے روک دیا تھا۔ اس موقع پر موجود افراد نے شدید احتجاج بھی کیا تھا۔

بعد ازاں افسوسناک خبر سامنے آئی کہ وہ بے گھر شہری 13 دن زندگی و موت کی کشمکش کے بعد دم توڑ گیا۔  فرانسیسی پراسیکیوٹر کے بقول مذکورہ پولیس اہلکار کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کردیا گیا۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات سرکاری اختیارات رکھنے والے شخص کی جانب سے دانستہ تشدد کے الزام کے تحت کی جارہی ہیں جبکہ پولیس کے داخلی تفتیشی ادارے کو بھی معاملے کی تحقیقات سونپ دی گئی ہیں۔

عوامی دباؤ پر تحقیقات کا اعلان

فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بالآخر پولیس اہلکار کے خلاف عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا ہے تاہم اس انکوائری کا آغاز بھی شدید عوامی دباؤ اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے بعد کیا گیا حالانکہ یہ واقعہ 12 جون کا تھا۔

سوشل میڈیا پر رکنِ پارلیمنٹ تھوما پورٹ کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں متعدد پولیس اہلکاروں کو ایک مقام پر کھڑے دیکھا جاسکتا ہے جس کے بعد ایک اہلکار ایک نوجوان کے پیچھے جاتا ہے اور اسے زور سے زمین پر پٹخ دیتا ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ زمین پر گرنے کے بعد نوجوان اپنے سر کو ہاتھوں سے شدید درد اور کرب کے عالم میں پکڑلیتا ہے جبکہ وہاں موجود دیگر افراد پولیس اہلکاروں کے اس اقدام پر احتجاج کرتے ہیں۔

اسی دوران ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا جاسکتا ہے کہ اس کی ویڈیو بن رہی ہے۔

واقعہ کب پیش آیا؟

پراسیکیوٹر کے مطابق واقعہ 21 جون کو کارکاسون میں موسیقی کے سالانہ میلے Fête de la Musique کے دوران پیش آیا۔ پولیس اہلکار علاقے میں شور کی شکایت پر کارروائی کے لیے پہنچے تھے۔

حکام کے مطابق جس 29 سالہ بے گھر شخص کو زمین پر گرایا گیا، وہ دراصل پولیس کارروائی کا ہدف نہیں تھا۔ اسے گرفتار بھی نہیں کیا گیا اور اس نے پولیس کے خلاف کوئی شکایت بھی درج نہیں کرائی۔

تاہم واقعے کے کچھ عرصے بعد 3 جولائی کو مذکورہ شخص اپنے کیمپ میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث شدید حالت میں ملا اور بعد ازاں اس کی موت ہوگئی۔ اس کی موت کی وجوہ جاننے کے لیے الگ تحقیقات شروع کی گئیں۔

9 جولائی کو کیے گئے پوسٹ مارٹم کے مطابق ایسے کسی مشتبہ جسمانی زخم کے شواہد نہیں ملے جو کسی تیسرے شخص کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوں۔

پولیس پر پہلے ہی سنگین الزامات

کارکاسون پولیس پہلے ہی ایک الگ اسکینڈل کی زد میں ہے رواں ماہ ایک فرانسیسی اخبار کی جانب سے جاری کی گئی ریکارڈنگ میں پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر نسل پرستانہ، خواتین مخالف اور سازشی نوعیت کے تبصرے کرتے سنا گیا تھا۔

اس معاملے کے بعد چار اہلکاروں کو معطل کیا گیا تھا۔ نئی سامنے آنے والی ویڈیو میں ان چار اہلکاروں میں شامل سیزار آر۔ بھی موجود دکھائی دیتا ہے تاہم ویڈیو میں وہ مبینہ طور پر شہری کو زمین پر پٹخنے کے عمل میں براہِ راست شریک نہیں ہوتا۔

پہلی ریکارڈنگ کے بارے میں فرانسیسی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ اس میں موجود نفرت انگیز گفتگو کا بڑا حصہ اسی اہلکار سے منسوب کیا گیا تھا۔