پشاور ہائیکورٹ نے کوہستان مالیاتی اسکینڈل میں گرفتار سرکل افسر اینٹی کرپشن نصیرالدین بابر کی ضمانت درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل پشاور ہائیکورٹ کے بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔
دورانِ سماعت نیب کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار کو اختیارات کے مبینہ غلط استعمال پر گرفتار کیا گیا، جبکہ اس نے اسکینڈل کے مرکزی ملزم قیصر اقبال سے مالی فوائد حاصل کیے۔ نیب وکیل کے مطابق درخواست گزار کے اکاؤنٹ میں 60 ملین روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی ہے۔
درخواست گزار کے وکلا اشفاق احمد داؤد زئی اور روح اللہ جان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الزامات بے بنیاد ہیں، نیب کی جانب سے بیان کردہ ٹرانزیکشنز کا درخواست گزار سے کوئی تعلق نہیں اور ان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔
وکلا نے مؤقف اپنایا کہ نیب نے تاحال ریفرنس بھی دائر نہیں کیا، اس لیے درخواست گزار ضمانت کا حقدار ہے۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے نصیرالدین بابر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔