بھارت میں 2013 کے اُس خونریز ماؤ نواز حملے کے مقدمے میں 13 سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے خصوصی عدالت نے 10 مجرموں کو سزائے موت سنا دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ حملہ 25 مئی 2013 کو ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع بستر کی جھیرم گھاٹی میں کانگریس رہنماؤں کے قافلے پر کیا گیا تھا۔
کانگریس رہنما پریورتن یاترا میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے کہ ماؤ نواز جنگجوؤں نے قومی شاہراہ پر گھات لگا کر قافلے کو نشانہ بنایا۔ جس میں 29 افراد مارے گئے تھے۔
ہلاک ہونے والوں میں اس وقت کے ریاستی کانگریس صدر نند کمار پٹیل، ان کے بیٹے دنیش، اسمبلی میں سابق قائد حزب اختلاف مہندر کرما، سابق مرکزی وزیر ودیا چرن شکلا اور سابق رکن اسمبلی ادے مدلیار سمیت سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری بھی شامل تھے۔
جج نے رواں ماہ کے آغاز میں مقدمے میں 10 افراد کو مجرم قرار دیا تھا جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ ان تمام 10 مجرموں کو 24 میں سے 7 دفعات کے تحت سزائے موت سنائی اور ہر ایک پر 800 بھارتی روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق سزائے موت پر فوری عملدرآمد نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے ہائی کورٹ کی منظوری ضروری ہے۔ مجرموں کو اس وقت تک سینٹرل جیل میں رکھا جائے گا اور انہیں فیصلے کے خلاف 30 روز کے اندر ہائی کورٹ میں اپیل کا حق حاصل ہے۔
تحقیقات میں کیا سامنے آیا؟
قومی تحقیقاتی ادارے کے مطابق کالعدم تنظیم کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ماؤسٹ) کے مسلح ارکان نے مقامی دھڑوں کے ساتھ مل کر کانگریس کے سینئر رہنماؤں اور قافلے میں موجود سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی سازش میں حصہ لیا تھا۔
یہ کارروائی ماؤ نوازوں کی ’ٹیکٹیکل کاؤنٹر آفینسیو کمپین‘ کے تحت کی گئی تھی۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران 101 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے جبکہ بڑی تعداد میں دستاویزات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
سازش کے الزام پر سیاسی اختلاف
چھتیس گڑھ کے سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس رہنما بھوپیش بگھیل ماضی میں اس حملے کی تحقیقات پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ریاستی حکومت کی تشکیل کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو آزادانہ طور پر تحقیقات کا موقع دیا جاتا تو مبینہ بڑی سازش میں ملوث افراد کی نشاندہی ہوسکتی تھی۔
سابق وزیراعلیٰ رمن سنگھ نے بگھیل کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ اس معاملے پر سیاست کرنا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ جھیرم گھاٹی حملہ چھتیس گڑھ میں ماؤ نواز شورش کے دوران ہونے والے بڑے حملوں میں شمار ہوتا ہے۔