ایران سے متعلق بڑا فیصلہ، اب کیوبا کی باری، وینزویلا کا پیٹرول اور اپنی تعریفیں؛ ٹرمپ کا خطاب

میں واحد رہنما ہوں جس نے قیام امن کیلیے عملی کام کیا جبکہ باقیوں نے صرف باتیں کیں؛ امریکی صدر


ویب ڈیسک September 22, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنی حکومت کے گن گاتے ہوئے کہا کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقت ور ہوچکا ہے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی معیشت ترقی کر رہی ہے، ملک میں استحکام ہے کیوں کہ ہم نے ہر مسئلے کو ملک کے مفاد میں جڑ سے ختم کیا ہے۔ 

انھوں نے اپنی تارکین وطن سے متعلق پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکا میں وہی داخل ہوسکتا ہے جسے مدعو کیا جائے۔ اس سے جرائم میں کمی واقع ہوئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی کامیابی کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران دنیا کا سب سے بڑا دہشت گردی کا مرکز تھا جو اب مشرق وسطی میں مزید بدمعاشی نہیں کرسکتا۔ 

امریکی صدر نے کہا کہ میں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہے لیکن انھوں نے انکار کیا جس پر مجھے بڑا فیصلہ کرنا ہے کہ ایران کو مزید پنپنے دوں یا تباہ کردوں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔ اب وہ مشرق وسطیٰ میں مزید بدمعاشی نہیں کرسکتا۔ 

امریکی صدر نے دہائیوں پر مشتمل ایران رجیم کو کشت و خوں کی دردناک کہانی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہر آواز کو دبایا گیا اور بنیادی حقوق سلب کیے گئے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں واحد رہنما ہوں جس نے دنیا میں امن قائم کیا جب کہ باقی لوگ صرف باتیں ہی کرتے ہیں۔

انھوں نے ایران کے بعد کیوبا کی باری آنے کا مبہم اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا مغربی نصف کرۂ ارض میں اپنے مفادات کے لیے ضرورت پڑنے پر ’’بے مثال فوجی طاقت‘‘ استعمال کرے گا۔

کیوبا پر الزامات کی بارش کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ کیوبا کی حکومت کئی دہائیوں سے امریکا میں شرپسند جماعتوں کمیونسٹ پارٹی یو ایس اے، انٹیفا اور ڈیموکریٹک سوشلسٹس سمیت بعض گروہوں سے رابطے میں ہیں۔

امریکی صدر نے وینزویلا اور اس کے تیل کے حوالے سے امریکی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا وینزویلا کے تیل سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وینزویلا کے 65 ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ تیل کے ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل ہوا ہے جبکہ وینزویلا کے 17 آئل فیلڈز سے پیداوار امریکا منتقل کرنے کا منصوبہ بھی سامنے آچکا ہے۔

ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکی توانائی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وینزویلا سے آنے والا اضافی تیل امریکی ریفائنریوں میں پروسیس ہوگا، جس سے امریکی توانائی کی فراہمی میں اضافہ اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی میں مدد مل سکتی ہے۔