یہودی مفادات کو نشانہ بنانے کا الزام؛ سویڈن نے ایرانی سفارتکار کو ملک بدر کردیا

سویڈن کی وزارت خارجہ نے ایرانی سفیر کو طلب کرکے احتجاج بھی کیا


ویب ڈیسک September 16, 2026
سویڈن نے یہودی مفادات کو نشانہ بنانے کے الزامات پر ایرانی سفارتخانے کے اہلکار کو ملک بدر کردیا۔ فوٹو: فائل

سویڈن نے ایران پر اپنے ملک میں یہودی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے ایرانی سفارتخانے کے ایک اہلکار کو ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سویڈن کے وزیر انصاف گونار اشترومر نے بتایا کہ ایران طویل عرصے سے سویڈن میں اور سویڈن کے خلاف ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہے جو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

انھوں نے الزام عائد کہا کہ ان سرگرمیوں میں ایرانی حکومت کے مخالف افراد کے علاوہ مختلف یہودی اور اسرائیلی مفادات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

سویڈش وزیر نے مزید کہا کہ ان مقاصد کے لیے ایران نے مبینہ طور پر جرائم پیشہ نیٹ ورکس سے بھی مدد لی جس پر ایرانی سفیر کو بھی طلب کیا گیا۔

تاہم سویڈش حکومت نے فوری طور پر ملک بدر کیے جانے والے ایرانی سفارتخانے کے اہلکار کی شناخت یا اس کے خلاف مخصوص کارروائی کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ 

سویڈن کی سیکیورٹی سروس ’’سیپو‘‘ کے ترجمان جوناتھن سویسن نے بھی تصدیق کی کہ ایران کی جانب سے ایسی سرگرمیاں جاری ہیں جن سے سویڈن میں اور سویڈن کے خلاف سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔

ان کے بقول ایران مبینہ طور پر جرائم پیشہ گروہوں سمیت مختلف واسطوں کو استعمال کرکے حملے یا تشدد کی کارروائیاں کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ 

ایران پر جرائم پیشہ گروہوں کے استعمال کا الزام

سویڈش سکیورٹی سروس نے مئی 2024 میں الزام عائد کیا تھا کہ ایرانی حکومت سویڈن میں جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو ان ریاستوں، گروہوں اور افراد کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہے جنہیں تہران اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ 

سیپو نے اس وقت کہا تھا کہ سویڈن میں ایرانی سکیورٹی سروسز سے منسلک حملوں کی متعدد منصوبہ بندیوں کو ناکام بنایا گیا جن میں جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو مبینہ طور پر بطور واسطہ استعمال کیا گیا تھا۔

تاہم ایران نے سویڈن کی جانب سے عائد کیے گئے ان الزامات کی تردید کی ہے۔