ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایران نے اپنی شرائط پاکستان اور قطر جیسے ثالث ممالک کے حوالے کر دی ہیں۔
عرب ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں محسن رضائی نے واضح کیا کہ خطے میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی چھیڑی ہوئی اس جنگ سے نکلنے کے لیے صدر ٹرمپ کے پاس ایرانی شرائط کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے تصدیق کی ہے کہ اس وقت قطری اور پاکستانی ثالثوں کے ساتھ ایرانی ٹیم کی مشاورت کا عمل مسلسل جاری ہے اور امریکا تک پہنچانے کے لیے اپنا حتمی موقف اور شرائط ثالثوں کے سپرد کر دی ہیں۔
محسن رضائی نے امریکی قیادت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کسی بھی بڑی اور فیصلہ کن جنگ سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جب امریکا بغیر کسی معقول وجہ کے اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) سے یکطرفہ طور پر پیچھے ہٹا تھا توایران نے اسی وقت امریکا کے حوالے سے اپنی دفاعی حکمتِ عملی تبدیل کر لی تھی۔
محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ ایران اب امریکی فوج کی تمام کمزوریوں سے اچھی طرح واقف ہے اور کسی بھی ممکنہ فضائی حملے کا جواب دینے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے۔
ایرانی سلامتی کونسل کے سربراہ نے انکشاف کیا کہ ایرانی فورسز نے حال ہی میں خلیج کے پانیوں میں موجود ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز (Aircraft Carrier) کے بالکل قریب اپنے جدید ترین بحری جہاز شکن میزائل کا تجربہ کیا ہے۔
محسن رضائی نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی سرزمین پر حملہ کیا گیا، تو خطے میں قائم تمام امریکی فوجی اڈوں اور واشنگٹن کے مفادات کو پہلے سے کئی گنا زیادہ طاقت کے ساتھ نشانہ بنایا جائے گا۔
خطے کے دیگر تنازعات پر بات کرتے ہوئے محسن رضائی نے کہا کہ ایران کی یہ دیرینہ خواہش ہے کہ سعودی عرب اور یمن کے حوثی باغیوں کے درمیان جاری جنگ کا مستقل خاتمہ ہو۔
محسن رضائی نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے اب ایسا لگتا ہے کہ حوثی دھڑا بھی سعودی عرب کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کے لیے سنجیدگی سے تیار ہے۔