کالعدم تنظیم سے وابستہ رہنے والی خواتین کی کوئٹہ پریس کلب میں گفتگو

دہشت گرد تنظیمیں بچیوں کو ورغلا کر انہیں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث کرتی ہیں


سردار حمید خان September 19, 2026

کالعدم تنظیم سے وابستہ رہنے والی خواتین خدیجہ پیر جان اور صفیہ عبدالخالق نے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں بچیوں کو ورغلا کر انہیں ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث کرتی ہیں، انہوں نے خواتین سے اپیل کی ہے کہ وہ شدت پسندوں کے جھانسے میں نہ آئیں اور ملک مخالف سرگرمیوں کا حصہ بننے سے گریز کریں۔

کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تربت کے علاقے تمپ سے تعلق رکھنے والی خدیجہ پیر جان نے بتایا کہ وہ بی ایم سی کالج میں نرسنگ کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔

ان کے شوہر حاصل حرف دودا کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا، جنہوں نے پہلے ان کے بھائی کو تنظیم میں شامل کیا اور بعد ازاں انہیں بھی تنظیم کے لیے کام کرنے پر آمادہ کیا خدیجہ پیر جان نے بتایا کہ انہیں کوئٹہ سے حراست میں لیا گیا۔

ان کے مطابق بحالی کے عمل کے دوران انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں پریس کانفرنس کے دوران بسیمہ سے تعلق رکھنے والی صفیہ عبدالخالق نے بھی بتایا کہ ان کا کزن اسرار کالعدم تنظیم بی ایل اے سے وابستہ تھا اور اسی نے انہیں تنظیم میں شامل کرایا۔

صفیہ عبدالخالق کے مطابق کالعدم بی ایل اے کے ایک کمانڈر نے انہیں نیا موبائل فون فراہم کیا، جبکہ مبینہ خودکش حملے کے لیے گاڑی چلانے کی تربیت بھی دی گئی۔

بعد ازاں سیکیورٹی فورسز نے انہیں گرفتار کرلیا انہوں نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے بچیوں کو مختلف طریقوں سے ورغلایا جاتا ہے۔ دونوں خواتین نے دیگر لڑکیوں سے اپیل کی کہ وہ کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں، شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیوں سے دور رہیں اور ملک مخالف سرگرمیوں کا حصہ نہ بنیں