بھارتی بحری جہاز کی پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں پاکستانی جہاز سے ٹکر، پاکستان کا شدید احتجاج

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں بھارتی اشتعال انگیزی کے سامنے موجودہ سطح کا ضبط یقینی نہیں سمجھا جائے، دفترخارجہ


ویب ڈیسک September 16, 2026
پی این ایس حنین کی فائل فوٹو

بھارتی بحری جہاز آئی این ایس کولکتہ کی جانب سے پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں خلاف ورزی کرتے ہوئے پی ایس حنین سے ٹکرانے پر پاکستان نے شدید احتجاج کیا ہے اور اس اقدام کو دو طرفہ معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ایسی اشتعال انگیزی پر ضبط کرنا یقینی نہیں سمجھا جائے۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق وزارت خارجہ نے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات ناظم الامور کو طلب کرکے 15 ستمبر 2026 کو پاکستان کے خصوصی اقتصادی زون میں بھارتی بحری جہاز کے انتہائی اشتعال انگیز اور ناقابل قبول اقدام پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔

بھارتی ناظم الامور کو واضح کیا گیا کہ بھارتی حکومت کا آگاہ کیا جائے کہ پاکستان اس طرح کے اقدام کو سختی سے مسترد کرتا ہے اور زور دیا گیا کہ بین الاقوامی قانون اور دو طرفہ معاہدوں خاص طور پر سمندر میں اس طرح واقعات سے بچنے کے لیے موجود معاہدوں کی پاسداری کریں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں تعینات پاکستان ناظم الامور اسی طرح کا ڈی مارش بھارتی وزارت خارجہ امور کو کریں گے۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق بھارتی بحری جہاز آئی این ایس کولکتہ نے پاکستان کی سمندری حدود میں اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ حرکات کیں اور یہ سرگرمیاں دوطرفہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ پاک بحریہ یکم ستمبر سے پاکستانی خصوصی اقتصادی زون میں سی اسپارک 26 مشقیں کر رہی ہے، 7 ستمبر سے بھارتی بحری جہاز اور اس پر تعینات ہیلی کاپٹر پاک بحریہ کی مشقوں کے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ آئی این ایس کولکتہ نے پاک بحریہ کے جہازوں کے قریب خطرناک اور اشتعال انگیز حرکات کیں، بھارتی اقدامات معمول کی تعیناتی نہیں بلکہ 1991ء کے دوطرفہ معاہدے کی خلاف ورزی ہیں جبکہ متعدد مرتبہ انتباہ کے باوجود بھارتی بحری جہاز نے غیر ذمہ دارانہ حرکات جاری رکھیں۔

واقعے کے حوالے سے بتایا گیا کہ 15 ستمبر کو آئی این ایس کولکتہ نے خطرناک انداز میں رخ تبدیل کیا اور پی این ایس حنین سے ٹکرا گیا، پی این ایس حنین کی جانب سے بچاؤ کی کوشش کے باوجود بھارتی جہاز کے ساتھ رگڑ کا واقعہ پیش آیا، واقعے کے بعد آئی این ایس کولکتہ نے رفتار بڑھائی اور علاقے سے بھاگ نکلا۔

دفتر خارجہ نے بتایا کہ بھارتی بحری جہاز کا اقدام انتہائی اشتعال انگیز اور سنگین بحران پیدا کر سکتا تھا، پاک بحریہ کے پیشہ ورانہ اور ذمہ دارانہ طرز عمل نے صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکا تاہم بھارتی بحریہ کی خلاف ورزیوں کو پاکستان انتہائی تشویش کے طور پر دیکھتا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ بھارت حقائق کو مسخ کرکے معاملے کو سفارتی سطح پر بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، بھارتی اقدامات علاقائی امن کو متاثر کرنے کی دانستہ کوشش کی عکاسی کرتے ہیں، بھارت دوطرفہ معاہدوں اور ذمہ دارانہ طرز عمل کی پابندی کرے، ایسے واقعات روکنے کے لیے بھارتی حکام فوری اقدامات کریں۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے واضح کر دیا ہےکہ مستقبل میں بھارتی اشتعال انگیزی کے سامنے موجودہ سطح کا ضبط یقینی نہیں سمجھا جائے۔