دنیا کے مختلف ممالک میں آن لائن گمراہ کن مواد پر کریک ڈاؤن سخت 

62ہزار سے زائد افراد کو "اظہارِ رائے سے متعلق جرائم" کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے


ویب ڈیسک September 21, 2026

قدیم ترین پارلیمانی نظام کےحامل برطانیہ نے بھی آن لائن گمراہ کن پروپیگنڈا کرنے والوں کیخلاف گھیرا تنگ کر دیا.

برطانیہ، فرانس اور بھارت سمیت مختلف ممالک نےریاست مخالف بیانات پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنا رکھی ہے. 

برطانوی ادارے فری اسپیچ یونین کے مطابق گزشتہ5برس میں 62ہزار سے زائد افراد کو "اظہارِ رائے سے متعلق جرائم" کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے. برطانیہ میں آزادی اظہاررائے سے متعلق جرم میں18,510 افراد پر فردِ جرم عائد جبکہ12,292افراد کو سزا سنائی گئی.

برطانیہ میں گرفتار ہونے والے افراد میں سوشل میڈیا پر پوسٹیں کرنے والے افراد بھی شامل ہیں.

عالمی تنظیم بگ برادر واچ کا کہنا ہے کہ آن لائن سیفٹی ایکٹ جیسے قوانین کی وجہ سے برطانیہ میں گرفتاریوں کی شرح میں نمایاں فرق آیا ہے. 

بھارتی میڈیا فرسٹ پوسٹ کے مطابق فرانس میں بھی سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد شیئر کرنے پر شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے.

بھارتی میڈیا دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی ریاست بہار میں سوشل میڈیا کےغلط استعمال پر2026 میں 475ایف آئی آر درج کر کے 103افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے.