اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ 81 واں اجلاس نیویارک میں شروع ہوگیا جس میں دنیا بھر سے تقریباً 130 سربراہان مملکت اور حکومتی رہنما شرکت کر رہے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران جنگ، مشرق وسطیٰ کی صورت اور پیٹرول بحران کے تناظر میں اس اجلاس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
علاوہ ازیں عالمی سطح پر جاری جنگوں، علاقائی کشیدگی، عالمی سلامتی اور دیگر اہم معاملات اس اجلاس کے ایجنڈے میں نمایاں رہنے کی توقع ہے۔
اجلاس کے ابتدائی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون اور ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت متعدد اہم رہنماؤں کی تقاریر شیڈول ہیں۔
بعد ازاں دیگر ممالک کے سربراہان اور رہنما بھی ان امور پر اپنی اپنی حکومتوں کا مؤقف پیش کریں گے۔ جس سے عالمی تنازعات کے حل کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
اس اجلاس کی اہم بات یہ بھی ہے کہ اس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانیہ کے حال ہی منتخب ہونے والے وزیراعظم اینڈی برنہم کے درمیان پہلی مرتبہ بالمشافہ ملاقات متوقع ہے۔
برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر کے ساتھ ملاقات میں مشترکہ مفادات پر بات کریں گے۔
دوسری جانب اجلاس سے قبل عالمی رہنماؤں کی غیر رسمی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ فرانسیسی اور یوکرینی صدور کے درمیان ہونے والی ملاقات کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
اسی طرح برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کو اپنے ہسپانوی ہم منصب پیڈرو سانچیز کے ساتھ سینٹرل پارک میں چہل قدمی کے دوران گفتگو کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ آج سے شروع ہونے والا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس کا مرکزی موضوع "اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: ایسی اقوام متحدہ جو سب کے لیے کام کرے‘‘ ہے۔ ہائی لیول ویک 22 سے 29 ستمبر تک ہے جس کے دوران اعلیٰ عالمی رہنما خطاب کریں گے۔