چین سے ڈائنو سار کی نئی نسل دریافت

شمال مشرقی چین میں واقع یہ فوسل فارمیشن تقریباً 13 کروڑ 50 لاکھ سے 12 کروڑ 10 لاکھ سال پرانی ہے


ویب ڈیسک September 23, 2026

محققین نے چین سے ملنے والے ایک فوسل ڈھانچے کی مدد سے لمبے پنجوں والے ڈائنوسار کی ایک نئی نسل دریافت کی ہے جس میں کئی منفرد خصوصیات پائی گئی ہیں۔

کیراسارس چینگلینسِس دو ٹانگوں پر چلنے والے ڈائنوسارز کے ایک گروہ سے تعلق رکھتا تھا جنہیں تھریزینوسارس کہا جاتا ہے۔ ان ڈائنوسارز کے ہاتھوں پر غیرمعمولی طور پر بڑے پنجے ہوتے تھے۔ محققین کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ڈائنوسار ہے۔

اس سے پہلے دریافت کیے گئے تھریزینوسارز میں بھی کئی غیرمعمولی خصوصیات دیکھی گئی ہیں جن میں نسبتاً چھوٹے سر، لمبی گردنیں، پتوں کی شکل کے دانت اور اگلی ٹانگوں پر تیز اور بڑے پنجے شامل ہیں۔

کے چینگلینسِس کو ایک الگ نوع کے طور پر اس وقت شناخت کیا گیا جب مغربی لیاؤننگ میں واقع جیہول بائیوٹا کی فوسل فارمیشن سے ایک انتہائی محفوظ فوسل دریافت ہوا جس میں تقریباً مکمل کھوپڑی بھی شامل تھی۔

شمال مشرقی چین میں واقع یہ فوسل فارمیشن تقریباً 13 کروڑ 50 لاکھ سے 12 کروڑ 10 لاکھ سال پرانی ہے۔ یہ علاقہ متعدد مشہور ڈائنوسار کے فوسلز دریافت ہونے کے حوالے سے جانا جاتا ہے، خاص طور پر ایسی اقسام کے لیے جن کے جسم پر پر موجود تھے۔

دریافت ہونے والا کے چینگلینسِس کا فوسل ایک ایسے ڈائنوسار کا تھا جو ابھی مکمل بالغ نہیں ہوا تھا۔ اس کی سر سے دم تک لمبائی تقریباً 3.6 میٹر تھی۔

چونکہ اس فوسل میں ٹانگوں کی ہڈیاں موجود نہیں تھیں اس لیے محققین اس ڈائنوسار کا وزن براہِ راست معلوم نہیں کر سکے۔

انہوں نے اس کے قریبی رشتہ دار ڈائنوسار سے موازنہ کرتے ہوئے اندازہ لگایا کہ اس کا وزن 117 سے 274 کلو گرام کے درمیان تھا۔

محققین کا کہنا ہے کہ مکمل بالغ ہونے کے بعد اس نسل کے ڈائنوسار کا وزن اس سے بھی زیادہ ہو سکتا تھا۔

محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ اس ڈائنوسار کے دانت چھوٹے اور ایک دوسرے کے انتہائی قریب قریب تھے جبکہ اس کے نچلے جبڑے میں 45 سے زائد دانت موجود تھے۔