سندھ میں 838 نئے اور ازسرنو تعمیر شدہ اسکول تکمیل کے قریب، داخلہ مہم شروع کرنے کی ہدایت

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے نئے اور دوبارہ تعمیر شدہ اسکول مکمل ہوتے ہی داخلہ مہم شروع کرنے کی ہدایت کی


ویب ڈیسک September 20, 2026

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں تعلیمی انتظامی اداروں کا اجلاس ہوا، جس میں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نجم شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، ڈائریکٹر جنرل پی پی پی یونٹ اسد ضامن، پروجیکٹ ڈائریکٹر ایس ایس ای آئی پی رضوان سومرو اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے نئے اور دوبارہ تعمیر شدہ اسکول مکمل ہوتے ہی داخلہ مہم شروع کرنے کی ہدایت کی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ بھر میں 838 نئے اور ازسرنو تعمیر شدہ اسکول تکمیل کے قریب ہیں، تعلیمی منصوبوں کی کامیابی بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے اور تعلیم سے جوڑنے سے ہوگی۔

وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق نئے اسکولوں میں تقریباً ڈھائی لاکھ بچوں کے لیے تعلیمی مواقع پیدا ہوں گے، سیلاب متاثرہ اضلاع میں دو لاکھ 21 ہزار سے زائد بچوں کو اسکولوں میں داخل کیا جائے گا جبکہ نئے اپ گریڈ شدہ سیکنڈری اسکولوں میں 28 ہزار سے زائد بچوں کو داخلہ دیا جائے گا۔

مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ سندھ میں اسکولوں کے نئے منصوبوں کی تکمیل سے پہلے ضلع وار داخلہ منصوبے تیار کیے جائیں۔ بلدیاتی نمائندوں، مقامی رہنماؤں اور والدین کو داخلہ مہم میں شامل کیا جائے، اسکولوں کے اطراف رہنے والے ہر بچے کو لازمی داخل کرانے کے لیے اقدامات کیے جائیں جبکہ کمیونٹی سطح پر اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی اور خاندانوں سے رابطہ کیا جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تعلیمی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو بہتر خواندگی اور مضبوط معاشرے میں تبدیل کرنا ہوگا۔ نئے اسکولوں سے خصوصاً لڑکیوں اور پسماندہ علاقوں کے بچوں کی تعلیم بہتر ہوگی۔ ہر اسکول میں داخلہ، طلبہ کو برقرار رکھنے اور تعلیمی نتائج کے قابل پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں جبکہ ہر اسکول کی تکمیل سے پہلے اس کے فعال ہونے کا جامع منصوبہ پیش کیا جائے۔

صوبائی وزیر تعلیم سید سردار شاہ نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے 838 اسکول تعمیر، اپ گریڈ یا بحال کیے جارہے ہیں۔ اصل منصوبے کے تحت 116 نئے سیکنڈری اسکول تعمیر کیے جارہے ہیں جبکہ سیلاب بحالی پروگرام کے تحت 722 موسمیاتی اثرات سے محفوظ اسکول تعمیر کیے جارہے ہیں۔

وزیر تعلیم کے مطابق دسمبر 2026 تک 257 اسکول مکمل ہوجائیں گے جبکہ جون 2027 تک تعداد 611 ہوجائے گی۔ باقی اسکولوں کی تکمیل 2027 کے اختتام تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اصل ایس ایس ای آئی پی منصوبے کے تحت 64 اسکول دسمبر 2026 تک مکمل ہوں گے جبکہ باقی 52 اسکول جون 2027 تک مکمل ہوں گے، جس کے بعد اصل منصوبے کے تحت کل تعداد 116 ہوگی۔ سیلاب بحالی منصوبے کے تحت پانچ اضلاع میں 722 تباہ شدہ اسکول دوبارہ تعمیر ہوں گے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ موسمیاتی اثرات سے محفوظ ڈیزائن کے تحت سیلاب متاثرہ اسکولوں کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے جبکہ سینکڑوں سیلاب متاثرہ اسکولوں کو ایلیمنٹری اور سیکنڈری سطح تک اپ گریڈ کیا جائے گا۔

وزیر تعلیم نے بتایا کہ نئے اسکولوں میں سائنس اور کمپیوٹر لیبارٹریاں، ڈیجیٹل لائبریریاں اور شمسی توانائی کی سہولت ہوگی۔ لڑکیوں کے لیے کامن رومز سمیت طلبہ دوست سہولیات بھی نئے اسکولوں میں فراہم کی جائیں گی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ اچھے نتائج دینے والے تعلیمی انتظامی اداروں کے ساتھ شراکت داری جاری رکھی جائے گی۔ تعلیمی انتظامی اداروں کی شراکت سے داخلہ، حاضری اور تعلیمی نتائج بہتر بنانے کی کوشش جاری ہے۔ ہر نیا اسکول پہلے تعلیمی سال سے فعال تعلیمی ادارہ بنانا حکومت کی ترجیح ہے جبکہ سندھ کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک معیاری تعلیم پہنچانا چاہتے ہیں۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ 40 اسکولوں کے پہلے مرحلے کی خریداری کا عمل شروع کردیا گیا ہے جبکہ مزید اسکول مرحلہ وار تعلیمی انتظامی اداروں کے حوالے کیے جائیں گے۔ اسکولوں کے انتظام میں پیشہ ورانہ نگرانی، جوابدہی اور تعلیمی معیار بہتر بنایا جائے گا۔

چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ آگاہی مہم اور داخلہ مہم میں مکمل تعاون فراہم کرے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہر مکمل اسکول فعال ہونا چاہیے، کسی بچے کو تعلیم سے محروم نہیں رہنے دیں گے۔ اسکولوں کو سندھ میں تعلیم، خواندگی اور سماجی ترقی کے مراکز میں تبدیل کیا جائے گا۔